کراچی میں لاک ڈاؤن: رمضان میں کھیلی جانے والی کرکٹ بھی متاثر

،تصویر کا ذریعہFB/MoeenKhanAcademy
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
خیام مصطفیٰ کراچی میں ہونے والی کلب کرکٹ کے سکورر ہیں۔ وہ یہ کام پچھلے سات آٹھ سال سے کررہے ہیں لیکن رمضان کا مہینے میں ان کی مصروفیات اور آمدن دونوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اس کی ایک بڑی وجہ کراچی کی مقبول رمضان کرکٹ ہے جہاں انھیں اکثر میچوں میں سکورنگ کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے اور پیسے بھی اسی حساب سے دیے جاتے ہیں لیکن کورونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں کے باعث نہ کرکٹ ہو رہی ہے، نہ آمدن بن رہی ہے۔
خیام مصطفیٰ بتاتے ہیں کہ 15 فروری کو انھوں نے آخری مرتبہ ملٹی نیشنل کرکٹ ٹورنامنٹ کے میچ میں سکورنگ کی تھی جس کے بعد وہ گھر میں بیٹھے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عام دنوں میں ایک میچ میں سکورنگ کرنے کے انھیں 600 سے 1200 روپے ملا کرتے تھے لیکن رمضان میں یہ معاوضہ تین سے چار ہزار روپے ملتا رہا ہے اس طرح وہ رمضان کے ٹورنامنٹس سے 30، 40 ہزار روپے کما لیتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC/AbidHussain
خیام مصطفیٰ نے زندگی میں سکورنگ کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کیا ہے لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظرانھیں کوئی دوسرا ذریعہ آمدن تلاش کرنا ہو گا۔
خیام مصطفیٰ موجودہ صورتحال سے متاثر ہونے والے واحد اسکورر نہیں ہیں۔ کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے شہر کے کئی اسکوررز امپائرز اور میچ ریفریز آمدنی سے محروم ہوئے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق کراچی میں رمضان کے دوران ہونے والے تین بڑے نائٹ ٹورنامنٹس میں تقریباً 30، 35 امپائرز ذمہ داریاں نبھاتے تھے جن میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے مستند شدہ اور شہر کے انتہائی تجربہ کار بیس امپائرز ہوا کرتے تھے۔
ایک امپائر کو فی میچ چار ہزار روپے ملتے تھے اسی طرح میچ ریفری اور اسکورر کو بھی چار چار ہزار روپے دیے جاتے تھے۔
ایک امپائر پورے مہینے کے دوران بیس میچز سپروائز کرانے کی صورت میں 80 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک حاصل کر لیتا تھا۔ اسی طرح میچ ریفری اور اسکورر کو بھی رمضان میں ایک معقول رقم مل جایا کرتی تھی۔
غیررجسٹرڈ ٹورنامنٹ میں ایک امپائر کو پورے دن میں دو میچز سپروائز کرنے پر 12 سو سے 15 سو روپے معاوضہ ملا کرتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ڈیلی ویجز سب سے زیادہ متاثر
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان ان کرکٹرز، امپائرز اور اسکوررز کا ہوا ہے جو مستقل ملازمت نہیں کرتے اور ڈیلی ویجز پر کام کرتے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’جو آرگنائزز رمضان میں کرکٹ ٹورنامنٹس منعقد کرتے ہیں انھوں نے ہی ان امپائرز، اسکوررز، میچ ریفریز اور دیگر افراد کی مدد کی ہے جو یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔
’ان کے گھروں میں راشن پہنچایا گیا ہے۔ یہ ایک مشکل صورتحال ہے جس کا ہم سب سامنا کر رہے ہیں۔‘
معین خان کا کہنا ہے کہ رمضان میں کرکٹ نہ ہونے سے سب کا نقصان ہوا ہے۔ چونکہ ان کی کرکٹ اکیڈمی کا سیٹ اپ مستحکم ہے لہٰذا اکیڈمی کے کسی بھی ملازم کی تنخواہ میں کٹوتی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی تنخواہ روکی گئی ہے۔
رمضان میں ہونے والے ٹورنامنٹس
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس مرتبہ رمضان میں ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹس کے انعقاد کے لیے درکار این او سی جاری نہیں کیا تھا۔
کراچی میں رمضان کے دوران سیکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے کرکٹ ٹورنامنٹس ہوتے ہیں لیکن ایسے ٹورنامنٹس جو پاکستان کرکٹ بورڈ کی اجازت سے ہوتے ہیں ان کی تعداد محدود ہے۔
کراچی جمخانہ اور آغاخان جمخانہ میں دن کی روشنی میں رجسٹرڈ ٹورنامنٹس ہوتے ہیں جبکہ فلڈ لائٹس میں معین خان اکیڈمی، نیا ناظم آباد اور اصغرعلی شاہ سٹیڈیم بڑے ٹورنامنٹس کا مرکز ہیں۔
ان بڑے ٹورنامنٹس میں فاتح ٹیم کو تقریباً دس لاکھ روپے کی انعامی رقم ملتی ہے جبکہ تقریباً پانچ لاکھ روپے ٹورنامنٹ میں شرکت کی فیس ہوتی ہے۔ یہ وہ ٹورنامنٹس ہیں جن کے میچز ٹی وی پربھی دکھائے جاتے ہیں۔
ان ٹورنامنٹس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے قواعد و ضوابط کا خیال رکھا جاتا ہے جن میں انٹی کرپشن کا ضابطہ اخلاق بھی شامل ہے۔
ان بڑے ٹورنامنٹس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے پروٹوکول کے تحت ہر میچ میں چار امپائرز ایک میچ ریفری اور دو اسکوررز ہوتے ہیں۔
شہر میں ان بڑے ٹورنامنٹس کے علاوہ بھی کئی دوسرے ٹورنامنٹس ہوتے ہیں جو مختلف کلبوں کے گراؤنڈز پر ہوتے ہیں جو اس بار نہیں ہوسکے ہیں۔ ٹیپ بال ٹورنامنٹس ان کے علاوہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہFB/Moeen Khan Academy
کرکٹرز کا مالی نقصان
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مالک ندیم عمر نے کلب کی سطح پر دو ٹیمیں بنا رکھی ہیں جو عمر ایسوسی ایٹس اور عالمگیر جمخانہ کے نام سے رمضان کے ٹورنامنٹس میں حصہ لیتی ہیں۔ ان دونوں ٹیموں کا صرف رمضان میں ہونے والی کرکٹ کا بجٹ تقریباً ایک کروڑ روپے ہے۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مینجر اعظم خان کا کہنا ہے کہ رمضان میں ٹورنامنٹس نہ ہونے سے کرکٹرز کا مالی نقصان ہوا ہے کیونکہ ایک عام کرکٹر کو یہ میچز کھیلنے کے تقریباً ایک لاکھ روپے مل جایا کرتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ’رمضان ٹورنامنٹس میں انٹرنیشنل کرکٹرز کی بڑی تعداد بھی باقاعدگی سے کھیلتی رہی ہے اور ایک ٹیسٹ کرکٹر یہ میچز کھیل کر تقریباً پانچ لاکھ روپے حاصل کرلیا کرتا تھا۔‘
اعظم خان کا کہنا ہے کہ رمضان میں ہونے والے ٹورنامنٹس کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ ان کے ذریعے نیا ٹیلنٹ سامنے آتا تھا۔
اس سلسلے میں انھوں نے بیٹسمین عثمان خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے گذشتہ سال نیا ناظم آباد ٹورنامنٹ میں آٹھ مین آف دی میچ ایوارڈز حاصل کیے تھے جبکہ دو سال پہلے دانش عزیز نے اسی رمضان ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کی وجہ سے پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم میں جگہ بنائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہFB/MoeenKhanAcademy
کھلاڑیوں کی ِکٹس
رمضان میں ہونے والے چھوٹے بڑے ٹورنامنٹس میں شریک ٹیمیں باقاعدہ رنگین کِٹ کے ساتھ میدان میں اترتی تھیں جن پر ان ٹیموں اور کرکٹرز کے نام ہوتے تھے لیکن اس بار کرکٹ نہ ہونے کی وجہ سے کِٹ کی تیاری کا کام بری طرح متاثر ہوا ہے۔
عام طور پر آٹھ ٹیموں پر مشتمل ایک بڑے ٹورنامنٹ میں کھلاڑیوں امپائرز اور میچ ریفریز کی اچھی کوالٹی کی کِٹس کی تیاری پر تقریباً دس لاکھ روپے خرچ ہوتے تھے جبکہ چھوٹے ٹورنامنٹس میں یہ اخراجات کم تھے۔
کرکٹ کٹ تیار کرنے کے کام سے وابستہ آل حیدر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے پہلے انھیں بڑی تعداد میں کھلاڑیوں کی کٹس کی تیاری کے آرڈرز ملے تھے لیکن کرکٹ نہ ہونے کے سبب ان کے پاس اب بھی دو ہزار کٹس پڑی ہوئی ہیں۔
آل حیدر کا کہنا ہے کہ اس وقت جو صورتحال ہے اس میں کرکٹ دور کی بات ہے اس وقت تو ہر شخص لڈو اور کیرم کی بات کر رہا ہے یہ دونوں چیزیں ہی خوب فروخت ہو رہی ہیں اور کھیلی جا رہی ہیں۔
آل حیدر کا کہنا ہے کہ بڑے یونٹ تو کسی نہ کسی طرح گزارہ کر رہے ہیں لیکن چھوٹے یونٹ بالکل تباہ ہو گئے ہیں اور اس سے وابستہ افراد معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC/AbidHussain
ناظم آباد سپر کپ
کراچی میں رمضان میں ہونے والی کرکٹ ہمیشہ سے ایک فیسٹیول کی حیثیت رکھتی ہے۔ شہر کے کسی بھی گلے محلے میں چلے جائیں نوجوان کرکٹ میں مصروف نظرآتے ہیں۔
آج جب ہم شہر کے مختلف گراؤنڈز میں ہونے والے رمضان ٹورنامنٹس کا ذکر کرتے ہیں تو ناظم آباد سپر کپ کو بھلا کون بھول سکتا ہے جو کسی زمانے میں رمضان کرکٹ کی سب سے بڑی پہچان ہوا کرتا تھا۔
43 برس قبل ناظم آباد سپر کپ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کراچی والے رمضان کرکٹ کی رونقوں سے محروم ہوئے ہیں۔
پاکستان کے متعدد انٹرنیشنل کرکٹرز کی کوچنگ اور رہنمائی کرنے والے اسحق پٹیل ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے رمضان میں منظم انداز میں کرکٹ ٹورنامنٹ شروع کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا۔
اسحق پٹیل کہتے ہیں کہ کراچی کے متعدد کرکٹرز اور امپائرز جن میں خورشید اختر۔افضال احمد۔ تسلیم عارف۔ شکیل خان۔فہیم الدین علوی۔ اظہار صدیقی شبیر حسین اور وہ خود شامل تھے۔
روزانہ رات کو ناظم آباد کے علاقے میں واقع زخمی چوک پر بیٹھا کرتے تھے اور کرکٹ پر گپ شب ہوتی رہتی تھی ایک رات ان تمام افراد نے ابن سینا اور شاداب کرکٹ کلب کے میچ میں امپائرنگ اور کھیل دونوں کے معیار پر تنقید کی۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Rashid Latif
اسحاق پٹیل کہتے ہیں کہ اسی گفتگو کے دوران ایک ٹورنامنٹ رمضان میں کرانے کا فیصلہ ہوا جس کے قواعد وضوابط انہوں نے تیار کیے جبکہ اس کا نام ناظم آباد سپر کپ لیفٹ آرم اسپنر خورشید اختر مرحوم نے تجویز کیا۔
ان کے مطابق پہلا ناظم آباد سپر کپ 1977 میں شالیمار کرکٹ کلب کے گراؤنڈ میں کھیلا گیا جو ناظم آباد میں عید گاہ گراؤنڈ کے نام سے مشہور ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اس ٹورنامنٹ کی اجازت کے لیے کراچی کرکٹ ایسوسی ایشن سے رجوع کیا گیا تو اس نے اجازت دینے سے انکار کر دیا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ جو اس وقت بی سی سی پی کے نام سے تھا اس کی ایڈہاک کمیٹی کے رکن سابق ٹیسٹ کرکٹر وقارحسن کے ذریعے اجازت مل گئی اور پہلے ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں شریک ہوئیں۔
ابتدا میں یہ پچپیس اوورز کے میچز ہوتے تھے لیکن دن چھوٹے ہونے کے سبب انھیں بیس اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔
ناظم آباد سپر کپ شائقین کا سب سے مقبول ٹورنامنٹ بن چکا تھا جس میں اس دور کے تمام ہی فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹرز کھیلتے تھے اور عیدگاہ گراؤنڈ تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہوتا تھا۔
تین چار سال تک اس گراؤنڈ میں ہونے کے بعد تماشائیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر یہ ٹورنامنٹ بختیاری یوتھ سینٹر منتقل کردیا گیا تھا۔
یہ بات بھی دلچسپی کی حامل ہے کہ اوپننگ بیٹسمین سعید انور بھی ایک اسپنر کے طور پرکلب کرکٹ میں آئے تھے لیکن ناظم آباد سپر کپ میں جارحانہ بیٹنگ کر کے وہ ایک مستند بیٹسمین بن گئے تھے۔










