آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان سپر لیگ سیزن 6 کراچی کنگز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: کراچی کی کوئٹہ پر فتح، ٹورنامنٹ کی تاریخ میں پانچویں مرتبہ لاہور پلے آفز سے باہر
پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے پہلے راؤنڈ کے انتہائی اہم میچ میں کراچی کنگز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 14 رنز سے شکست دے کر پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔
اس طرح پاکستان سپر لیگ کے چھ سیزنز کی تاریخ میں پانچویں مرتبہ لاہور قلندرز پلے آف مرحلے کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ خیال رہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز پہلے ہی پلے آف مرحلے سے باہر ہو چکی تھی۔
آج کے میچ میں کراچی کے دانش عزیز اپنی دھواں دار بلے بازی اور کوئٹہ کے عارش علی کی ڈیبیو پر چار وکٹوں کے باعث نمایاں رہے۔ تاہم کراچی کی جیت کے باعث لاہور ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔
دانش عزیز کی دھواں دار بیٹنگ
ایک مرحلے پر مشکلات کا شکار کراچی کنگز کے لیے آج کے ہیرو دانش عزیز ثابت ہوئے جنھوں نے 13 گیندوں پر 45 رنز کی دھوں دار اننگز کھیل کر کراچی کنگز کو ایک مستحکم مجموعی سکور تک رسائی دلوائی تھی۔
انھوں نے ولڈرمتھ کے ایک اوور میں 33 رنز بنائے جو اب تک پاکستان سپرلیگ میں ایک اوور میں بنائے جانے والے سب سے زیادہ رنز ہیں۔
دانش کی عمدہ بیٹنگ ایک ایسے موقع پر کراچی کے کام آئی جب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شاید کراچی 150 رنز بھی نہ بنا پائے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عارش کی ڈیبیو پر چار وکٹیں
پی ایس ایل کریئر کا آغاز کرنے والے عارش علی نے اپنے پہلے ہی اوور میں مارٹن گپٹل اور 45 رنز بنانے والے جارحانہ بلے باز شرجیل خان کو پویلین کی راہ دکھا کر میچ میں کوئٹہ کی پوزیشن مستحکم کر دی۔
عموماً بائیں ہاتھ کے بلے باز لیف آرم سپنرز کو باآسانی کھیل لیتے ہیں تاہم عارش علی کی چار وکٹوں میں بائیں ہاتھ کے بلے باز عماد وسیم، نجیب اللہ زدران اور شرجیل خان شامل تھے۔
انھوں نے اپنے چار اوورز میں 28 رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔
کوئٹہ کی جانب سے ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ کھیلنے والے عبدالناصر نے بھی اچھی بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ عبدالناصر نے بابر اعظم کی اہم وکٹ حاصل کی اور اپنے چار اوورز میں صرف 15 رنز دیے۔
اعظم خان کی مایوس کن کارکردگی
پاکستان کی قومی ٹیم میں حال ہی میں شامل ہونے والے اعظم خان کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی اور انھوں نے آج پھر ایک اچھا موقع کھو کر 12 گیندوں پر صرف 15 رنز بنائے۔
اعظم خان کو قومی ٹیم شامل کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی تھی کہ وہ پاکستان کے لیے لوئر آرڈر میں جارحانہ کھیل پیش کر سکیں گے۔
تاہم اب تک اس ٹورنامنٹ کے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے میچوں میں اعظم خان کی کارکردگی خاطر خواہ نہیں رہی۔ انھوں نے پانچ میچوں میں صرف 76 رنز بنائے۔
’کیا دنیا کی کسی فرینچائز کی اتنی بری کارکردگی بھی ہے؟‘
جہاں اس وقت کراچی کے مداح ان کی پلے آفز تک رسائی کے باعث خوشی سے نہال ہو چکے ہیں وہیں لاہور قلندرز کے مداح یہ سوچتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اتنی اچھی ٹیم کے باوجود لاہور قلندرز کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں بھی ناکامی سے دوچار کیوں ہوئی۔
صحافی دانیال رسول کی جانب سے ایک ٹویٹ میں بتایا گیا کہ کیسے لاہور قلندرز نے پلے آف مرحلے کے لیے صرف ایک مرتبہ کوالیفائی کیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’کسی دوسری کرکٹ فرینچائز کا نام ذہن میں نہیں آتا جس نے تسلسل کے ساتھ اتنی بری کارکردگی دکھائی ہو۔‘
اکثر صارفین لاہور کی جانب سے لگاتار پہلے بولنگ کرنے کی حکمتِ عملی کے حوالے سے بھی تنقید کرتے دکھائی دیے اور کچھ نے اس کی ذمہ داری کوچ عاقب جاوید پر عائد کی۔ ایک صارف نے لکھے کہ ’یقیناً اب یہ عاقب جاوید کی تبدیلی کا وقت ہے۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’اس پی ایس ایل میں اگر کسی ٹیم کا بہتر توازن تھا تو وہ لاہور قلندرز تھی۔ ان کے پاس دنیا کے تین بہترین وکٹ ٹیکرز حارث رؤف، شاہین آفریدی اور راشد خان تھے۔ تجربہ کار بیٹنگ سائڈ تھی لیکن کوچنگ سٹاف اور کپتان کی میدان میں اور میدان سے باہر حکمتِ عملی کمزور رہی۔‘