محمد حفیظ: کسی کے کہنے پر نا تو کرکٹ کھیلتا ہوں اور نہ ہی کسی کے کہنے پر اسے چھوڑوں گا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آگے بڑھتے ہوئے سفر کے دوران دو سینیئر کھلاڑی شعیب ملک اور محمد حفیظ ہمیشہ موضوع گفتگو رہے ہیں۔ یہ گفتگو اُن کے مستقبل کے بارے میں ہوتی رہتی ہے اور حالیہ دنوں میں اس میں کافی شدت رہی ہے۔
ٹیم سلیکشن کے موقع پر مصباح الحق سے جب بھی یہ سوال کیا جاتا رہا ہے کہ کیا یہ دونوں کھلاڑی مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کے گیم پلان میں شامل ہیں تو وہ ان دونوں کو خارج ازامکان قرار دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے ہیں، تاہم اب صورتحال قدرے مختلف دکھائی دینے لگی ہے۔
شعیب ملک کا نیوزی لینڈ کے دورے سے باہر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مکمل طور پر نہ سہی لیکن بڑی حد تک ان کا بین الاقوامی کریئر فنشنگ لائن یعنی اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے لیکن محمد حفیظ کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ محدود اوورز کی کرکٹ میں متاثر کُن کارکردگی سے وہ ٹیم میں اپنی پوزیشن مضبوطی سے قائم رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بات لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی ہے جب اس سال کے اوائل میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ہوم سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان ہوا تھا تو اس میں شعیب ملک اور محمد حفیظ کے نام دیکھ کر سابق کپتان رمیز راجہ نے اپنے یوٹیوب چینل پر دونوں کرکٹرز پر سخت تنقید کی تھی۔
رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات پر غصہ اور رنج ہوا جب انھوں نے سکواڈ میں یہ نام دیکھے کیونکہ سلیکشن کی بنیاد ہی غلط ہے۔ یہ ٹیم اپنے بچاؤ کے لیے منتخب کی گئی ہے ناکہ مستقبل کو ذہن میں رکھ کر۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رمیز راجہ نے کہا تھا کہ چونکہ سلیکٹر ہار برداشت نہیں کر سکتے لہذا انھوں نے شعیب ملک اور محمد حفیظ کی واپسی کروا دی ہے کیونکہ یہ دونوں تجربہ کار ہیں۔ 38 سال کے یہ دونوں کرکٹرز کے بارے میں سب کو پتہ ہے کہ انھوں نے اپنی بہترین کرکٹ کب کی کھیل لی ہے۔
اگر یہ دونوں اتنے ہی تجربہ کار تھے تو انھیں آسٹریلیا لے جایا جاتا مگر وہاں نوجوانوں کو بلی کا بکرا بنا دیا گیا۔ یہ دونوں کرکٹرز عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں یہ کچھ زیادہ اپنا حصہ نہیں ڈال سکتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ رمیز راجہ کی تنقید تھی یا کچھ اور کیونکہ اس کے بعد سے محمد حفیظ نے نوجوانوں جیسی پرفارمنس دکھانی شروع کر دی ہے۔ وہ چاہے انٹرنیشنل کرکٹ ہو یا ٹی ٹوئنٹی کپ یا پھر پاکستان سپر لیگ، محمد حفیظ ہر جگہ اپنی موجودگی کا پتہ دے رہے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنے کریئر کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہے ہیں۔
متاثر کن کارکردگی
محمد حفیظ نے اس سال پانچ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل اننگز میں 91 کی بھاری بھر کم اوسط سے 275 رنز بنائے ہیں جبکہ مجموعی طور پر تمام ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں ان کے بنائے گئے رنز کی تعداد 863 ہے جن میں سات نصف سنچریاں شامل ہیں۔
بنگلہ دیش کے خلاف ناقابل شکست 67 رنز بنانے کے بعد انھوں نےانگلینڈ کے خلاف دو میچوں میں 69 اور 86 رنز ناٹ آؤٹ کی دو اہم اننگز کھیلیں۔ 86رنز کی اننگز میں ان کے چار چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔
محمد حفیظ نے حالیہ ٹی ٹوئنٹی کپ میں بھی اپنی عمدہ فارم کو برقرار رکھتے ہوئے دو نصف سنچریاں بنائیں اور جب پاکستان سپر لیگ کے پلے آف کا مرحلہ آیا تو ان کے ناقابل شکست 74 رنز نے لاہور قلندرز کو پشاور زلمی کے خلاف پانچ وکٹوں سے کامیابی دلا دی۔
محمد حفیظ موجودہ پاکستان سپر لیگ میں بابراعظم کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بھی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تنقید کا جواب
محمد حفیظ اپنے اوپر ہونے والی تنقید پر خاموش بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’میں رمیز بھائی (رمیز راجہ) کی بہت عزت کرتا ہوں۔ پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہیں لیکن مجھے ان کی کرکٹ کی سمجھ بوجھ کے بارے میں بہت زیادہ تحفظات ہیں۔ ان کی اپنی رائے ہے جس کا وہ اظہار کریں کیونکہ ان کے پاس تمام پلیٹ فارم موجود ہیں، وہ جو بھی بولنا چاہیں وہ بولیں لیکن میں نہ تو کسی ایک شخص کی وجہ سے کرکٹ کھیلتا ہوں اور نہ ہی کسی کے کہنے پر کرکٹ چھوڑوں گا۔‘
محمد حفیظ کہتے ہیں ’اگر کوئی نیا کھلاڑی آ کر خود کو مجھ سے بہتر ثابت کر دے تو میں خوشی خوشی اپنی جگہ چھوڑ دوں گا۔ سری لنکا کے خلاف سیریز کے موقع پر جب مجھے ڈراپ کیا گیا تو میں نے اس کی وجہ جاننی چاہی تھی۔‘
’میں قومی وقار اور بھرپور جذبے کے ساتھ کھیلتا ہوں اور میرے لیے یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ میں پاکستان کے لیے کھیلوں اور میچ جتواؤں۔ میں اپنی کرکٹ سے بہت زیادہ مطمئن ہوں جب تک کوئی ایسا کھلاڑی نہیں آتا تب تک میں اپنی فٹنس اور پرفارمنس کی بنیاد پر پاکستان کے لیے کھیلتا رہنا چاہوں گا۔‘













