پی ایس ایل 6: پشاور زلمی کی کراچی کنگز کو چھ وکٹوں سے شکست

پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں منگل کے روز کھیلے جانے والے دوسرے میچ میں پشاور زلمی نے کراچی کنگز کو چھ وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔

پشاور زلمی نے چار وکٹوں کے نقصان پر 109 رنز کا ہدف باآسانی 11 اوورز میں مکمل کر لیا۔

پشاور زلمی کی جانب سے اوپنر حضرت اللہ ززئی نے 26 گیندوں پر آٹھ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 63 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور مین آف دی میچ قرار پائے۔

پشاور زلمی کے حیدر علی 16 جبکہ کامران اکمل صرف نو رنز بنا کر ہی پویلین لوٹ گئے۔

ابوظہبی میں کھیلے جانے والے پاکستان سپر لیگ کے 24ویں میچ میں پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر پہلے کراچی کنگز کو بیٹنگ کی دعوت دی۔

کراچی کنگز میچ کی ابتدا سے ہی مشکلات کا شکار رہی اور صرف 12 کے سکور پر ہی اس کے تین کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔

کراچی کنگز مقررہ اوورز میں 9 وکٹوں کے نقصان پر صرف 108 رنز ہی بنا سکی۔ پشاور زلمی کی جانب سے ابرار اور وہاب نے تین، تین وکٹیں جبکہ ثمین گل نے کراچی کنگز کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

واضح رہے کہ پوائنٹس ٹیبل پر پشاور زلمی اس وقت تیسرے جبکہ کراچی کنگز چوتھے نمبر پر موجود ہے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہور قلندرز

پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں منگل کے روز کھیلے جانے والے پہلے میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو شکست دے کر پی ایس ایل میں اپنا ایک اہم میچ جیت لیا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے 158 رنز کے جواب میں لاہور قلندرز کی پوری ٹیم 140 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

لاہور قلندر کی طرف سے سب سے زیادہ سکور ٹم ڈیوڈ نے کیا جو گلیڈی ایٹرز کے سامنے ڈٹے رہنے والے لاہور قلندرز کے واحد بیٹسمین تھے۔ انھوں نے تین چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 27 گیندوں پر 46 رنز بنائے۔ وہ عثمان شنواری کی گیند پر سرفراز احمد کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

لاہور قلندرز کے سب سے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی اس کے کپتان سہیل اختر تھے جو بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد فخر زمان 23 کے سکور پر محمد حسنین کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ انھوں نے صرف 12 رنز بنائے۔

تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی محمد حفیظ تھے جو ایک رن بنا کر شنواری کی گیند پر اعظم خان کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

جب سکور 39 پر پہنچا تو ذیشان اشرف بھی خرم شہزاد کی گیبند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ انھوں نے 16 رنز بنائے۔ ان کے فوراً بعد 47 کے سکور پر بین ڈنک بھی صرف چھ رنز بنا کر محمد نواز کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

قلندرز کی چھٹی وکٹ اس وقت گری جب راشد خان بھی آٹھ رنز بنا کر نواز کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ ساتویں وکٹ احمد دانیال کی تھی جو تین رنز بنا کر خرم شہزاد کی گیند پر محمد نواز کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور قلندرز کے آوٹ ہونے والے نویں کھلاڑی شاہین آفریدی تھے جنھیں خرم شہزاد نے بولڈ کیا۔ جیمز فالکنر 12رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

قلندرز کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی حارث روؤف تھے جو تیزی سے رنز بناتے ہوئے محمد حسنین کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ انھوں نے سات گیندوں پر 19 رنز بنائے۔

واضح رہے کہ کوئٹہ کو ٹورنامنٹ میں رہنے کے لیے یہ میچ جیتنا بہت ضروری تھا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے سبھی بولروں نے عمدہ بولنگ کی۔ عثمان شنواری اور خرم شہزاد نے تین تین وکٹ حاصل کیے جبکہ محمد حسنین اور محمد نواز کے حصے میں دو دو وکٹیں آئیں۔

سب سے کم سکور دینے والے خرم شہزاد تھے جنھوں نے تین اوورز میں 14 رنز دے کر تین کھلاڑی آؤٹ کیے۔

عثمان شنواری اپنی بہترین کارکردگی پر مین آف دی میچ قرار پائے۔

اس سے قبل لاہور قلندرز نے ٹاس جیت کر پہلے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو کھیلنے کی دعوت دی تھی۔ جس کے جواب میں پہلے کھیلتے ہوئے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے لاہور قلندرز کو جیتنے کے لیے 159 رنز کا ٹارگٹ دیا تھا۔

کوئٹہ کی جانب سے اوپنر جیک ویدرالڈ نے سب سے زیادہ 48 رنز بنائے۔ ان کے علاوہ سرفراز احمد 34 بنا کر ناٹ آؤٹ رہے جبکہ اعظم خان نے 18 گیندوں پر 33 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔