آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ویراٹ کوہلی کا محمد شامی کے حق میں بیان: ’خود کو بڑا ظاہر کرنے کے لیے انڈیا کے ہندوؤں کو چھوٹا دکھانے کی ضرورت نہیں‘، انڈیا میں سوشل میڈیا صارفین سیخ پا
پاکستان اور انڈیا کے درمیان آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایک ہفتے پہلے ہونے والے میچ کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔
اس میچ میں پاکستان نے 153 رنز کے تعاقب میں انڈیا کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس شکست پر انڈیا کے شائقین کرکٹ نے نہ صرف اپنی ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا بلکہ کچھ لوگوں نے انڈیا کے فاسٹ بولر محمد شامی کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے محمد شامی پر جان بوجھ کر رنز دینے کا الزام لگایا اور انھیں ’غدار اور ملک دشمن‘ قرار دیا۔
اور اب ایک ہفتے بعد جب انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے محمد شامی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور ٹرولنگ پر ردعمل دیتے ہوئے ان کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا تو محمد شامی کے ساتھ ساتھ کوہلی خود بھی سوشل میڈیا صارفین کے غصے اور تنقید کی زد میں آ گئے۔
ویراٹ کوہلی نے پریس کانفرنس میں کیا کہا؟
انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان ویراٹ کوہلی نے سنیچر کے روز ایک پریس کانفرنس میں کھل کر محمد شامی کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرنے والوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سامنے آ کر کچھ بول سکیں۔
ویراٹ کوہلی نے یہ کہا کہ ’گزشتہ کچھ برسوں میں محمد شامی نے ہمیں کئی میچ جتوائے ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں جب بھی بولنگ کی بات کی جاتی ہے تو بمراہ کے ساتھ شامی ہمارے اہم ترین بولر رہے ہیں۔‘
ویراٹ نے کہا کہ کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’مذہب مقدس اور اتنہائی ذاتی چیز ہے اور اس کو وہیں تک رہنا چاہیے۔ ہم محمد شامی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ انڈیا کی 15 رکنی ورلڈ کپ سکواڈ میں محمد شامی ہی واحد مسلمان کھلاڑی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
انڈیا سے مونیکا نے محمد شامی پر ہونے والی تنقید کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے جوڑتے ہوئے لکھا کہ ’ویراٹ ہمت دکھاتے ہوئے یہ تسلیم کر سکتے تھے کہ محمد شامی کے خلاف تنازعہ بے بنیاد تھا اور اس کا آغاز آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر سے ہوا۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’لیکن انھوں نے ایسا لبرلز کے ساتھ فٹ ہونے کے لیے کیا۔ وہ کتنے بزدل ہیں۔‘
ایک اور صارف نے محمد شامی کے خلاف ہونے والی ٹرولنگ کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اب جبکہ کوہلی سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو رہے ہیں تو آئیے انھیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس اس فرضی واقعے پر 10 فیصد بھی ہمدردی تھی تو انھیں بنگلہ دیش اور کشمیر میں ہندوؤں پر ہونے والے ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنی چاہیے۔‘
ڈاکٹر خوشبو نے لکھا: ’کیا ویراٹ کوہلی نے اس بارے میں کچھ کہا کہ کیسے محمد شامی کے انسٹاگرام پر پاکستان کے کچھ جعلی اکاؤنٹس سے نفرت انگیز کمینٹس کیے گئے یا وہ یہ بتانا بھول گئے۔‘
راجیو منتری نے لکھا: ’انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان پاکستانی پروپیگنڈا کی تائید کر رہے ہیں اور آئی ایس آئی کی سپانسر کردہ منظم آن لائن مہم کو فائدہ دے رہے ہیں۔‘
انھوں نے مزید لکھا: ’ویراٹ کوہلی آپ کو شرم آنی چاہیے۔ آپ صرف بے وقوف ہی نہیں بلکہ خطرناک مسخرے بھی ہیں۔‘
متھو کرشنن نے لکھا: ’کسی نے شامی کو برا بھلا نہیں کہا اور وہ بھی مذہب کی بنیاد پر۔ حیرانی ہے کہ کوہلی نے آج ایسا بیان کیوں جاری کیا۔‘
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے انڈین کرکٹ بورڈ کے سیکرٹری جے شاہ کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’کیا آپ کے لیے ممکن نہیں کہ آپ ویراٹ کو بہتر رویے کا مظاہرہ کرنے کا کہہ سکیں۔ اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرنے کے لیے انھیں (ویراٹ) انڈیا کے ہندوؤں کو چھوٹا دکھانے کی ضرورت نہیں۔‘
لیکن بہت سے صارفین ایسے بھی ہیں جو ویراٹ کوہلی کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے ان کے حق میں ٹویٹ کرتے نظر آئے۔
اشوک سوین نے لکھا: ’انتہائی دائیں بازو کے ہندو اب کوہلی کے پیچھے ہیں لیکن وہ سب کو نہیں روک سکتے۔ لہذا اس طرح سے کئی ستاروں کو مذہبی قوم پرست جنونیت کے خلاف کھل کر سامنے آنے کی ضرورت ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا: ’ہم ویراٹ کوہلی کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
پاکستان سے آیان خان نامی صارف نے لکھا: ’پاکستان سے کوہلی بھائی کے لیے پوری حمایت۔ آپ دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں۔‘
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب کرکٹ میچ ہارنے پر انڈین ٹیم پر تنقید کی گئی ہو۔
سنہ 2009 میں انڈین مداحوں نے غصے میں آ کر سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کے پتلے اس وقت جلائے جب انڈیا کی ٹیم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے میں ناکام رہی۔
اسی طرح سنہ 2014 میں ٹی ٹوئنٹی کے فائنل میں سری لنکا کے ہاتھوں شکست کے بعد آل راؤنڈر یورراج سنگھ کے گھر پر پتھراؤ کیا گیا تھا۔