کورونا اور کرکٹ: دی 100 ٹورنامنٹ کا انعقاد موجودہ حالات میں کیسے ممکن ہے؟

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے گذشتہ سال بڑے زوروشور سے اپنے کرکٹ سیزن میں ایک نئے ٹورنامنٹ کے انعقاد کا اعلان کیا تھا جسے ’دی 100‘ کا نام دیا گیا تھا۔

یہ ٹورنامنٹ اس سال 17 جولائی سے 15 اگست کے درمیان منعقد ہونا ہے، لیکن کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس ٹورنامنٹ پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ٹام ہیریسن کے نزدیک ان حالات میں ’دی 100‘ ایک اہم ٹورنامنٹ بن چکا ہے تاہم اس ٹورنامنٹ کے مستقبل کا فیصلہ بدھ کے روز ہونے والے ایک اجلاس میں متوقع ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے گذشتہ ہفتے یہ اعلان کیا کہ 2020 کے انگلش کرکٹ سیزن کا آغاز یکم جولائی تک مؤخر کر دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی ٹیسٹ سیریز بھی ملتوی ہو چکی ہے۔

ایسے میں یہ سوال بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا ’دی 100‘ کا انعقاد ممکن ہو سکے گا اور اگر ہو سکے گا تو کس شکل میں؟

یہ بھی پڑھیے

صحت عامہ کی بندشیں

غیر ملکی کرکٹرز کو انگلینڈ لانے کے مسائل اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ صورتحال میں مالی اخراجات وہ پہلو ہیں جو ’دی 100‘ کے انعقاد کے ضمن میں غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

ٹام ہیریسن کا کہنا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ صورتحال کا دی 100 پر کتنا اثر پڑے گا۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

دی 100 ٹورنامنٹ کو دیکھنے والوں کی غیرمعمولی تعداد اور دلچسپی کے تناظرمیں ایک ُپرکشش ایونٹ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے لیکن انگلینڈ کے کرکٹ حلقوں میں اس کی مخالفت میں بھی آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور کہا جاتا رہا ہے کہ مصروف انگلش کرکٹ سیزن میں کسی نئے فارمیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

دی 100 کی مخالفت کرنے والوں کا خیال یہ ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ جو کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا وہ پہلے سے موجود ٹی 20 بلاسٹ کی زیادہ بہتر انداز میں حمایت کر کے حاصل کر سکتا تھا۔

ٹام ہیریسن موجودہ صورتحال میں دی 100 کی اہمیت کم ہونے کے تاثر سے اتفاق نہیں کرتے۔

شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پہلے ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ پہلے پانچ سیزن میں یہ فارمیٹ منافع بخش ثابت نہیں ہو گا لیکن اس کا یہ بھی خیال ہے کہ طویل مدتی منصوبہ بندی میں یہ ٹورنامنٹ منافع بخش ہو گا۔

دی 100 ٹورنامنٹ کے پہلے سیزن میں 58 ملین پاؤنڈ کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ آمدنی 51 ملین پاؤنڈ بتائی گئی ہے۔

دی 100 ٹورنامنٹ کیا ہے؟

دی 100 دراصل ایک نئے فارمیٹ کے تحت کھیلا جانے والا ٹورنامنٹ ہے جو انگلینڈ کی 18 کاؤنٹی ٹیموں کے برعکس آٹھ فرنچائز ٹیموں کی بنیاد پر ہو گا۔ خواتین کا ٹورنامنٹ علیحدہ ہو گا۔

گذشتہ سال اس ٹورنامنٹ کی ڈرافٹنگ ہوئی تھی جس میں تمام ٹیموں نے مجموعی طور پر 96 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا تھا جن میں غیرملکی کھلاڑی بھی شامل ہیں۔

افغانستان کے لیگ سپنر راشد خان وہ پہلے کرکٹر تھے جنھیں ٹرینٹ راکٹ نے ایک لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ کے عوض حاصل کیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے دیگر قابل ذکر غیربرطانوی کرکٹرز میں آندرے رسل، کرس گیل، سٹیو سمتھ، ڈیوڈ وارنر، کین ولیم سن، گلین میکسویل، عمران طاہر، لستھ مالنگا، سنیل نارائن اور مچل سٹارک شامل ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

پاکستان کے صرف تین کھلاڑی

دی 100 کی ڈرافٹنگ میں پاکستان کے صرف تین کرکٹرز محمد عامر، شاہین شاہ آفریدی اور شاداب خان کا انتخاب عمل میں آیا تھا۔ محمد عامر کو ایک لاکھ پاؤنڈ کے عوض لندن سپرٹ نے حاصل کیا۔ شاہین شاہ آفریدی 60 ہزار پاؤنڈ کے عوض برمنگھم فینکس میں شامل ہوئے جبکہ شاداب خان 75 ہزار پاؤنڈ کے عوض سدرن بریو کا حصہ بنے ہیں۔

یہ ٹورنامنٹ کیسے کھیلا جائے گا؟

  • دی 100 میں ہر ٹیم کی اننگز 100 گیندوں پر مشتمل ہو گی۔
  • 10 گیندوں کے بعد اینڈ تبدیل ہو گا۔
  • ایک بولرکو میچ میں 20 گیندیں کرانے کی اجازت ہو گی۔
  • ایک بولر لگاتار پانچ یا 10 گیندیں کرا سکتا ہے۔
  • ہر ٹیم کو 25 گیندوں کا پاور پلے سٹارٹ ملے گا۔
  • پاور پلے میں دو فیلڈرز کو 30 گز کے دائرے سے باہر کھڑے رہنے کی اجازت ہو گی۔
  • بولنگ سائیڈ ڈھائی منٹ کا سٹریٹجک ٹائم آؤٹ لے سکتی ہے۔