آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل میں محمد رضوان کی شاندار کارکردگی: ’کوئی سوچ سکتا ہے کہ رضوان نے دو دن ہسپتال میں گزار کر بہترین پرفارمنس دی‘

محمد رضوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر اور اوپنر محمد رضوان 9 نومبر کی صبح فجر کی نماز کے لیے اٹھے تو انھیں نزلہ اور کھانسی کی شکایت تھی۔ سات نومبر کو سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ بھی انھوں نے بخار کی حالت میں کھیلا تھا۔

محمد رضوان اور پاکستانی ٹیم کو بھی یہ اندازہ نہ تھا کہ ان کی صحت کا معاملہ بڑھ سکتا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق پاکستانی ٹیم کے ساتھ موجود ڈاکٹر نجیب سومرو نے محمد رضوان کا معائنہ کیا اور انھیں ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹرز نے ان کے مختلف ٹیسٹ لیے۔ اس دوران انھیں ڈرپ بھی لگائی گئی اور کہا گیا کہ انھیں ہسپتال میں داخل کرنا بہتر ہو گا۔

محمد رضوان کی طبیعیت گلے میں انفیکشن کی وجہ سے خراب تھی لہذا انھیں نو نومبر کی صبح سے دس نومبر کی شام تک آئی سی یو میں رہنا پڑا اور جب ڈاکٹرز نے انھیں فٹ قرار دیا تو پھر انھیں ہسپتال سے ٹیم ہوٹل جانے کی اجازت ملی۔ اس دوران ان کا کووڈ ٹیسٹ بھی لیا گیا، جس کا نتیجہ منفی آیا۔

بتایا گیا ہے کہ ہسپتال میں دو دن رہنے کے دوران بھی محمد رضوان کا ذہن کرکٹ گراؤنڈ کی طرف ہی لگا ہوا تھا اور وہ ہر قیمت پر آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل کھیلنا چاہتے تھے۔

یاد رہے کہ محمد رضوان اور شعیب ملک کے بارے میں یہ خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ دونوں فلو اور بخار میں مبتلا ہیں جس کی وجہ سے ان دونوں نے دس نومبر کو پاکستانی ٹیم کے ٹریننگ سیشن میں بھی حصہ نہیں لیا تھا۔

اس ضمن میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے یہ ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ محمد رضوان کی طبیعیت زیادہ خراب ہے اور وہ دو دن ہسپتال میں گزار کر آئے ہیں۔

محمد رضوان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک سخت جاں کرکٹر اور فائٹر ہیں جس کی جھلک انھوں نے بیماری سے واپس آ کر سیمی فائنل میں دکھا دی۔

محمد رضوان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس میچ میں انھوں نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے 52 گیندوں پر چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے67 رنز سکور کیے اور جب پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ آئی تو وہ مکمل طور پر مستعد اور متحرک دکھائی دیے۔

سوشل میڈیا پر حوصلہ مندی اور فائٹنگ سپرٹ کی تعریف

بیماری اور دو دن ہسپتال میں گزارنے کے باوجود محمد رضوان کے سیمی فائنل کھیلنے پر سوشل میڈیا میں ان کے بارے میں جو بھی تبصرہ ہوا اس میں ان کی حوصلہ مندی اور فائٹنگ سپرٹ کو سراہا گیا۔

سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ٹویٹ کیا: ’کیا آپ تصور کر سکتے ہیں یہ شخص جو آج ملک کے لیے کھیلا اور اپنی بہترین پرفارمنس دی، وہ دو روز ہسپتال میں رہے۔ بہت زیادہ عزت محمد رضوان۔ ہیرو۔‘

آسٹریلوی کرکٹ ویب سائٹ ’کرکٹ ڈاٹ کام اے یو‘ نے بھی اپنے ٹویٹ میں محمد رضوان کی تعریف کی اور اس بات کا ذکر کیا کہ اگر میتھیو ہیڈن نے انھیں جنگجو کہا ہے تو اس پر حیرانی نہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

ایک اور ویب سائٹ نے بھی محمد رضوان اور میتھیو ہیڈن کی تصویر کے ساتھ لکھا: ’میتھیو ہیڈن نے انکشاف کیا ہے کہ وہ روزانہ قرآن پڑھ رہے ہیں۔ انگریزی ترجمے کے ساتھ یہ قرآن انھیں محمد رضوان نے تحفے میں دیا ہے۔‘

پاکستان کی کراٹے کی کھلاڑی کلثوم ہزارہ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’محمدرضوان ایک حقیقی جنگجو۔ سلیوٹ۔۔۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

ٹی وی اینکر کاشف عباسی نے ٹوئٹر پر لکھا:ʹاگر آپ ایک حقیقی ہیرو اور ایک شیر دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ رضوان ہیں جو میچ سے پہلے ہسپتال میں رہے اور پھر آسٹریلیا کے خلاف زبردست تھے۔ ان کو سلام، ان کے لیے عزت۔ کمال کے شخص اور ایک حقیقی شیر۔‘

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھی اپنی ٹویٹ میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں محمد رضوان کی جرات مندانہ کوشش کی تعریف کی ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ICC