'بابر کی فوج' سے کیوں شکست کھا گئی 'وراٹ کی آرمی'؟

    • مصنف, منوج چترویدی
    • عہدہ, سینيئر سپورٹس صحافی، انڈیا

وراٹ کوہلی کی قیادت والی ٹیم انڈیا پر کوئی بھی آئی سی سی ٹرافی نہ جیتنے کا ٹیگ لگا ہوا ہے اور اب وہ ورلڈ کپ کے میچوں میں پاکستان سے ہارنے والی پہلی انڈین ٹیم بھی بن گئی ہے۔

یہ سچ ہے کہ اس ورلڈ کپ کی مہم میں ایک شکست سے سب کچھ ختم نہیں ہوتا، لیکن اگر یہ ایک روایتی حریف کے ہاتھوں ملے تو مایوسی کا سبب ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن شکست کے دوران انڈین ٹیم کی کارکردگی ، حکمت عملی اور ٹیم سلیکشن میں بھی کئی خامیاں نظر آئیں۔

سب سے اہم بات یہ نظر آئی کہ ہماری ٹیم کے کھیلنے کے انداز سے یہ ظاہر نہیں ہوا کہ انھوں نے اس میچ میں پہلے بیٹنگ کی حکمت عملی بنائی تھی۔ وہ شاید بعد میں بیٹنگ کا منصوبہ لے کر آئے تھے۔

اگر اس حوالے سے ہدف دینے کی کوئی حکمت عملی بنائی ہوتی تو شاید انڈین بلے باز اسی کے مطابق کھیل رہے ہوتے۔ لیکن ایسا کبھی نظر نہیں آیا اور انڈین ٹیم ابتدا میں ہی تینوں وکٹوں کے نقصان سے سنبھلنے کی کوشش کرتی رہی اور کبھی اس نے فتح کے لیے بڑا ہدف دینے کا ارادہ نہیں دکھایا۔

ہاردک پانڈیا کمزور کڑی

ہم سب جانتے ہیں کہ ہاردک پانڈیا انجری کے بعد سے بولنگ نہیں کر رہے ہیں۔ ان کی باؤلنگ نہ کرنے کی وجہ سے ٹیم کا توازن برقرار نہ رہ سکا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہاردک نے اپنی ٹیم ممبئی انڈینز کے لیے اس ورلڈ کپ سے عین قبل منعقدہ آئی پی ایل میں بھی کسی اہم کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ اس صورت حال میں ان کے سابق کھیل پر اعتماد کرنا مہنگا ثابت ہوا۔

ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر وہ صرف بلے بازی کی بنیاد پر کھیل رہے تھے تو انھیں رشبھ پنت سے پہلے میدان میں اتارا جانا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ وہ وراٹ اور پنت کی ٹیم کو پٹڑی پر واپس لانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔

ہاردک کے بولنگ نہ کرنے کی وجہ سے بھارت پانچ بولروں کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہوا۔ جس کی وجہ سے بولنگ میں تنوع کی کمی نظر آئی۔

انڈیا کے پاس اپنے کسی بولر کے پٹ جانے کے بعد چھٹے بولر کا آپشن ہی نہیں تھی۔ ہاردک کی جگہ شاردل ٹھاکر کو کھلایا جاتا تو بہتر ہوتا، اس سے بہتر نتیجہ کی توقع کی جا سکتی تھی۔ وکٹ لینے کے علاوہ وہ جارحانہ انداز میں بیٹنگ بھی کرتے ہیں۔

اس کا مظاہرہ وہ ماضی میں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کر چکے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہاردک کی جگہ شاردل کے ساتھ ٹیم زیادہ متوازن ہو سکتی تھی۔

اشون کو نظر انداز کرنا مہنگا سودا ثابت ہوا

ہم سب جانتے ہیں کہ روی چندرن ایشون ملک کے نمبر ایک سپنر ہیں۔ اس وجہ سے وہ کئی سالوں کے بعد اس فارمیٹ میں منتخب ہوئے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان کے خلاف کھیلتے ہوئے کھلاڑیوں کے ذہنوں میں کچھ تناؤ کا ہونا فطری بات ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں گرمجوشی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی کھلاڑی خراب کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا۔ شکست کا خوف اس کے دماغ پر چھایا رہتا ہے۔

ایشون نے وارم اپ میچ میں جس طرح کی بولنگ کی تھی اس کے پیش نظر انھیں کھیلنا چاہیے تھا ، لیکن انڈین ٹیم انتظامیہ پہلے ہی اپنے پراسرار سپنر ورون چکرورتی سے فائدہ اٹھانے کا ذہن بنا چکی تھی۔ ورون اس اہم میچ میں دل کی دھڑکن پر قابو نہ رکھ سکے اور بغیر کسی وکٹ کے چار اوورز میں 33 رنز دیے۔

ایشون کو نہ کھلانا کہیں نہ کہیں سٹریٹجک غلطی تھی۔ اس کے علاوہ ٹیم سلیکشن کے وقت ملک کے سب سے کامیاب سپنر یوزویندر چہل کو منتخب نہ کرنا بھی ایک بڑی غلطی ثابت ہو‏ئی ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ چہل میں ضرورت پڑنے پر وکٹ لینے کی صلاحیت ہے۔ یہی نہیں وہ آئی پی ایل میں بھی اچھی بولنگ کر رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ بی سی سی آئی کے پاس فائنل ٹیم دینے کے لیے 15 اکتوبر تک کا وقت ہے، اس لیے شاید چہل کو شامل کر لیا جائے گا، لیکن ایسا نہ ہوا اور ٹیم کے اٹیک کی دھار کمزور رہ گئی۔

جہاں تک سلیکشن کا تعلق ہے تو ٹیم میں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز کی کمی بھی کھلی ہے۔ پاکستان اس معاملے میں انڈیا سے آگے رہا اور وہ شروع میں ہی ٹیم کو جھٹکا دینے میں کامیاب رہا۔

بھوونیشور کمار کا لے میں نہ ہونا

بھونیشور کمار کو ابتدائی اووروں میں وکٹ لینے والا بولر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بلے بازوں کو ڈیتھ اووروں میں باندھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ لیکن طویل عرصے تک انجری کے مسائل سے لڑنے کے بعد جب وہ واپس آئے تو انھیں کبھی پچھلے رنگ میں کھیلتے نہیں دیکھا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ اس بار بھی آئی پی ایل میں اپنی بولنگ کا رنگ نہیں دکھا سکے۔

یہ بھی پڑھیے

اس کی وجہ سے انڈین ٹیم وراٹ اور پنت کی کوششوں سے فائٹنگ سکور بنانے کے بعد بھی شروع سے پاکستان پر دباؤ نہیں ڈال سکی۔ بمرا ہوں یا محمد شامی، رضوان اور بابر اعظم دونوں پر کوئی اثر نہیں چھوڑ سکے۔

تیاری میں کمی نظر آئی

انڈین ٹیم کے بیشتر کھلاڑی ٹی 20 ورلڈ کپ کے آغاز سے عین قبل آئی پی ایل کھیلنے میں مصروف تھے جبکہ بیشتر ٹیمیں کافی عرصے سے تیاریوں میں مصروف تھیں۔

پاکستانی ٹیم کے اٹیک کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہ انڈین اوپنروں روہت شرما اور کے ایل راہل کے خلاف واضح حکمت عملی کے ساتھ آئے ہیں لیکن انڈین بولروں میں ایسی کسی حکمت عملی کا فقدان صاف نظر آرہا تھا۔

لیکن، شکست کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انڈیا کے بولنگ اٹیک میں کوئی اچھائی نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دھچکا یقینی طور پر ٹیم کو آگے بڑھنے میں اپنی بہترین کارکردگی اور صلاحیت پیش کرنے کی ترغیب دے گا۔