سمیع چوہدری کا کالم: اس ڈریسنگ روم میں کافی شامیں بیت چکی ہیں

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
انگلینڈ کی وکٹوں پہ اب تک کافی دھوپ پڑ چکی ہے اور وہ قدرے خشک ہو رہی ہیں۔ گویا اب ان وکٹوں پہ سیم کا تناسب کم ہوتا جائے گا اور سپن کے امکانات بڑھتے جائیں گے۔
یہی سوچ ہے کہ جس کی بنیاد پہ آج مصباح الحق دو سپنرز کے ساتھ میدان میں اترنے کا فیصلہ کریں گے۔ گو تاریخی طور پہ پاکستان کا انگلینڈ میں ریکارڈ بہترین ٹیموں میں شمار ہوتا ہے مگر اس بار پاکستان کو لندن میں کوئی میچ میسر نہیں ہے جہاں اسے اکثریتی کامیابیاں ملی ہیں۔
پاکستان کے لیے خوش کن بات مگر یہ ہے کہ میچ کے دوران مطلع صاف رہنے کا امکان ہے اور عموماً ایسی کنڈیشنز میں دو دن کی دھوپ کے بعد تیسرے دن پرانے گیند سے ریورس سوئنگ اور سپن دونوں کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اگر پاکستان شاداب خان کو بطور آل راؤنڈر شامل کرتا ہے کہ وہ ساتویں نمبر پہ بیٹنگ بھی کریں تو یہ ایک بہتر ٹیم کمبینیشن ہو گا کہ جہاں شان مسعود اور عابد علی اوپنگ کریں اور اظہر علی، بابر اعظم اور اسد شفیق مڈل آرڈر کو سنبھالیں۔ اور بعد ازاں محمد رضوان اور شاداب خان ٹیل کو ساتھ لے کر چلیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے لیے برتری کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ پاکستان کا بیٹنگ آرڈر انگلینڈ کی نسبت قدرے تجربہ کار اور مستحکم ہے اور اگر قسمت کچھ ایسی یاوری کرے کہ نسیم شاہ اور شاہین شاہ کو نئے گیند کے ساتھ ابر آلود کنڈیشنز کا ساتھ مل جائے تو جو روٹ کا مڈل آرڈر ایکسپوز بھی ہو سکتا ہے۔
محمد عباس انگلینڈ میں کاؤنٹی کھیلنے کو بے تاب تھے کیونکہ یہ وہ تجربہ ہے جو ہر بڑا بولر اپنے پلے باندھنا چاہتا ہے۔ مگر کرونا نے محمد عباس کا شیڈول بھی درہم برہم کر دیا اور اب وہ کاؤنٹی کی بجائے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک نوآموز اٹیک کی قیادت کر رہے ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
گو پاکستان ممکنہ طور پہ نئے گیند سے شاہین آفریدی اور نسیم شاہ کو موقع دے گا مگر مڈل اوورز میں محمد عباس کو انگلش مڈل آرڈر کو خاموش رکھنا پڑے گا تا کہ دونوں جونئرز ان سے وہی فائدہ اٹھا سکیں جو جوفرا آرچر اور کرس ووکس اپنے سینیئرز سے اٹھاتے ہیں۔
تاریخی طور پہ پاکستان کی انگلش کنڈیشنز میں نمایاں کامیابی کی وجہ پاکستانی بولنگ رہی ہے جس نے میچ کا پانسہ پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ کبھی وسیم اکرم تو کبھی وقار یونس اور کبھی محمد عامر انگلش کپتانوں کے لئے دردِ سر بنے۔
اگر نسیم شاہ اور شاہین آفریدی اب تک انگلش کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو چکے ہیں اور اپنی بہترین فارم میں ہیں تو عین ممکن ہے کہ پاکستان متواتر تیسری سیریز ڈرا کر جائے۔
یہی دو ایسے مہرے ہیں کہ جن کی چال بیٹنگ لائن کو بھی اعتماد دے سکتی ہے اور سپنرز کا بھی حوصلہ بڑھا سکتی ہے۔
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ نوآموز بولرز یہاں بھی کچھ ایسے ہی دباؤ میں آ جائیں جیسے ہمیں آسٹریلین کنڈیشنز میں دکھائی دیے تھے اور بٹلر و سٹوکس اور ہمنوا ان سے کچھ ویسا ہی سلوک کریں جو ڈیوڈ وارنر نے کیا تھا۔
مگر اس حادثے کو گزرے کئی مہینے بیت چکے ہیں۔ اب مصباح کے ساتھ ساتھ یونس خان اور مشتاق احمد کی ڈریسنگ روم میں موجودگی سے بھی بہت فرق پڑے گا۔ ویسے بھی اس آسٹریلوی سیریز کے بعد سے اب تک اس ڈریسنگ روم میں کافی شامیں بیت چکی ہیں








