’پاکستان کو فخر ہونا چاہیے کہ ایک نوجوان لڑکی نے اتنا بڑا کام کیا ہے‘

- مصنف, صبا ناز
- عہدہ, اسلام آباد
دنیا کی سب سے لمبی کامک سٹرپ بنانے کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے والی پاکستانی نوجوان عنیزہ علی برلاس کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوچا تھا کہ وہ یہ ریکارڈ توڑ کر با آسانی پاکستان کا نام روشن کر سکتی ہیں۔
عنیزہ کی جانب سے بنائی گئی کامک سٹرِپ 877 فٹ لمبی ہے۔ اسے مکمل کرنے میں انہیں ایک سال کا وقت لگا ۔اس کامیابی پر انہیں گینیز ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے لمبائی کی تصدیق کے بعد سرٹیفیکیٹ بھی دیا گیا ہے۔
عنیزہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایونٹ جس میں اُن کی طویل کامک پٹی کی نمائش ہوئی، 12 مارچ کو لاہور میں منعقد ہوا تھا۔ تین ہفتے قبل انہیں گینیز کی جانب سے ای میل موصول ہوئی جس میں انہیں سرٹیفیکیٹ وصول کرنے کے لیے اطلاع دی گئی تھی۔
عنیزہ کی عمر 20 برس ہے اور اُن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے کارٹون بنانا دو سال کی عمر میں شروع کر دیا تھا۔ وقت نے اُن کے ہنر میں نکھار پیدا کر دیا اور اینیمیشن کی جانب اُن کی توجہ مزید بڑھ گئی۔

عنیزہ کے مطابق اس سے پہلے دنیا کی طویل ترین کامک سٹرپ بنانے کا ریکارڈ ایک انڈین آرٹسٹ سوہاس پالیکر کے نام تھا۔ اُن کی بنائی گئی کامک سٹرِپ کی لمبائی 191.31 میٹر تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جب یہ گینیز ورلڈ ریکارڈ میری نظر سے گزرا تو میں نے سوچا کہ میں اس کیٹگری میں با آسانی پاکستان کا نام روشن کر سکتی ہوں‘۔
عنیزہ نے بی بی سی کو گینیز تک رسائی کے طریقہ کار سے بھی آگاہ کیا۔
’اگر گینیز میں کوئی ورلڈ ریکارڈ پہلے سے قائم ہو تو اس کے لیے گینیز کو ایک درخواست دینی پڑتی ہے جس میں انہیں مطلع کیا جاتا ہے کہ میں یہ ورلڈ ریکارڈ توڑنے کی کوشش کرنے جا رہا ہوں۔ میں نے بھی پہلے گینیز کو ایسی ہی درخواست دی جس کی منظوری کے بعد میں نے کام شروع کیا اور کامیابی کے بعد ایک بار پھر انہیں مطلع کیا تاکہ سٹرِپ کے مشاہدے اور تصدیق کے بعد ریکارڈ اپ ڈیٹ کیا جا سکے۔‘
اُن کا مزید کہنا ہے کہ انہوں نے سٹرِپ گینیز کے قوانین کے عین مطابق مکمل کی تاکہ اسے مسترد کیے جانے کا کوئی امکان نہ رہے۔

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے سربراہ اور معروف مصور جمال شاہ کا کہنا ہے کہ یہ کارنامہ گینیز بک ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے اور پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی جانب سے عنیزہ کو سرٹیفیکیٹ بھی دیا گیا ہے۔
جمال شاہ نے اس بارے میں بی بی سی کو بتایا ’عنیزہ کی کامیابی قابل فخر بات ہے خاص طور پر پاکستان کے لیے کہ ایک نوجوان لڑکی نے اتنا بڑا کام کیا ہے‘۔
جمال شاہ کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پاکستان کو ملک میں تمام باصلاحیت بچوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ تاہم کاؤنسل آف آرٹس کے پاس وسائل کی کمی کی وجہ سے یہ ادارہ ملک کے باصلاحیت افراد کی مدد کے لیے کچھ نہیں کر پاتا۔








