مانچسٹر ٹیسٹ: انگلینڈ نے تین وکٹوں سے پاکستان کو شکست دے دی

انگلینڈ، پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان مانچسٹر ٹیسٹ چھوتھے دن ہی انگلینڈ کی فتح کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے۔

پاکستان نے انگلینڈ کو جیتنے کے لیے 277 رنز کا ہدف دیا تھا جو انگلینڈ نے سات وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔ اس سے قبل پاکستان کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 169 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی۔

انگلینڈ کی ٹیم نے ہدف کے تعاقب میں جب اپنی اننگز کا آغاز کیا تو پاکستانی باؤلرز میچ پر حاوی رہے اور انگلینڈ کی وقفے وقفے سے وکٹیں گرتی رہیں۔

میچ کے دوران ایک وقت ایسا آیا کہ انگلینڈ کی نصف ٹیم پویلین لوٹ گئی جبکہ جیت کے لیے ڈیڑھ سو سے زائد رنز درکار تھے۔

اس کے بعد انگلینڈ کی چھٹی وکٹ کی لمبی پارٹنرشپ قائم ہوئی جو انگلینڈ کو جیت کی طرف لے گئی۔ یہ شراکت داری کرس ووکس اور جو جوس بٹلر کے درمیان تھی۔

ووکس 84 جبکہ بٹلر 75 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے مگر اس وقت تک دونوں اپنی ٹیم کو فتح کے بہت قریب لے کر آ گئے تھے۔ پاکستان کے کپتان اظہر علی نے میچ کے اختتام پر شکست کی بڑی وجہ اس پارٹنرشپ کو قرار دیا۔

میچ کے آخری لمحات میں جب پاکستانی باؤلر کو نئی بال دی گئی تو انھوں نے جادو جگانے کی کوشش کی مگر اس وقت تک پاکستان کے ہاتھوں سے میچ نکل چکا تھا اور وہ زیادہ دیر تک انگلینڈ کے ساتویں اور آٹھویں نمبر پر آنے والے کھلاڑیوں کو پریشان نہ کر سکے۔

کرس ووکس کو 84 رنز اور چار وکٹیں حاصل کرنے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔ کرس ووکس نے میچ کے اختتام پر یاسر شاہ کے باؤلنگ کی خصوصی طور پر تعریف کی۔

آج کے دن انگلینڈ کے تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی جو روٹ تھے جنھوں نے 42 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر بابر اعظم کو سلپ میں کیچ پکڑا بیٹھے۔ چوتھے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بین سٹوک نو رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہو گئے۔

انگلینڈ کے پانچویں آؤٹ ہونے والے کھلاڑی او جے پوپ تھے جو شاہین شاہ آفریدی کی بال پر شاداب خان کو کیچ دے بیٹھے۔

ڈوم سبلی 36 رنز پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ ان پر لیگ سپنر یاسر شاہ نے اپنا جادو چلایا۔ انگلینڈ کی جانب سے روری برنس اور ڈوم سبلی نے اننگز کا آغاز کیا۔

پاکستان انگلینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کھانے کے وقفے کے بعد سے شروع ہونے والے کھیل میں یاسر شاہ نے برطانوی بلے بازوں پر دباؤ بڑھا رکھا ہے جبکہ انگلینڈ کے بلے باز دفاعی بیٹنگ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے شاہین شاہ آفریدی اور محمد عباس نے بولنگ کا آغاز کیا۔ انگلیڈ کے پہلے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی روری برنس کو محمد عباس نے دس رنز پر ایل بی ڈبلیو کیا۔

چوتھے دن کے آغاز پر پاکستان نے جارحانہ انداز اپنایا اور گو کہ وہ آج صبح صرف 16 گیندیں کھیل سکے لیکن اس دوران 32 رنز بٹورنے میں کامیاب ہو گئے۔

یاسر شاہ نے صورتحال کے مطابق بہترین بیٹنگ کی اور 33 رنز بنائے جس میں سٹوارٹ براڈ کو ایک زور دار چھکا بھی شامل تھے۔ وہ پاکستان کے ٹاپ سکورر بھی رہے۔

انگلینڈ کی جانب سے براڈ نے ایک بار پھر تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ بین سٹوکس نے دو کھلاڑی آؤٹ کیے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستان کو انگلینڈ پر 244 رنز کی برتری حاصل تھی جبکہ اس کی آٹھ وکٹیں گر چکی تھیں۔ اپنی دوسری اننگز میں پاکستان نے گذشتہ روز 137 رنز بنائے تھے۔

گذشتہ شب ای ایس پی این کریک انفو سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے سپن کوچ مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ امید ہے پاکستانی بیٹنگ میں ہونے والی غلطیاں پاکستان کی جیت کی کوششوں میں آڑے نہیں آئیں گی کیونکہ پاکستان کے پاس دو بہترین سپنر موجود ہیں۔

اسی طرح وسیم اکرم نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ „دیکھا! کون کہہ رہا تھا کہ پاکستان کو دو سپنرز کی ضرورت نہیں۔‘

تیسرا دن انگلینڈ کے نام رہا

انگلینڈ، پاکستان

،تصویر کا ذریعہReuters

دوسری اننگز میں برطانوی بولرز پاکستانی بلے بازوں پر حاوی رہے ہیں۔ پاکستان نے تیسرے روز اپنی دوسری اننگز کی بیٹنگ کا آغاز 107 رنز کی برتری کے ساتھ کیا تھا۔ پاکستان کے پہلے اننگز کے سکور 326 رنز کے جواب میں تیسرے روز انگلینڈ کی ٹیم 219 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔

پاکستانی بولرز میں یاسر شاہ سرفہرست رہے جنھوں نے چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ انگلش بلے باز اولی پوپ نے 62 رنز کی باری کھیلی۔ شاداب خان اور محمد عباس نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔ اس طرح پاکستان کو دوسری اننگز میں بیٹنگ سے قبل انگلینڈ پر 107 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

دوسری اننگز میں شان مسعود آؤٹ ہونے والے پہلے پاکستانی بلے باز تھے جنھیں سٹیورٹ براڈ نے کیپر جوس بٹلر کے کیچ کے ساتھ پویلین واپس بھیجا۔

جیمز اینڈرسن کی گیند پر عابد علی کا کیچ بین سٹوکس نے اس وقت ڈراپ کیا جب وہ محض 7 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔ لیکن چائے کے وقفے کے بعد عابد علی ڈوم بیس کو جارحانہ شاٹ مارنے کی کوشش میں 20 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

ان کے بعد بابر اعظم کرس ووکس کی گیند پر سلپ پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ انھوں نے محض 5 رنز کے بعد اپنی وکٹ گنوا دی۔ کپتان اظہر علی کو بھی کرس ووکس نے ہی آؤٹ کیا۔ وہ 54 گیندوں پر 18 رنز بنانے کے بعد ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

محمد رضوان

،تصویر کا ذریعہReuters

تیز رن لینے کی کوشش میں اسد شفیق 29 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں تین چوکے شامل تھے۔ بین سٹوکس نے محمد رضوان کو ایل بی ڈبلیو کیا اور 27 رنز پر ان کی باری ختم کردی۔

سٹیورٹ براڈ کی گیند پر شاداب خان 15 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔ بین سٹوکس نے شاہین آفریدی کو باؤنسر سے سرپراز دیا سلپ پر ان کا کیچ پکڑا گیا۔

اولی پوپ اپنی نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد سکور بورڈ میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن نسیم شاہ کی شارٹ پِچ گیند پر ان کی ایج لگی اور شاداب خان نے ان کا کیچ پکڑا۔ انھوں نے آٹھ چوکوں کے ساتھ 62 رنز بنائے تھے اور بٹلر کے ساتھ 65 رنز کی شراکت قائم کر تھی۔

یاسر شاہ نے لنچ کے بعد اپنے پہلے اوور میں ایک سیدھی جاتی گیند سے جوس بٹلر کو بولڈ کیا۔ بٹلر انگلینڈ کے لیے میچ میں واپسی کے لیے اہم تھے لیکن وہ صرف 38 رنز بناسکے۔

ڈوم بیس کریز پر زیادہ وقت نہ گزار سکے اور یاسر شاہ کی گھومتی گیند پر ان کا ایج لگا۔ سلپ پر موجود اسد شفیق نے ایک اچھا کیچ پکڑا۔

کرس ووکس نے دو چوکوں کو ساتھ 19 رنز بنائے لیکن یاسر شاہ کی گیند پر بولڈ ہوئے۔ شاداب خان نے اپنے دوسرے اوور میں پہلی وکٹ حاصل کی اور جوفرا آرچر کو 16 رنز پر کیچ آؤٹ کر دیا۔

اس کے بعد شاداب نے جیمز اینڈرسن کو ایل بی ڈبلیو کیا۔

دوسرے روز کے کھیل میں پاکستان کا پلڑا بھاری تھا

یاسر شاہ

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنلیگ سپنر یاسر شاہ نے 66 رنز دیتے ہوئے چار وکٹیں حاصل کیں

جمعے کو میچ کے تیسرے دن اولڈ ٹریفرڈ کے میدان پر ان دونوں بلے بازوں نے چار وکٹوں کے نقصان پر 92 رنز کے سکور سے انگلینڈ کی پہلی اننگز دوبارہ شروع کی ہے۔

میچ کا دوسرا دن انگلش بلے بازوں کے لیے زیادہ اچھا نہیں رہا تھا اور میچ میں واپسی کے لیے میزبان ٹیم کی نظریں اولی پوپ اور جوس بٹلر کی جوڑی پر ٹکی ہوئی تھیں۔ دونوں کے درمیان 65 رنز کی شراکت رہی۔

پاکستان کے اپنی پہلی اننگز میں شان مسعود کی شاندار سنچری کی بدولت 326 رنز بنائے تو جواب میں انگلینڈ کی پہلی اننگز کا آغاز تباہ کن تھا اور 12 کے سکور پر اس کی تین وکٹیں گر گئی تھیں۔

پاکستان کو پہلی کامیابی شاہین آفریدی نے دلوائی جنھوں نے پہلے ہی اوور میں روری برنز کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ دوسرے اینڈ سے محمد عباس نے پہلے ڈوم سبلی اور پھر بین سٹوکس کی اہم وکٹ لے کر میزبان کی ٹیم مشکلات اور بڑھا دیں۔

کپتان جو روٹ آؤٹ ہونے والے چوتھے بلے باز تھے جنھیں یاسر شاہ نے وکٹوں کے پیچھے کیچ کروایا۔

تاہم اولی پوپ نے پراعتماد اور جارحانہ انداز میں پاکستانی بولرز کا مقابلہ کیا اور دوسرے اینڈ پر ڈٹے رہے۔

نسیم شاہ

،تصویر کا ذریعہReuters

پاکستان کو انگلش ٹیم کی 'ٹیل' تک پہنچنے کے لیے مزید ایک وکٹ درکار ہے۔ اس میچ میں انگلینڈ کی جانب سے چھٹے نمبر پر کرس ووکس بلے بازی کرنے آئیں گے جن کی گذشتہ پانچ میچوں میں بلے بازی کی اوسط دوہرے ہندسوں میں بھی نہیں ہے۔

اس میچ میں پاکستان کی ٹیم میں دو لیگ سپنرز شاداب خان اور یاسر شاہ کو شامل کیا گیا ہے جبکہ بلے بازی کی ذمہ داری شان مسعود، عابد علی، اظہر علی، بابر اعظم، اسد شفیق اور رضوان احمد کے کاندھوں پر ہے جبکہ فاسٹ بولنگ سکواڈ شاہین آفریدی، محمد عباس اور نسیم شاہ پر مشتمل ہے۔

ادھر جو روٹ کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم میں ڈوم سبلی، روری برنز، بین سٹوکس، اولی پوپ، جوس بٹلر، کرس ووکس، ڈوم بیس، سٹیورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن پر مشتمل ہے۔

yasir shah

،تصویر کا ذریعہReuters