شکیب الحسن: ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے میچ میں بنگلہ دیشی آلراؤنڈر کا امپائرز سے ’ناقابلِ یقین رویہ‘، سوشل میڈیا صارفین برہم

کرکٹ کے میدان میں کھلاڑیوں کے درمیان تکرار کوئی انوکھی بات نہیں ہے، سریسانتھ کو ہربجھن سنگھ تھپڑ بھی مار چکے ہیں اور جاوید میانداد ڈینس للی کا سر پھاڑنے کے بہت قریب بھی آ چکے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی کسی کھلاڑی کو امپائر سے اس قدر ناراض ہوتے دیکھا ہے کہ وہ وکٹوں کو لاتیں ماریں اور پھر غصے میں وکٹیں زمین سے اکھاڑتے دکھائی دیے ہوں؟

گذشتہ روز ایسے ہی کچھ مناظر بنگلہ دیش میں کھیلی جانے والی ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے دوران محمدن سپورٹنگ کلب اور ابہانی لمیٹڈ کے درمیان کھیلے گئے میچ میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آلرآؤنڈر شکیب الحسن کی جانب سے دیکھنے کو ملے۔

سوشل میڈیا پر گذشتہ رات سے وائرل ہونے والی ویڈیوز میں ایک جگہ شکیب الحسن کو امپائر عمران پرویز کے ایل بی ڈبلیو کے فیصلے پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے امپائر کے سامنے لگے ہوئے سٹمپز کو لات مارتے دیکھا گیا اور پھر ایک اوور کے بعد وہ دوسرے امپائر سے کسی بات پر تکرار کے بعد نان سٹرائکرز اینڈ پر لگی وکٹیں اکھاڑ کر انھیں زمین پر پٹختے بھی دکھائی دیے۔

شکیب الحسن اس میچ میں اپنی ٹیم محمدن سپورٹنگ کلب کی کپتانی کر رہے تھے اور ان کی ٹیم نے اس میچ میں ڈکورتھ لوئس نظام کے تحت 31 رنز سے فتح اپنے نام کی۔

تاہم بنگلہ دیشی آل راؤنڈر نے میچ کے بعد اپنے فیس بک پیج پر جاری کیے گئے بیان کے ذریعے اس حوالے سے معافی مانگی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ 'میرے جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن کبھی کبھار بدقسمتی سے ایسا ہو جاتا ہے۔ میں دونوں ٹیموں، ٹیم مینجمنٹ اور ٹورنامنٹ کے حکام سے اس حوالے سے معافی مانگتا ہوں۔'

لیکن عام طور پر اپنی عمدہ بلے بازی اور نپی تلی لیفٹ آرم سپن کے باعث مشہور سابق بنگلہ دیشی کپتان میچ کے دوران اتنے غصے میں کیوں دکھائی دیے اور ان کے خلاف بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کیا کارروائی کر سکتا ہے؟

میچ کے دوران کیا ہوا؟

پہلے سین میں جمعے کو محمدن سپورٹنگ کلب اور ابہانی لمیٹڈ کے درمیان ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے میچ کے پانچویں اوور کی پانچویں گیند کرنے کے لیے شکیب الحسن بولنگ کرنے کے لیے کریز کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

ان کا سامنا مخالف ٹیم کے کپتان اور بنگلہ دیشی وکٹ کیپر مشفیق الرحیم کر رہے ہیں۔ شکیب کا روایتی سٹریٹر ون مشفیق کے پیڈز پر لگتا ہے اور وہ فوراً ہی امپائر سے پرزور اپیل کرتے ہیں۔ تاہم جب امپائر ابھی آؤٹ نہ دیتے ہوئے سر کو نفی میں ہلاتے ہی ہیں تو شکیب غصے میں آ کر امپائر کے سامنے لگی وکٹوں کو لات مارتے ہیں اور پھر امپائر سے بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس وقت ابہانی کی ٹیم مشکلات کا شکار تھی اور سکور تین وکٹوں کے نقصان پر 21 رنز تھا۔ محمدن سپورٹنگ کلب کی جانب سے پہلے کھیلتے ہوئے 145 رنز بنائے گئے تھے۔

اگلے ہی اوور کی پانچویں گیند پر ہلکی بوندا باندی کے باعث دوسرے امپائر محفوظ الرحمان گراؤنڈز مین کو کورز لانے کا اشارہ کرتے ہیں۔ تاہم محمدن سپورٹنگ کلب کے کھلاڑی اشارہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ بارش اتنی تیز نہیں ہے کہ میچ روکا جائے، اتنے میں شکیب الحسن امپائر کی جانب بڑھتے ہیں اور زمین سے تینوں سٹمپز اکھاڑ کر پٹخ دیتے ہیں۔ اس دوران وہ امپائر سے کچھ کہتے دکھائی دیتے ہیں اور پھر ایک سٹمپ امپائر کے سامنے زمین میں گاڑ دیتے ہیں۔

ان دونوں واقعات کے کچھ ہی دیر بعد بارش کے باعث میچ روکا گیا تو سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی چند دیگر ویڈیوز اور تصاویر میں شکیب الحسن مخالف ٹیم ابہانی لمیٹڈ کے کوچ خالد محمود سے بھی بحث کرتے دیکھے گئے۔ دونوں ایک دوسرے پر چلا رہے تھے اور پھر شکیب کو ان کے کیمپ سے الگ کرنا پڑا۔

شکیب الحسن کے ڈسپلنری مسائل

شکیب الحسن کا شمار دنیا کے بہترین آلراؤنڈرز میں تو ہوتا ہی ہے لیکن وہ بنگلہ دیشی لیجنڈ کرکٹر بھی ہیں اور ان کے پاس اس حوالے سے متعدد ریکارڈز موجود ہیں۔

بائیں ہاتھ کے بلے باز اور لیفٹ آرم آف سپنر شکیب الحسن بنگلہ دیش کے لیے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں سب سے زیادہ اور ٹیسٹ میچوں میں مشرفی مرتضیٰ کے ساتھ مشترکہ طور پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے بولر ہیں۔

شکیب نے سنہ 2007 میں اپنا انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا اور ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں 100 سے زیادہ وکٹیں اور 1000 سے زیادہ رنز بنانے والے چند کھلاڑیوں میں سے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

وہ سنہ 2019 کے ورلڈکپ میں 600 سے زیادہ رنز بنانے والے تین بلے بازوں میں سے ایک تھے۔ تاہم ان کا کریئر اکثر تنازعات کی زد میں رہا ہے۔

سنہ 2010 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک میچ کے دوران جب امپائر سائٹ سکرین کے سامنے ہونے والی ہلچل کو نہیں روک سکے تھے تو شکیب خود بھاگ کر سائٹ سکرین تک گئے اور اس شخص کو بلے سے مارنے کی دھمکی اور گالیاں دیں۔

سنہ 2014 میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے شکیب الحسن پر 'رویے کے مسائل' کے باعث آٹھ ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ ایسا بورڈ سے این او سی لیے بغیر ایک غیر ملکی لیگ میں کھیلنے کے باعث ہوا تھا۔

سنہ 2018 میں ایک میچ کے دوران جب بنگلہ دیش کو سری لنکا کے خلاف آخری اوور میں 12 رنز درکار تھے اور امپائر نے ایک متنازع فیصلہ کرتے ہوئے نو بال نہیں دی تھی تو شکیب باؤنڈری لائن پر کھڑے ہو کر اپنے بلے بازوں کو میچ چھوڑ کر واپس آنے کے اشارہ کرتے دکھائی دیے۔ تاہم اس وقت کہ بنگلہ دیشی کوچ خالد محمود کی مدد سے صورتحال قابو میں لائی گئی اور بنگلہ دیش نے یہ میچ باآسانی جیت لیا۔

گذشتہ ہفتے ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے دوران بھی شکیب الحسن اس وقت خبروں کی ذینت بنے تھے جب ان کی ٹیم کی جانب سے بائیو سکیور ببل کے قواعد توڑتے ہوئے دو نیٹ بولرز کو شکیب کے خلاف گیند کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔

اسی سال مارچ میں شکیب الحسن نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ پر الزام عائد کیا تھا کہ 'وہ اپنے کھلاڑیوں کی نمائندگی بہتر انداز میں نہیں کرتا۔' خیال رہے کہ بی سی بی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ شکیب الحسن ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتے۔

شکیب الحسن کو کیا سزا دی جا سکتی ہے؟

میچ کے فوراً بعد کرکٹ کمیٹی آف ڈھاکہ میٹروپولس کے چیئرمین قاضی انعام احمد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امپائرز کی جانب سے اس حوالے سے رپورٹ جعمے کے روز جمع کروا دی جائے گی۔ انھوں نے ان واقعات کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ وہ کھلاڑیوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں گے۔

تاہم اس حوالےسے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے اس ٹورنامنٹ کے دوران شکیب الحسن پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے اور جرمانہ بھی۔

اس سے پہلے بھی شکیب الحسن متعدد تنازعات کا شکار رہے ہیں اور اکتوبر 2019 میں انھیں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شکیب نے اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کو تسلیم کیا تھا۔

جب ان پر یہ پابندی عائد کی گئی تو اس سے کچھ عرصہ قبل وہ کھلاڑیوں کی جانب سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے خلاف بغاوت کے بارے میں کھل کر بات کر رہے تھے اور انھوں نے بورڈ پر مقامی کھلاڑیوں کو دبانے کا الزام لگایا تھا۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل

یقیناً گلی کرکٹ یا مقامی ٹورنامنٹس کے دوران تو ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں اور عموماً ایسا امپائر کی جانب سے رن آؤٹ کا متنازع فیصلہ دینے یا سکور میں گڑبڑ کرنے کے باعث ہوتا ہے۔ ایسے تنازعات کا اختتام کبھی لڑائی یا کبھی وکٹیں اکھاڑ کر میچ کے اختتام کا اعلان کرنے پر ہوتا تھا۔

تاہم یوٹیوب اور فیس بک پر لائیو سٹریم ہونے والے اس میچ میں ایسا ہوتے دیکھ کر اکثر صارفین پریشان ہو گئے۔

پاکستانی صحافی سویرا پاشا نے لکھا کہ 'یہ صاف الفاظ میں شرمناک ہے۔ شکیب یہ آپ نے کیا کر دیا۔'

سبھائن نامی ایک صارف نے شکیب الحسن کی جانب سے جاری کیا گیا معافی نامہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی معافی کو جواز بنا کر ان پر پابندی عائد کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھانی چاہیے۔

صارفین یہ بھی کہتے دکھائی دیے کہ 'کون کہتا ہے کہ کرکٹ جینٹل مین کا کھیل ہے؟ اور 'ہم واقعات کرکٹ گراؤنڈ پر دوبارہ نہیں دیکھنا چاہتے۔

ایک صارف نے لکھا: 'مکمل طور پر گلی کرکٹ ہو رہی ہے' تو دوسرے نے کہا کہ 'ہر گلی کرکٹر شکیب سے زیادہ پیشہ وارانہ انداز میں کھیلتا ہے۔

صارف حسن مبین نے شکیب کی وزیرِ اعظم حسینہ واجد کے ساتھ تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کے اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے ساتھ روابط ہوں تو آپ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔

پاکستانی ویمن ٹیم کی سلیکٹر اور کمنٹیٹر عروج ممتاز کا کہنا تھا کہ 'یہ شکیب کا انتہائی شرمناک رویہ ہے۔ اس قطع نظر کے آپ کون ہیں یا کس لیول پر کھیل رہے ہیں۔ مقررہ حدود پامال کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔'

کچھ افراد نے اس تصویر کے حوالے سے مزاح کا استعمال بھی کیا اور شکیب کی وکٹوں کو لات مارنے والی تصویر کو مائیکل ہولڈنگ کی وکٹیں توڑنے والی تصویر سے جوڑا۔ ایک اور صارف نے لکھا کہ 'جب بلا اور گیند آپ کے ہوں اور امپائر آؤٹ دینے سے منع کر دے، تو آپ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔'

تاہم چند صارفین شکیب کی حمایت کرتے بھی دیے۔ صارف قاضی محمود نے لکھا کہ شکیب الحسن تو ایک عرصے سے بنگلہ دیش کرکٹ میں مبینہ کرپشن اور فکسنگ کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں، انھوں نے جو کیا اس کا طریقہ غلط تھا مگر ان کا مؤقف اپنی جگہ درست ہے۔

اکشت شیٹی نامی ایک صارف نے لکھا کہ 'آپ کو یاد ہو گا کہ دھونی بھی ایک مرتبہ اپنے کھلاڑیوں کا دفاع کرنے گراؤنڈ میں آ گئے تھے۔ شکیب سے غلطی ہوئی، انھوں نے معافی مانگی، اب ان پر پابندی عائد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔'