پاکستان سپر لیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل: برطانیہ کی عدالت نے سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید کو 17 ماہ قید کی سزا سنا دی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی ایک عدالت نے سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید کو پاکستان سپر لیگ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں مجرم قرار دیتے ہوئے 17 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی میں اس حوالے سے ہونے والی تفتیش کے بعد سابق پاکستانی بلے باز ناصر جمشید کو گذشتہ برس فروری میں گرفتار کیا گیا تھا۔
گذشتہ سال دسمبر میں نیشنل کرائم ایجنسی نے تصدیق کی تھی کہ سابق پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید نے بین الاقوامی کرکٹ میچوں پر اثر انداز ہونے کے لیے پیشہ ور کرکٹرز کو رشوت دینے کا اعتراف کر لیا ہے۔
ویسٹ مڈلینڈز کے علاقے اولڈ بری میں رہائش پذیر 32 سالہ پاکستانی کرکٹر ناصر جمشید نے نو دسمبر کو مانچسٹر کراؤن کورٹ میں رشوت دینے کی سازش کے جرم کا اعتراف کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے علاوہ دو افراد جو اس جرم میں ان کے ساتھ شریک تھے ان میں مغربی لندن سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ برطانوی شہری یوسف انور کو 40 ماہ قید جبکہ شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ محمد اعجاز کو 30 ماہ قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
ان دونوں افراد نے بھی دو دسمبر کو اس سازش میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے کا اعتراف کیا تھا۔
مانچسٹر کراؤن کورٹ کے جج رچرڈ مینسل کا سزائیں سناتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ان جرائم کا سب سے بھیانک نتیجہ کھیلوں کی سالمیت پر عوام کے اعتماد کو مجروع کرنا ہے، نہ صرف انفرادی میچ جو اس سے براہ راست متاثر ہوا بلکہ اجتماعی سطح پر کرکٹ کا کھیل۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے انسداد کرپشن یونٹ کی اس حوالے تحقیقات کے بعد ناصر جمشید پر 10 برس تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
اس سے قبل برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق ایجنسی نے ایک انڈرکور افسر کو استعمال کرتے ہوئے یہ پتا لگایا کہ تین افراد کا یہ گروہ سنہ 2016 میں بنگلہ دیش پریمیر لیگ ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے میچوں کو فکس کرنے کی سازش کر رہا تھا۔ یاد رہے کہ ناصر جمشید کو اس ٹورنامنٹ میں بطور کرکٹر کھیلنا تھا۔
نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق انور اور اعجاز نے ایک ایسا نظام تیار کیا جس کے ذریعے وہ ایک پیشہ ور کھلاڑی کی نشاندہی کریں گے جو طے شدہ فکس میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ کھلاڑی میچ کے آغاز پر ہی اشارہ دے گا جو اس بات کی تصدیق ہو گی کہ میچ کا ایک مختص حصہ فکس ہو چکا ہے۔
عمومی طور پر فی فِکس وہ 30 ہزار برطانوی پاؤنڈ چارج کرتے جس کا آدھا حصہ کھلاڑی وصول کرتا۔
اس کے ایک سال بعد اس تین رکنی گروپ نے دبئی میں کھیلی جانے والی پاکستان سپر لیگ کو فکس کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق فروری 2017 میں انور دوسرے پیشہ ور کرکٹرز سے ملنے کے لیے دبئی گئے۔ ان کرکٹرز میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی خالد لطیف اور شرجیل خان بھی شامل تھے۔ یہ دونوں کھلاڑی کھیل کے مختص حصے کو فکس کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر رضامند ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سے قبل سی سی ٹی وی کیمرے میں یہ مناظر دیکھے گئے کہ انور سینٹ ایلبنز میں ایک بڑے سٹور سے 28 کرکٹ بیٹ جس پر مختلف رنگوں کی ہینڈل گرپس لگی ہوئی تھیں خریدتے ہیں اور ان کرکٹ بیٹس کو وصول کرنے والے کے طور پر اعجاز کا نام اور پتہ دیا گیا۔
یہ بلے بعد ازاں مختلف کرکٹرز نے یہ اشارے دینے کے لیے استعمال کیے کہ میچ میں فِکس جاری ہے۔
نو فروری 2017 کو دبئی میں اسلام آباد یونائیٹڈ اور پشاور زلمی کے مابین میچ کھیلا گیا۔
اگرچہ خالد لطیف نے ابتدائی طور پر فِکس کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی مگر یہ شرجیل خان تھے جو کریز پر پہلے سے متفقہ اشارہ دیتے ہوئے پہنچے۔
اس کے بعد شرجیل خان کے پہلے سے متفقہ فِکس پر عملدرآمد کیا، یعنی انھوں نے دوسرے اوور کی پہلی دو گیندوں پر کوئی رن نہیں لیا اور ’ڈاٹ بالز‘ کھیلے۔ اور اسی اوور کی تیسری ہی گیند پر وہ صفر کے سکور پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔
13 فروری 2017 کو نیشنل کرائم ایجنسی نے ناصر جمشید کو ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا جبکہ انور کو ہیتھرو ایئرپورٹ پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ دبئی سے واپس آ رہے تھے۔ اعجاز کو شیفیلڈ میں واقع ان کے گھر سے دس روز بعد گرفتار کیا گیا۔
نیشنل کرائم ایجنسی کے سینیئر تفتیشی افسر آئن میک کونل کے مطابق ان افراد نے پیشہ وارانہ اور بین الاقوامی کرکٹ تک اپنی رسائی کا غلط استعمال کیا اور اس کے ذریعے انھوں نے کھیل کو بدعنوان کیا اور مالی فائدے کے لیے عوامی اعتماد کو دھچکا لگایا۔












