محمد حفیظ: میں نے پوچھا کہ میری ضرورت نہیں رہی تو صاف صاف بتادیا جائے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اعلان ہواتو اس میں شعیب ملک اور محمد حفیظ کے نام دیکھ کر سابق کپتان رمیز راجہ کا شدید ردعمل سامنے آیا تھا کہ 38 سال کے یہ دونوں کھلاڑی اپنی بہترین کرکٹ کب کی کھیل چکے ہیں۔
رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ اگر یہ اتنے ہی تجربہ کار تھے تو انھیں آسٹریلیا کیوں نہیں لے جایا گیا وہاں تو نوجوان کرکٹرز کو قربانی کا بکرا بنادیا گیا۔
یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ ان دونوں کرکٹرز کے سلیکشن پر سلیکٹرز متفق نہیں تھے لیکن کپتان بابراعظم کے ُپرزور اصرار پر دونوں کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
اب یہ دونوں کرکٹرز بنگلہ دیش کے خلاف میچ وننگ اننگز کھیلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گیم پلان کا حصہ بن چکے ہیں ؟۔
شعیب ملک اور محمد حفیظ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نہیں ہیں لیکن دونوں اس سال آسٹریلیا میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی خواہش ظاہر کرچکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ دونوں کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔
گذشتہ سال جب ورلڈ کپ کے اختتام پر شعیب ملک نے ون ڈے انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا تو انہوں نے ازراہ تفنن یہ بات بھی کہی تھی کہ ان کی ٹی ٹوئنٹی کی کارکردگی ایسی ہے کہ وہ اگلے دو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کھیل سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب محمد حفیظ کہتے ہیں کہ جب انھیں سری لنکا کے خلاف سیریز سے ڈراپ کیا گیا تو انھوں نے اس کی وجہ جاننی چاہی تھی۔
'میں نے تو ڈائریکٹ بات کی تھی اعلیٰ آفیشلز سے کہ اگر میری ضرورت نہیں رہی تو مجھے صاف صاف بتادیا جائے تاکہ میں آسانی سے انٹرنیشنل لیگز کھیل سکوں لیکن مجھے جواب نہیں ملا ۔ اگر سینئیر کھلاڑیوں کے بارے میں کرکٹ بورڈ کی کوئی پالیسی ہے تو اس پر بات ہونی چاہیے دراصل بہتر رابطہ بہت ضروری ہے۔'
محمد حفیظ ٹیم پر بوجھ بننے کے لیے تیار نہیں ۔ 'جب تک آپ اچھی کارکردگی دکھارہے ہیں اور فٹ ہیں تو آپ کو ٹیم میں رہنا چاہیے اور اگر آپ سے بہتر کھلاڑی آپ کے نمبر پر کھیلنے والا آجائے تو پھر یہ آپ کے جانے کا صحیح وقت ہے۔'
محمد حفیظ بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اپنی اور اپنے ساتھی شعیب ملک کی میچ وننگ پرفارمنس سے بہت زیادہ خوش ہیں۔
'میرے لیے ایک بہترین موقع تھا کہ پاکستانی ٹیم کی دوبارہ سے خدمت کروں حالانکہ ورلڈ کپ کے بعد میں سات آٹھ ماہ سے نہیں کھیلا تھا لیکن میں مثبت سوچ کے ساتھ اپنی پریکٹس اور فٹنس پر کام کررہا تھا اورمجھے خوشی ہے کہ میں نےپاکستان کو میچ جتوایا۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمد حفیظ نے مزید کہا کہ وہ پہلے میچ میں ایک مشکل صورتحال میں شعیب ملک کی اننگز پر بھی بہت خوش تھے جس نے پاکستان کو جیت سے ہمکنار کرایا۔
'جس وقت شعیب ملک وہ اننگز کھیل رہے تھے میں ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں کو یہ سمجھارہا تھا کہ میچ کو کس طرح جیت پر ختم کیا جاتا ہے۔ نوجوان کرکٹرز کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں ٹیلنٹ بہت ہے وقت کے ساتھ ساتھ وہ یہ بات سیکھیں گے کہ دباؤ میں کس طرح کھیلا جاتا ہے اور میچ جیتے جاتے ہیں۔'
محمد حفیظ نوجوان کرکٹرز کو اپنی اور شعیب ملک کی فٹنس کی مثال دیتے ہیں۔
'آج بھی میں اپنے کیرئیر کے پہلے دن کی طرح پوائنٹ پوزیشن پر فیلڈنگ کرتا ہوں اور شعیب ملک جو بیس سال پہلے بھی باؤنڈری پر بھاگا کرتے تھے آج بھی اسی پھرتی کے ساتھ باؤنڈری پر بھاگ رہے ہیں۔'











