تعاون نہ کرنے پر کرکٹر ناصر جمشید پر ایک سال کی پابندی عائد

،تصویر کا ذریعہGallo Images
پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے کرکٹر ناصر جمشید پر سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر ایک سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔
پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ ناصر جمشید کو متعدد بار ٹریبونل نے طلب کیا اور یہاں تک کہ انہیں یہ پیشکش بھی کی گئی کہ اگر وہ لاہور نہیں آسکتے تو ان کا بیان لندن میں بھی ریکارڈ ہو سکتا ہے لیکن انھوں نے اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بارے میں مزید پڑھیے
بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکورکے مطابق تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ ناصر جمشید پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے ضابطہ اخلاق کی دو شقوں کی خلاف ورزی کے الزامات تھے جن میں ایک عدم تعاون اور دوسرا تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنا اور فی الحال ان پر عدم تعاون کاالزام ثابت ہوا ہے اس لیے ان پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ چونکہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ناصر جمشید کی دوسرے کھلاڑیوں کے ساتھ گفتگو ریکارڈ پر ہے لہذا ٹریبونل ان پر مزید شقیں بھی عائد کرسکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تفضل حیدر رضوی کا کہنا تھا کہ ناصر جمشید کا پاسپورٹ برطانوی کرائم ایجنسی کی تحویل میں ہے اور وہ ضمانت پر ہیں۔
یاد رہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ملوث دو کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف پر پہلے ہی پانچ پانچ سال کی پابندی عائد کی جاچکی ہے جبکہ محمد عرفان پر ایک سالہ پابندی عائد کی گئی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کہتا آیا ہے کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں ناصرجمشید کا اہم کردار رہا ہے اور انہی کی وساطت سے شرجیل خان اور خالد لطیف نے یوسف انور نامی شخص سے ملاقات کی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اچھی ساکھ کا حامل شخص نہیں ہے۔










