پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: پاکستانی اوپنر عابد علی کو سنچری سکور نہ کرنے پر مایوسی

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ساؤتھیمپٹن ٹیسٹ میچ کے پہلے دن اگر یہ کہا جائے کہ موسم نے بار بار رکاوٹ نہ ڈالی ہوتی تو ممکن تھا کہ پاکستانی ٹیم نے جس طرح کی بیٹنگ کی وہ آل آؤٹ ہو جاتی تو شاید غلط نہ ہو۔
بارش اور خراب موسم سے متاثرہ پہلے دن کے سکور 126 رنز پانچ کھلاڑی آؤٹ میں ایک ہی قابل ذکر اننگز نظر آئی جو عابد علی کی تھی۔ وہ 60 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
یہ وہی عابد علی ہیں جو اپنے اولین ٹیسٹ اور اولین ون ڈے دونوں ہی میں سنچری بنانے والے دنیا کے واحد بیٹسمین کے طور پر ریکارڈ بکس میں اپنا نام درج کرا چکے ہیں۔
تاہم انگلینڈ کے موجودہ دورے میں وہ اب تک غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں وہ صرف 16 رنز بنا کر جوفرا آچر کی گیند پر بولڈ ہوئے تھے۔ دوسری اننگز میں 20 رنز پر ڈوم بیس کی گیند پر غیرضروری سویپ کھیلتے ہوئے وہ ووکس کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
ساؤتھیمپٹن ٹیسٹ کے پہلے دن جب پہلے ٹیسٹ میں سنچری سکور کرنے والے شان مسعود صرف ایک رن پر آؤٹ ہوئے تو دوسرے اینڈ پر عابد علی سے ایک ذمہ دارانہ اننگز کی امیدیں وابستہ کر لی گئی تھیں۔
عابد علی اپنی 60 رنز کی اننگز سے کسی حد تک مطمئن ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ اننگز ایک بڑے اسکور میں بھی تبدیل ہوسکتی تھی۔
عابد علی کا کہنا ہے کہ وہ پوری کوشش کر رہے تھے کہ اپنی بہترین کارکردگی دکھا سکیں خاص کر ایسی پرفارمنس جو ٹیم کے لیے کارآمد ثابت ہو سکے۔
’ساؤتھمپٹن کی وکٹ مشکل نہیں ہے اور گیند بلے پر بہت اچھی طرح آرہی تھی لیکن بارش کی وجہ سے کنڈیشنز مشکل ہو گئیں جس میں بیٹنگ آسان نہیں تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ان کی کپتان اظہرعلی کے ساتھ 72 رنز کی شراکت بھی ہوئی لیکن کھیل کے بار بار رکنے کے سبب چار وکٹیں جلدی گر گئیں۔
عابد علی کا یہ انگلینڈ کا دوسرا دورہ ہے اس سے قبل وہ گذشتہ سال ون ڈے سیریز کا حصہ تھے لیکن صرف ایک میچ میں انھیں موقع مل سکا تھا اور اسی کی بنیاد پر وہ ورلڈ کپ سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔
عابد علی کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ پہلی بار انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز کھیل رہے ہیں لہٰذا ان کنڈیشنز میں کھیلنا کسی چیلنج سے کم نہیں اور انھوں نے یہ چیلنج قبول کیا ہے انھیں یقین ہے کہ وہ اس ٹور پر بڑی پرفارمنس دینے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔
عابدعلی ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کے فیصلے کو درست سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم مثبت سوچ کے ساتھ یہ میچ کھیل رہی ہے اور یہی سوچ کر ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی گئی کہ ایک اچھا اسکور کیا جائے۔
’پانچ وکٹیں گرگئی ہیں لیکن کریز پر بابراعظم اور محمد رضوان موجود ہیں اور ان دونوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ٹیم کا اسکور ایک اچھی پوزیشن تک لے جاسکیں۔‘











