آئزن ہاور: جب امریکی صدر ٹیسٹ میچ دیکھنے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم پہنچے

،تصویر کا ذریعہEisenhower library
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
آٹھ دسمبر 1959 کو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں موجود ہر شخص کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کچھوے کی چال چلنے والا کھیل کبھی ختم نہیں ہو گا۔ اس روز جس انداز سے پاکستانی بیٹسمین بیٹنگ کر رہے تھے اس سے سٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کو واقعی اکتاہٹ سی ہونے لگی تھی لیکن یہ دن کسی اور اعتبار سے ان کے لیے یادگار بن گیا۔
یہ پاکستان اور آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تین میچوں کی سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ کا چوتھا دن تھا جب دنیا کو یہ خبر مل چکی تھی کہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی صدر آئزن ہاور نیشنل سٹیڈیم آ کر کچھ دیر کے لیے ٹیسٹ میچ دیکھنے والے ہیں۔
یہ کسی امریکی صدر کے کرکٹ ٹیسٹ میچ دیکھنے کا پہلا موقع تھا۔ آئزن ہاور خود گالف اور مچھلی کے شکار کے شوقین تھے۔ ان کی کرکٹ سے لاعلمی کے بارے میں لکھا جاتا رہا ہے تاہم ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ وہ کرکٹ کے مشہور کلب ایم سی سی کے ممبر بھی تھے۔
امریکی صدر کا دورہ پاکستان 19 روز میں 11 مختلف ممالک کے خیرسگالی دوروں کا حصہ تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آئزن ہاور پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے ساتھ صبح گیارہ بجکر چالیس منٹ پر سٹیڈیم میں داخل ہوئے تو اس وقت پاکستان کی دوسری اننگز جاری تھی لیکن مہمان کی آمد پر کھیل روک دیا گیا۔ پاکستان ایئرفورس کے بینڈ نے دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائیں اور اس کے بعد دونوں ٹیموں کو صدر آئزن ہاور سے تعارف کے لیے میدان میں کھڑا کر دیا گیا۔
کہا جاتا ہے کہ اس روز سٹیڈیم میں چالیس ہزار کے لگ بھگ شائقین موجود تھے۔

،تصویر کا ذریعہEisenhower library
بلیزر کی پیمائش کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ
کھلاڑیوں کے تعارف سے قبل صدر آئزن ہاور کو کرکٹ ٹائی اور ان کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ کرکٹ بلیزر (کوٹ) پیش کیا گیا جسے انھوں نے پہنا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ بلیزر کا سائز امریکی صدر کی جسامت کے عین مطابق ہو۔ لہذا انھوں نے ان کے دورے سے قبل ہی وائٹ ہاؤس رابطہ کر کے پیمائش کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرلی تھیں جن کی بنیاد پر یہ بلیزر تیار کرایا گیا۔
’آپ مخالف کیمپ میں شامل ہوگئے ہیں‘
برطانوی مصنف مارک ڈاسن نے اپنی کتاب ʹآؤٹ سائیڈ ایج ʹ میں لکھا ہے کہ صدر آئزن ہاور نے جب بلیزر پہنا جس پر پاکستانی کرکٹ کا مخصوص ستارہ آویزاں تھا تو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان رچی بینو سے رہا نہ گیا اور انھوں نے مذاقاً صدر آئزن ہاور سے کہا کہ ’اچھا تو آپ مخالف کیمپ میں شامل ہو گئے ہیں۔‘
اس پر صدر آئزن ہاور نے قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا کہ میرا خیال ہے آپ سب کرکٹرز ہیں۔
یہی واقعہ رچرڈ ہیلر کی کتاب وائٹ آن گرین میں رچی بینو کی بجائے آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے منیجر سیم لاکسٹن سے منسوب کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEisenhower library
رچی بینو کا امریکی صدر کو تحفہ
آسٹریلوی صحافی مائیک کاورڈ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ آسٹریلوی کپتان رچی بینو نے اس موقع پر صدر آئزن ہاور کو اپنی کیپ پیش کی جسے انھوں نے اس خیال سے قبول کر لیا کہ اس سے ان کی غیر جانبداری دیکھی جا سکے گی۔
صدر ایوب خان نے بعد میں اس بات پر حیرانی ظاہر کی تھی کہ صدر آئزن ہاور کرکٹ سے متعلق بہت کم جانتے تھے تاہم کتابوں میں درج ہے کہ جب آئزن ہاور سے دونوں ٹیموں کا تعارف کرایا جا رہا تھا تو انھوں نے پاکستانی بیٹسمین ڈنکن شارپ کو پہچان لیا تھا اور ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا تھا کہ آپ وہی ہیں جنھوں نے ڈھاکہ ٹیسٹ میں اچھی بیٹنگ کی تھی جس پر ڈنکن شارپ نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
صدر آئزن ہاور نے اس موقع پر کرکٹ بیٹ اور گیند دیکھنے کی بھی فرمائش کی اور بیٹ پر اپنے دستخط بھی کیے۔
دونوں سربراہان مملکت تقریباً آدھا گھنٹہ سٹیڈیم میں رہے اور اس موقع پر آئزن ہاور کرکٹ کے بارے میں سوالات بھی کرتے رہے جن میں سے کچھ ایسے سوالات بھی تھے جن پر ایوب خان کو بازو کی مدد سے عملی مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دینا پڑے۔
صدر آئزن ہاور نیشنل سٹیڈیم کے اس مختصر دورے پر بہت خوش تھے جس کا اظہار انھوں نے اسی روز پاکستان کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری ایس ایم حسین کو لکھے گئے خط میں کیا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک منفرد موقع تھا کہ انھوں نے دنیا کی دو اچھی ٹیموں کو مدمقابل ہوتے دیکھا ہے۔
سست رفتار بیٹنگ
صدر آئزن ہاور کی موجودگی سے ہٹ کر اس ٹیسٹ کا چوتھا دن شائقین کے لیے اس لیے اکتا دینے والا تھا کہ پورے دن کے کھیل میں پاکستانی ٹیم صرف 104 رنز بنا سکی تھی اور اس کی پانچ وکٹیں گری تھیں۔
یہ 104 رن کسی ٹیسٹ میچ میں ایک دن کے کھیل میں بننے والا دوسرا سب سے کم سکور ہے۔ ایک دن کے کھیل میں سب سے کم 95 رن بھی پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان سنہ 1956 میں کھیلے گئے کراچی ٹیسٹ میں بنے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی ٹیم نے جب اپنی دوسری اننگز شروع کی تھی تو اس کی برتری صرف 30 رن کی تھی لیکن چوتھے دن گرنے والی پانچ وکٹوں کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم مشکل سے دوچار تھی اور خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ ڈھاکہ اور لاہور کی طرح کہیں کراچی میں بھی نہ ہار جائے۔ اگر ایک اینڈ پر حنیف محمد ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کرتے تو ممکن تھا کہ آسٹریلوی ٹیم اسی روز میزبان ٹیم کی بساط لپیٹ دیتی۔
حنیف محمد چوتھے روز 40 رن بنا کر ناٹ آؤٹ تھے اور پانچویں روز انھوں نے اپنی پانچویں ٹیسٹ سنچری سکور کی۔ جس کی بدولت پاکستانی ٹیم اس قابل ہو سکی کہ آسٹریلوی ٹیم کو 33 اوور میں 225 رن کا ہدف دے سکی۔ کھیل کے اختتام پر اس نے 3 وکٹوں پر 82 رن بنائے تھے۔
رچی بینو کا ایوب خان کو مشورہ
حنیف محمد نے اپنی کتاب ’پلیئنگ فار پاکستان‘ میں لکھا ہے کراچی ٹیسٹ کے موقع پر آسٹریلوی ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے میں کپتان رچی بینو نے صدر ایوب خان کو مشورہ دیا تھا کہ آپ کے ملک میں ٹیلنٹ بہت ہے، اگر آپ اپنے ملک میں کرکٹ کے معیار کو بہتر کرنا چاہتے ہیں تو میٹنگ وکٹوں کے بجائے ٹرف وکٹیں بنائیں۔
صدر ایوب خان نے ان کی بات کو اہمیت دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ مستقبل میں تمام میچز ٹرف وکٹوں پر ہونے چاہیے۔ واضح رہے کہ اس ٹیسٹ سیریز کا لاہور ٹیسٹ ٹرف وکٹ پر کھیلا جا چکا تھا۔
پہلی ہی گیند پر وکٹ
کراچی ٹیسٹ کو انتخاب عالم کی وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے جنھوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں اپنے ٹیسٹ کریئر کی ابتدا کرتے ہوئے پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کی تھی۔
انتخاب عالم بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ’مجھے بولنگ کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا تھا۔ کپتان فضل محمود مجھے بولنگ میں پہلی تبدیلی کے طور پر لے آئے تھے۔ میرے سامنے اوپنر کالن میکڈانلڈ تھے، میری پہلی گیند تیز لیگ بریک تھی جس نے آف سٹمپ کو ہٹ کیا تھا۔‘
اس اننگز میں انتخاب عالم نے وکٹ کیپر والی گراؤٹ کی وکٹ بھی حاصل کی تھی جبکہ دوسری اننگز میں وہ اوپنر گیون اسٹیونس کو آؤٹ کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔









