یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کوریج کا اختتام ہو چکا ہے اور اب یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔ اس فتح میں ڈیوڈ وارنر کے 53 اور مچل مارش کے 77 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کا اہم کردار تھا۔ اس کے علاوہ ہیزل وڈ کی تین وکٹیں بھی نمایاں رہیں۔
محمد صہیب
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کوریج کا اختتام ہو چکا ہے اور اب یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔
کین ولیمسن کا میچ کے بعد بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہم ایک بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اور پچ میں اس وقت گیند پھنس رہی تھی۔ تاہم یہ اچھا تھا کہ ہم کچھ شراکتیں بنائیں اور ایک اچھا ٹوٹل کیا۔ تاہم اس کا تعاقب بہترین انداز میں کیا گیا۔
’آسٹریلیا ایک بہترین ٹیم ہے اور انھوں نے اپنی مہم بہترین انداز میں کھیلی۔ آسٹریلیا نے اس ہدف کا بہترین انداز میں تعاقب کیا اور انھوں نے ہمیں ایک انچ کا بھی موقع نہیں دیا۔‘
ڈیوڈ وارنر نے میچ کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں پہلے بھی بیٹنگ کرتے ہوئے اچھا محسوس کر رہا تھا لیکن میرے لیے اہم یہ تھا کہ میں دوبارہ بنیادی چیزوں پر توجہ دوں اور سنتھیٹک اور مشکل وکٹوں پر کھیل کر زیادہ سے زیادہ گیندیں کھیلوں۔
’میں ہمیشہ ہی پرجوش رہتا ہوں اور چاہتا تھا کہ اچھی کارکردگی دکھاؤں۔‘
مچل مارش نے میچ کے بعد بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے پاس اس وقت الفاظ نہیں ہے، یہ بطور گروپ بہترین چھ ہفتے تھے۔ میں ان سب کھلاڑیوں سے بے انتہا محبت کرتا ہوں۔ ہم ورلڈ چیپمیئن ہیں۔
’ویسٹ انڈیز میں کوچنگ سٹاف میرے پاس آے اور کہا کہ آپ اس ٹورنامنٹ کے لیے نمبر تین پر بیٹنگ کریں گے اور میں نے خوشی خوشی قبول کیا۔ میں اس بارے میں سٹاف کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔‘
دبئی انٹرنیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں آسٹریلیا نے نیوزی لینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیت لیا ہے۔ اس فتح میں ڈیوڈ وارنر کے 53 اور مچل مارش کے 77 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کا اہم کردار تھا۔ اس کے علاوہ ہیزل وڈ کی تین وکٹیں بھی نمایاں رہیں۔
آسٹریلیا اپنے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ ٹائٹل کے بہت قریب پہنچ چکا ہے اور اس میں مچل مارش کی بہترین بیٹنگ کا کمال ہے۔
وہ ایک ایسے وقت پر کریز پر آئے تھے جب آسٹریلیا کا سکور تین اوورز کے بعد صرف 15 رنز تھا اور کپتان فنچ پویلین لوٹ چکے تھے۔
ایسے میں مارش نے جارحانہ انداز اپنایا اور آسٹریلیا کی پوزیشن نہ صرف مستحکم کر دی بلکہ ٹیم کو فتح کے دہانے پر لے گئے ہیں۔
مچل مارش نے وارنر کے آؤٹ ہونے کے باوجود جارحانہ انداز ہی اپنایا ہوا ہے۔
انھوں نے ابھی تک چار چوکے اور چار چھکے مار لیے ہیں۔
اش سودھی کے اس اوور میں 16 رنز بنے۔
ٹرینٹ بولٹ کو اٹیک میں واپس لایا گیا ہے۔ اور انھوں نے آتے ہی وارنر کو بولڈ کر دیا ہے۔
ان کے اوور میں صرف تین رنز بنے، لیکن نیوزی لینڈ کی جانب سے کوئی اور بولر خطرناک بولنگ کرتا دکھائی نہیں دیا۔
نیوزی لینڈ نے پانی کے وقفے کے بعد پہلے اوور میں جمی نیشم کو اوور دیا تھا تاکہ وہ نیوزی لینڈ کو وکٹ ولوا سکیں، تاہم اس کے برعکس انھیں دو چھکے پڑے اور اوور میں 15 رنز بن گئے۔
اسی اوور میں ڈیوڈ وارنر کی نصف سنچری بھی مکمل ہو چکی ہے۔
پہلے دس اوورز میں آسٹریلیا کے اوپنر ڈیوڈ وارنر اور نمبر تین پر بیٹنگ کرنے والے مچل مارش نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔
مارش نے 20 گیندوں پر 30 رنز جبکہ وارنر نے 33 گیندوں پر 45 رنز بنا رکھے ہیں۔
اس وقت اگر نیوزی لینڈ فوری طور پر وکٹیں حاصل نہیں کرتا تو آسٹریلیا باآسانی یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
ایک چھکے اور دو چوکوں کی مدد سے ڈیوڈ وارنر نے اش سودھی کے اوور میں 17 رنز بنا لیے ہیں اور یوں آسٹریلیا کی گرفت اس میچ میں مزید مضبوط ہو گئی ہے۔
اس وقت آسٹریلیا نے نو اوورز کے اختتام پر 77 رنز بنا لیے ہیں۔
سینٹنر کو ڈیوڈ وارنر کی موجودگی میں بولنگ اٹیک میں لایا گیا ہے۔ تاہم انھیں مچل مارش نے چھکا رسید کر کے آسٹریلیا کا رن ریٹ بہتر بنا دیا ہے۔
اس وقت آسٹریلیا بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اوور میں ایک باؤنڈری لگانے کے ساتھ ساتھ سٹرائیک بھی روٹیٹ کر رہے ہیں۔