پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ سیریز پر سمیع چوہدری کا کالم: آخر نام کا سوال ہے۔۔۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
اگرچہ اپنے ٹریڈ مارک کھلاڑیوں کی غیر موجودگی کے سبب مہمان کیوی ٹیم کچھ 'نا مکمل' سی ہے مگر پاکستان اپنے حالیہ تجربات کی روشنی میں بخوبی سیکھ چکا ہے کہ ایسی 'نا مکمل' یا سیکنڈ چوائس الیون بھی کبھی کبھار ایسی دھول چٹا دیتی ہے کہ سبھی جواز پھیکے پڑ جاتے ہیں۔
ایک روزہ میچوں میں پاکستان کی گذشتہ سیریز کا نتیجہ ایسا گھمبیر تھا کہ اسے دہراتے بھی خوف سا محسوس ہوتا ہے۔
مہمان کیوی ٹیم کے چنیدہ کھلاڑی چونکہ انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کی ہما ہمی میں مگن ہیں، اس لیے مہمان کیوی ٹیم اپنے بہترین کھلاڑیوں سے محروم ضرور ہے مگر کیوی کلچر میں ٹیلنٹ کی اتنی فراوانی اور وسائل کی ایسی گہرائی ہے کہ یہ نئے چہرے بھی پاکستان کے لیے کچھ کم خطرناک نہیں ہوں گے۔
انگلینڈ ہو، آسٹریلیا ہو کہ نیوزی لینڈ، ان کلچرز کا خاصا یہ ہے کہ برے سے برے حالات میں بھی وہ اپنا نام ڈوبنے نہیں دیتے۔ بالخصوص جب بات بین سٹوکس کی 'سی ٹیم' کی آ جائے یا لیتھم کی اس سیکنڈ الیون کی، تو کوشش اور مزاحمت میں دوگنا اضافہ ہو جاتا ہے کہ آخر ملک کے نام کا سوال ہے۔
رمیز راجہ بھی اسی نام کے سوال پہ جارحانہ تبدیلیاں لا رہے ہیں۔
کوچنگ سٹاف کی فوری تبدیلی کا مقصد یہی تھا کہ پرانا سیٹ اپ وہ نام نہیں بنا پا رہا تھا جو اس کرکٹ ٹیم کی ضرورت ہے۔ رمیز کے خیال میں ٹیم کو اس جارحیت کی ضرورت ہے جو ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا خاصہ تھی۔
اسی سوچ کے تحت میتھیو ہیڈن اور ورنن فلینڈر کو کوچنگ سیٹ اپ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گو کیویز کے خلاف یہ سیریز ثقلین مشتاق اور عبدالرزاق کی نگرانی میں کھیلی جائے گی مگر یہ تعیناتیاں اس بات کی عکاس ہیں کہ آئندہ دنوں میں اس ٹیم کا 'برانڈ' ایک بار پھر بدلنے والا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصباح الحق کی قدامت پسندی کے بعد مکی آرتھر کی جارح مزاجی اور پھر واپس مصباح کی روایت پسندی کے بعد اب ایک بار پھر پاکستان کرکٹ جارحیت کی جانب قدم بڑھانے کے لیے پر تول رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اگرچہ پاکستان کے مجموعی ریکارڈ کو دیکھا جائے تو جارح مزاجی اور قدامت پسندی کے نتائج اعداد و شمار کی زبان میں کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں مگر پھر بھی فی الوقت اس ٹیم کو مثبت پسندی اور نیک ارادوں کے تحت آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ جس انڈیا کو رمیز راجہ ماڈل کے طور پہ پیش کر رہے ہیں، اُس کرکٹ کلچر میں کوچ کا تقرر بھی کپتان سے پوچھ کر کیا جاتا ہے جبکہ یہاں کپتان کو اس کی مرضی کی ٹیم مانگنے پہ کہہ دیا جاتا ہے کہ 'آپ اپنی گیم پہ دھیان دیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب ایسے میں کپتان کے پاس دو ہی رستے بچتے ہیں کہ یا تو وہ شاہد آفریدی، یونس خان یا شعیب اختر کی طرح میڈیا کے سامنے پھٹ پڑے، استعفیٰ دے ڈالے اور نیوز چینلز کی سکرینوں پہ دو، تین دن رونق میلا بڑھائے۔ یا پھر دوسرا رستہ وہی جو بابر اعظم نے سر نیہوڑا کر اپنایا ہے۔
کیوی ٹیم کا یہ دورہ پاکستان کے لیے بہت خاص ہے اور انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں اہم ترین ہے۔
پاکستان کو ہوم گراؤنڈز کا فائدہ بھی حاصل رہے گا اور امید ہے کہ بابر اعظم کی ٹیم ان کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنا ون ڈے ریکارڈ بہتر کرنے کی کوشش کرے گی کہ آخر نام کا سوال ہے۔











