رمضان کرکٹ: ہمایوں سومار کے چھکے اور ندیم موسٰی کی فنگر سپن یاد ہے؟

رمضان کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جہاں رمضان کا مہنیہ شروع ہوتے ہی مساجد اور اشیائے خوردونوش کی دکانوں کی رونقیں بڑھ جاتی ہیں وہیں کھیل کے میدان بھی آباد ہو جاتے ہیں۔

رواں برس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک بھر میں کھیلوں کی سرگرمیوں پر پابندی ہے اور کراچی میں بھی روایتی رمضان نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد نہیں ہو رہے۔

گلیوں میں بلب لگا کر ہونے والے میچوں سے میدان میں مصنوعی روشنیوں میں کھیلے جانے والے مقابلوں تک رمضان میں یہ کرکٹ میچ کراچی کی روایت کا حصہ رہے ہیں اور ان مقابلوں کا ذکر ہو تو ذہن میں سنہ 1970 اور سنہ 1980 کے عشرے کے دو ایسے مقامی کرکٹرز کے نام یاد آتے ہیں جو اُس دور میں کراچی کی رمضان کرکٹ کے بلا شرکت غیرے سپر سٹارز ہوا کرتے تھے۔

ان میں سے ایک کی طاقت اس کے بازؤوں میں تھی تو دوسرے کا ہنر اس کی انگلیوں میں پوشیدہ تھا۔

فاسٹ بولرز کا دشمن

ہمایوں سومار تو فاسٹ بولرز کے دشمن تھے۔

انھوں نے جارحانہ بلے بازی سے شائقین کو اپنا گرویدہ بنا رکھا تھا اور خاص کر رمضان میں ہونے والے مشہور ٹورنامنٹ ناظم آباد سپر کپ میں ان کے چھکے لوگ آج بھی نہیں بھولے ہیں۔

ہمایوں سومار ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں ’میں ابتدا میں جارحانہ بیٹنگ نہیں کرتا تھا۔ مجھے اسلم سنجرانی نے کراچی جمخانہ کے ایک میچ میں کھیلنے کا موقع دیا لیکن میں دس اوورز میں صرف ایک رن بنا سکا جس پر اسلم سنجرانی نے ناراض ہو کر پروفیسر سراج الاسلام بخاری سے کہا کہ آپ نے ہمیں یہ کیا دے دیا ہے۔ اس میچ کے بعد مجھے احساس ہوا کہ مجھے اپنے کھیل کا انداز بدلنا ہو گا‘۔

ہمایوں سومار کا دایاں پیر پولیو سے متاثر تھا تو کیا یہی وجہ تھی وہ میدان میں دوڑ کر رن بنانے کی بجائے چوکوں اور چھکوں کی بارش کرتے تھے؟

ہمایوں سومار

،تصویر کا ذریعہHumayun Soomar

،تصویر کا کیپشنہمایوں کو اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ زیادہ نہیں کھیل سکے

اس سوال پر ان کا کہنا تھا ’میرے دائیں پیر میں خون کی روانی کم تھی۔ والدین نے ہر ممکن علاج کرایا لیکن وہ ٹھیک نہ ہو سکا تاہم میں نے اسے اپنے کھیل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ میں نارمل طریقے سے فیلڈنگ بھی کرتا تھا لیکن مجھے جارحانہ بیٹنگ میں مزا آتا تھا اور یہی بیٹنگ شائقین کو بھی پسند تھی لہٰذا میں ان کی خواہش پوری کرنے کے لیے چوکے چھکے لگاتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یاد ہے کہ ایک میچ کے دوران دو لڑکے میرے پاس آئے اور کہا کہ ہم لانڈھی سے دو بسیں تبدیل کر کے صرف آپ کی بیٹنگ دیکھنے آئے ہیں۔ میں جب جلد آؤٹ ہوتا تو مجھے شائقین کے لیے افسوس ہوتا تھا کیونکہ وہ میری بیٹنگ کا انداز پسند کرتے تھے اور وہی دیکھنے آتے تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

ہمایوں سومار نے اپنی اس بیٹنگ میں نت نئے شاٹس بھی متعارف کروائے۔ ’آج دنیا تلکارتنے دلشن کے جس سکُوپ کو دیکھ رہی ہے اس سے ملتا جلتا شاٹ میں اس دور میں کھیلتا تھا جس میں آف سٹمپ کی گیند کو لیگ سائیڈ پر ڈِفلیکٹ کر دیتا تھا، فاسٹ بولرز کو آرام سے کھیل لیتا تھا اسی لیے حریف کپتان کی کوشش ہوتی تھی کہ میرے سامنے سپنرز کو لائیں۔‘

ہمایوں سومار نے کئی بڑی اننگز کھیلیں تاہم انھیں اپنی دو اننگز آج تک یاد ہیں۔

’میں نے جہانگیر ویسٹ کلب کی طرف سے سنگم سپورٹس کے خلاف ناظم آباد سپر کپ میں صرف دس اوورز میں سنچری بنائی تھی اور ہماری ٹیم نے 250 رنز کا ہدف عبور کیا تھا۔ ایک اور اننگز جس پر کسی کی نظرنہیں پڑی وہ میں نے این ای ڈی یونیورسٹی کی طرف سے پنجاب یونیورسٹی کے خلاف نیاز سٹیڈیم حیدرآباد میں کھیلی تھی جس میں کھانے کے وقفے سے پہلے ہی میں نے 149 رنز بنا لیے تھے۔‘

ہمایوں سومار

،تصویر کا ذریعہHumayun Soomar

،تصویر کا کیپشنہمایوں سومار کی پہچان اب برِج کا کھیل ہے اور وہ برج کی عالمی چیمپیئن شپ برمودا باؤل میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں

ہمایوں کو اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ زیادہ نہیں کھیل سکے۔ ’میں اپنے شوق کی خاطر کرکٹ کھیلتا تھا۔ مجھے اپنے دائیں پیر کے ہینڈی کیپ ہونے کا بھی بخوبی اندازہ تھا اسی لیے میں نے کبھی بھی کرکٹ کو اپنا کریئر بنانے کا نہیں سوچا اور اسی وجہ سے میری فرسٹ کلاس کرکٹ بھی چند میچوں تک محدود رہی۔‘

ہمایوں سومار انجینئرنگ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دبئی چلے گئے اور وہیں کے ہو گئے۔

’مجھے اے جے سپورٹس کے علی انور جعفری متحدہ عرب امارات لائے تھے۔ دراصل عبدالرحمن بخاطر چاہتے تھے کہ میں وہاں کرکٹ کھیلوں اور انھوں نے مجھے واپس جانے نہیں دیا۔‘

ہمایوں سومار اب گذشتہ 35 برس سے دبئی میں مقیم ہیں۔ کرکٹ سے ان کا تعلق اب بھی قائم ہے، بین الاقوامی میچوں پر نظر رکھتے ہیں لیکن اب کی پہچان برِج کا کھیل ہے۔ وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ باقاعدگی سے برج کھیلتے رہے ہیں اور برج کی عالمی چیمپیئن شپ برمودا باؤل میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔

بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچانے والے ندیم موسٰی

ستّر اور اسّی کے عشرے میں جہاں ایک جانب ہمایوں سومار کا طوطی بول رہا تھا تو دوسری جانب لیفٹ آرم سلو بولر ندیم موسٰی ایک منفرد فنگر سپنر کے روپ میں سامنے آئے تھے۔

اس دور کی کراچی کی کلب میں یوں تو کچھ اچھے فنگر سپنرز موجود تھے لیکن ندیم موسٰی ان سب میں باکمال تھے۔

ندیم موسیٰ

،تصویر کا ذریعہNADEEM MUSA

،تصویر کا کیپشنلیفٹ آرم سلو بولر ندیم موسٰی کراچی کی کلب کرکٹ میں ایک منفرد فنگر سپنر کے روپ میں سامنے آئے

ندیم موسٰی کلب کرکٹ میں شہریار سپورٹس کی نمائندگی کرتے تھے۔ اس زمانے میں وہ کلب کرکٹ کی بہت بڑی ڈیمانڈ تھے۔ ایک لحاظ سے وہ کلب کرکٹ میں پروفیشنل کرکٹر تھے جنھیں دوسرے شہروں کے کلبوں کی ٹیمیں بھی مدعو کیا کرتی تھیں اور وہ انھیں ٹرافی جتوا کر آیا کرتے تھے۔

ندیم موسٰی گذشتہ چھ سال سے امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں مقیم ہیں۔ اس دور کی کرکٹ کی بھولی بسری یادیں ان کا قیمتی سرمایہ ہیں جنھیں بیان کر کے وہ پرجوش ہو جاتے ہیں۔

سپن بولنگ کے آغاز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا پس منظر خاصا دلچسپ ہے۔ میں اور میرا دوست مبین خان سروری جو کاؤڈرے کے نام سے مشہور تھا کلب کرکٹ کھیلتے تھے۔ ایک دن ہم نے سوچا کہ کوئی ایسی گیند متعارف کی جائے جو بیٹسمینوں کی سمجھ سے باہر ہو۔‘

’اسی سوچ میں ہم نے ناظم آباد میں گول مارکیٹ کے قریب ایک خالی پلاٹ پر ٹینس گیند کو دونوں انگلیوں میں دبا کر سپن کی خوب پریکٹس شروع کر دی۔ گیند حیرت انگیز طور پر وکٹ کے دونوں جانب تیزی سے بریک ہوتی تھی۔

’جب ہم دونوں نے اس میں مہارت حاصل کر لی تو پھر اس ہتھیار کو کلب میچوں میں استعمال کرنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ انداز ہم دونوں کا ٹریڈ مارک بن گیا۔ جب میں فنگر سپن کرتا تھا تو بیٹسمین کو اندازہ ہی نہیں ہوتا تھا کہ یہ گیند لیگ بریک ہو گی یا آف بریک۔‘

ندیم موسیٰ

،تصویر کا ذریعہNADEEM MUSA

،تصویر کا کیپشنندیم موسٰی گذشتہ چھ سال سے امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں مقیم ہیں

اس دور کو یاد کرتے ہوئے ندیم موسیٰ کا کہنا تھا ’میں اس فنگر سپن کے بل پر کلب کرکٹ کا ایک ایسا کامیاب بولر بن گیا اور اتنی کرکٹ کھیلنے لگا کہ کئی بار ایسا ہوا کہ میں صبح فجر پڑھ کر میچ کھیلنے گھر سے نکلتا تھا اور دو تین دن کے بعد واپس آتا تھا۔

’رمضان کے مہینے میں میری کرکٹ میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا تھا۔ اس زمانے میں معاوضوں کا تصور زیادہ نہیں تھا۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میچ کھیلنے کے 30 روپے یومیہ ملتے تھے البتہ جو کلب مجھے کھلایا کرتے تھے وہ خوب دعوتیں کرتی تھیں۔ وہ کہتے تھے آپ کی دعوت پکی ہے بس میچ جتوا دیں۔‘

ندیم موسی کے مطابق ’1980 کی دہائی کے اواخر میں ٹینس بال پر ٹیپ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہوا جس کا مقصد فنگر سپن کا توڑ نکالنا تھا لیکن میں نے اس توڑ کا بھی توڑ نکال لیا تھا اور ٹیپ بال کو اپنی ایڑی سے کچھ دیر دبا کر اسے کسی حد تک نرم کر لیتا تھا تاکہ گیند انگلیوں کی گرفت میں رہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنا فن دیگر کھلاڑیوں میں بھی منتقل کیا۔ ’میں نے فنگر سپن کا فن کسی سے چھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس دور میں آٹھ، دس بولرز ایسے تھے جنھیں میں نے یہ فن سکھایا۔‘

نوٹ: یہ تحریر اس سے سنہ 2020 میں ماہِ رمضان میں شائع کی گئی تھی اور آج اسے قارئین کی دلچسپی کے سبب دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔