ہنزہ میں آئس سکیٹنگ کرنے والی ملاک فیصل: ’آدھ انچ کے سٹیل پر گھومنا آسان نہیں‘

- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
چند روز پہلے پاکستان کے شمالی علاقے ہنزہ میں نہایت مہارت سے برف پر فِگر آئس سکیٹنگ کا مظاہرہ کرتی جس ننھی لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی وہ ملاک فیصل ہیں۔
ملاک فیصل نے دو ماہ پہلے آسٹریا میں فگر سکیٹنگ کے بین الاقوامی مقابلے میں 23 کھلاڑیوں کو شکست دے کر پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔
ملاک سے ملاقات کا موقع اس ویڈیو کو دیکھنے کے دو روز بعد ملا۔
یہ بھی پڑھیے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
ان کے والد کا تعلق پاکستان سے جبکہ والدہ کا لبیا سے ہے مگر یہ خاندان کام کے سلسلے میں دوبئی میں مقیم ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملاک جنھیں ونٹر سپورٹ ایسوسی ایشن آف گلگت بلتستان اور ایڈوینچر ٹورازم گروپ آف پی ٹی ڈی سی نے پاکستان میں آنے کی دعوت دی، کہتی ہیں کہ میں تیسری مرتبہ پاکستان آئی ہوں۔
’پہلی بار پاکستان آنے سے پہلے میں نے گوگل پر پاکستان کا نام لکھا اور شمالی علاقوں کی برف سے ڈھکی تصاویر دیکھیں تو مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ پاکستان ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہFAISAL
ملاک کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلی شخصیت ہیں جنھوں نے پاکستان میں فِگر آئس سکیٹنگ کو متعارف کروایاہے۔
12 سالہ ملاک نے اپنی زندگی کے آٹھ سال فگِر سکیٹنگ کرتے گزارے ہیں۔ بھلے دن کا آغاز ہو یا اختتام، سکیٹنگ ساتھ ساتھ چلتی ہے لیکن یہ نہیں کہ وہ پڑھائی میں کسی سے پیچھے ہیں۔ ہر سبجیکٹ میں اے لے کر وہ اپنی کلاس کے ذہین بچوں میں سے ایک ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’والد والدہ دونوں سکیٹنگ کرتے تھے میں نے بھی کی مجھے یہ کرنا بہت اچھا لگا شروع میں یہ بطور مشغلہ تھا پھر میں نے اسے ذرا پروفیشنل انداز میں لیا اور پانچ سال کی عمر میں، میں نے پہلا گولڈ میڈل ابوظہبی میں ایک مقابلے میں جیتا۔‘
’میرے والدین اس کے لیے مجھے ہر سہولت دیتے ہیں اور میری مدد کرتے ہیں۔‘
چھٹی جماعت کی طالبہ ملاک کہتی ہیں ’شروع میں تعلیم اور سکیٹنگ کو ساتھ ساتھ چلانا کسی چیلینج سے کم نہیں تھا۔ مشکل ہوتی تھی لیکن پھر جب میں نے ٹائم کو مینیج کیا تو سب ٹھیک ہوتا گیا۔‘
’میں ایک ہفتے میں تقریباً 20 گھنٹے سکیٹنگ کی ٹریننگ کرتی ہوں۔ روزانہ برف پر اور برف کے باہر تین سے چار گھٹنے ٹریننگ کرتی ہوں۔‘
ملاک کہتی ہیں کہ آدھ انچ کے بلیڈ پر مسلسل پھسلتے رہنا آسان نہیں ہوتا یہ واقعی بہت مشکل ہوتا ہے۔
’بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ فگر سکیٹنگ بہت آسان ہے۔ یا آپ بہت سے جمپ لگا سکتے ہیں اس میں ایک خاص لیول تک پہنچ کہ آپ جمپ لگا سکیں سپِن (گھوم) سکیں اس کے لیے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔اس میں توازن قائم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ خاص طور پر ایک پاؤں پر آپ ادھر ادھر گھوم رہے ہوتے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا ’میری کوچ کا نام لودا ہے وہ بہت اچھی کوچنگ کرتی ہیں میری والدہ بھی میری کوچنگ کرتی ہیں خاص طور پر میرے مقابلے سے پہلے وہ مجھے ذہنی طور پر تیار ہونے میں مدد کرتی ہیں۔‘
’اسی طرح میرا سکول بھی میری بہت مدد کرتا ہے مجھ سے تعاون کرتا ہے۔‘
’اس وقت بہت مشکل ہوتا ہے جب درمیان میں میرے پیپر ہوتے ہیں۔ کیونکہ آپ کو سکیٹنگ کرنی ہوتی ہے۔ میں ایسا کرتی ہوں کہ میں سکیٹنگ کے دوران سکول کے بارے میں کسی بھی چیز کے بارے میں نہیں سوچتی کیونکہ اگر ایسا ہو تو آپ سوچتے ہیں مجھے یہ بھی کرنا ہے، وہ بھی کرنا ہے تو آپ توجہ مرکوز نہیں کر سکتے۔ اس لیے سکیٹنگ کے بعد میں پڑھتی ہوں اور پیپر دیتی ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہFAISAL
لیکن مستقبل کے بارے میں کیا پلان ہے؟
اس سوال کے جواب میں ملاک نے بتایا کہ ان کے خیال میں سکیٹنگ کوچ بننا ان کا دوسرا آپشن ہوگا وہ بطور کریئر شاید انجینئیر بنیں اور اس کے علاوہ انھیں آرٹ پسند ہے۔
ابھی ملاک سپین کے ایک کیمپ سے وابستہ ہیں۔ لیکن وہ یہ خواہش رکھتی ہیں کہ وہ پاکستان کی ترجمانی بین الاقوامی سطح پر کریں اور پاکستان کا جھنڈا لہرائیں لیکن ان کی یہ خواہش ابھی پوری نہیں ہو سکی اس کی وجہ پاکستان میں ٹیلنٹ کے باوجود اس کھیل پر توجہ نہ ہونا اور اس کی باضابطہ فیڈریشن کا نہ ہونا ہے۔
ملاک کہتی ہیں کہ ان کی والدہ اور والد نے یہاں پاکستان میں تینوں دوروں کے دوران کیمپ لگائے۔ بچوں اور نوجوانوں کو کوچنگ بھی کی اور ساتھ ہی خود ملاک نے بھی سکیٹنگ کی۔

،تصویر کا ذریعہFAISAL
وہ بتاتی ہیں کہ پہلی بار میں نلتر آئی تھی، پھر دوسری مرتبہ کراچی اور اب اس بار مالم جبہ، ہنزہ اور گلگت بلتستان گئی۔
’پاکستان واقعی بہت خوبصورت ہے۔ یہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں انھوں نے میرے کام میں میری بہت مدد کی۔‘
ان کے خیال میں پاکستان میں بہت صلاحیت ہے خاص طور پر شمالی علاقوں میں موجود لڑکیوں اور لڑکوں میں سکیٹنک آئس ہاکی کے لیے بہت ٹیلنٹ ہے۔
’میں سمجھتی ہوں کہ پاکستان میں موجود سکیٹرز خاص طور پر شمالی علاقوں میں بہت صلاحیت ہے کہ وہ چھوٹے اور بڑے مقابلوں میں حصہ لے سکیں، یقیناً انھیں بہت زیادہ ٹریننگ کی ضرورت ہوگی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ دوبئی کے مال میں مصنوعی گراؤنڈ پر آئس سکیٹنگ کرنا اور یہاں باہر حقیقی برف میں سکیٹنگ کرنا بہت مختلف تھا اور انھیں بہت اچھا لگا۔
وہ پاکستان کے ان تمام اداروں کی شکرگزار ہیں جنھوں نے انھیں یہاں آنے کی دعوت دی۔

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/FAISAL
اکلوتی ہونے کے ناطے بظاہر ملاک کو والدین کی بھر پور توجہ حاصل ہے لیکن بات کرنے اور اگر کسی سوال کا جواب مکمل معلوم نہیں تھا تو والدین سے مکمل معلومات لینے میں وہ اپنی عمر سے بہت آگے دکھائی دیں۔
میں نے پوچھا کہ کامیابی کیسی لگتی ہے اور جب ناکام ہو جائیں تو کیا سوچتی ہیں؟
تو ان کا جواب تھا مجھے اور میرے والدین کو مجھ پر بہت فخر ہے۔
’بہت اچھا لگتا ہے جب آپ جیت جاتے ہیں۔ بہت خوشی ہوتی ہے۔ آپ دوسروں سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں، کھیل رہے ہوتے ہیں تو دباؤ میں ہوتے ہیں لیکن جیت کے بعد دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ اور جب ہار جائیں تو آپ سوچتے ہیں کہ آپ کچھ بہتر بھی کر سکتے تھے۔ آپ نے اپنے دوستوں کو مایوس کیا ہے لیکن میں آگے بڑھتی ہوں اور اسے ایک طرف کر دیتی ہوں اور سکیٹنگ کو بہتر کرنے کے لیے نئی چیزوں پر کام کرتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اگلے مقابلے میں جیت جاؤں گی۔‘

آخر میں انھوں نے کہا کہ میں ایک پیغام دینا چاہتی ہوں کہ آپ کوئی بھی کھیل کھیل رہے ہوں محنت کریں اور اپنے مقصد کو حاصل کریں ہار نہ مانیں۔
جب کے ان کے والدین کا کہنا تھا’ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان میں ہمارا اتنا اچھا استقبال ہوا لیکن سوشل میڈیا پر کچھ تنقید بھی دیکھنے کو ملی۔ ہم یہی کہیں گے کہ اپنی بیٹیوں کو بھی آگے بڑھنے کا موقع دیں ان کا ٹیلنٹ ضائع نہ کریں۔‘










