ہرارے ٹیسٹ: زمبابوے کے خلاف پاکستان کی اننگز سے فتح، سوشل میڈیا پر حسن علی کی پذیرائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہرارے میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے زمبابوے کو میچ کے تیسرے روز ایک اننگز اور 116 رنز سے ہرا کر دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔
حسن علی نے دوسری اننگز میں پانچ اور مجموعی طور پر میچ میں نو وکٹیں حاصل کیں۔ حسن علی کی ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی نصف سنچری مکمل کرنےمیں کامیاب رہے ہیں۔
پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے فواد عالم کی سنچری کے بدولت 426 رنز بنائے۔ زمبابوے نے جب دوسری اننگز شروع کی تو اسے 250 رنز کے خسارے کا سامنا تھا۔
دوسری اننگز کے آغاز میں زمبابوے نے قدرے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا اور اوپنرز نے 48 رنز کی پارٹنرشپ قائم کی لیکن پھر زمبابوے کی وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔
زمبابوے کی پوری ٹیم نو وکٹوں کے نقصان پر 134 بنا سکی جبکہ ایک کھلاڑی زخمی ہونے کی وجہ بیٹنگ نہیں کر سکا۔
زمبابوے کی طرف سے سب سے زیادہ سکور موساکاندا کا تھا جنھوں نے 43 رنز کی اننگز کھیلی۔ کپتان برینڈن ٹیلر 28 رنز بنا کر نعمان علی کی گیند پر حسن علی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPcb
پاکستان کی اننگز کا احوال
تیسرے روز جب پاکستان نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو فواد عالم اور حسن علی بیٹنگ کر رہے تھے۔ حسن علی آؤٹ ہونےوالے پہلے کھلاڑی تھے۔ انھوں نے جارحانہ انداز میں 30 رنز بنائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حسن علی کے آؤٹ ہونے کے بعد نعمان علی بیٹنگ کرنے آئے لیکن وہ کوئی رنز بنائے بغیر پویلین لوٹ گئے۔ پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ساجد علی نے سات رنز بنائے۔ ساجد خان کو میچ میں بہت بولنگ کا موقع ملا۔ انھوں نے دونوں اننگز میں مجموعی طور پر پندرہ اوور کرائے لیکن کوئی وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔
جب فواد عالم 140 رنز کی عمدہ اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے تو پاکستان کا سکور 426 رنز ہو چکا تھا اور اسے زمبابوے پر 250 رنز کی برتری حاصل ہو چکی تھی جسے زمبابوے کی ٹیم عبور نہ کر سکی اور اس طرح پاکستان نے دو میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردِ عمل
سپورٹس کے اعداد و شمار کے ماہر مظہر ارشد نے لکھا کہ نو سال میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان نے تین دن کے اندر اندر ٹیسٹ میچ جیتا ہو، آخری مرتبہ یہ دبئی میں انگلینڈ کے خلاف 2012 میں ہوا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@mazherarshad
ایک اور صارف ارفع فیروز نے کسی کھلاڑی کا نام لیے بغیر کہا کہ حسن علی اُن لوگوں کے لیے بہترین مثال ہیں جو انجری کا شکار ہوتے ہیں اور پھر کھیل میں واپس آنے کے لیے مکمل بحالی سے گزرنے اور فرسٹ کلاس سیزن میں کارکردگی دکھانے کے بجائے پی ایس ایل کے منتظر رہتے ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ ایسے کھلاڑیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ شارٹ کٹس مزید تباہی کی جانب لے جاتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@arfasays_
صارف عمر محبوب نے لکھا کہ بابر اعظم کے بطور کپتان پہلے تین ٹیسٹ، جیت، جیت اور جیت۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@mumer2004









