عثمان قادر کی آسٹریلیا کی طرف سے کھیلنے کی ادھوری خواہش اور پاکستان ٹیم میں شمولیت

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹی ٹوئنٹی سکواڈ میں جگہ بنانے والے لیگ اسپنر عثمان قادر نے صرف ایک برس قبل آسٹریلیا کی طرف سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
حالانکہ ان کے والد شہرۂ آفاق لیگ اسپنر عبدالقادر چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا پاکستان کی طرف سے کھیلے لیکن حالات نے انھیں اپنے بیٹے کو آسٹریلیا جانے کی اجازت دینے پر مجبور کر دیا تھا۔
عثمان قادر کی یہ دیرینہ خواہش رہی کہ وہ آسٹریلیا میں سکونت اختیار کر کے آئندہ برس آسٹریلیا ہی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرسکیں۔ جس کے لیے انھوں نے وہاں ہونے والی کلب کرکٹ، ریاستی کرکٹ اور پھر بِگ بیش لیگ بھی کھیلی اور اپنی بولنگ سے سب کو متاثر کیا۔
لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ وہ اپنے والد عبدالقادر کے انتقال کے بعد آسٹریلیا کے بجائے پاکستان کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ عثمان قادر کو اپنا کریئر اپنے ملک کے بجائے آسٹریلیا میں دکھائی دے رہا تھا؟
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عثمان قادر نے ایک انٹرویو میں اس کا جواب یہ دیا تھا کہ ان کے سامنے ایک اور پاکستانی لیگ اسپنر فواد احمد کی مثال موجود تھی جنھوں نے فاسٹ ٹریک کے ذریعے آسٹریلیا کی شہریت کے تمام مراحل مکمل کر کے آسٹریلیا کی طرف سے کھیلنے کا خواب پورا کیا تھا۔
عثمان قادر نے جب سنہ 2012 میں آسٹریلیا میں منعقدہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کی اس وقت ساؤتھ آسٹریلیا کے کوچ ڈیرن بیری نے ان سے وہاں کلب کرکٹ کھیلنے کے لیے کہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عثمان قادر نے ایڈیلیڈ میں کلب کرکٹ کھیلی لیکن والد کے کہنے پر انھیں پاکستان واپس آنا پڑا۔ لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب خود عبدالقادر کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ پاکستانی کرکٹ کے نظام میں موجود انتظامی مسائل کے سبب عثمان قادر کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں مل رہا تو اب انھیں آسٹریلیا جانے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
رواں برس 26 سالہ عثمان قادر قومی ٹیم میں شامل نہ ہو سکنے کے باعث آسٹریلیا منتقل ہونے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے تھے۔
عبدالقادر کے چار بیٹوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی ہے۔ 26 سالہ عثمان قادر ان میں سب سے چھوٹے ہیں۔ سب سے بڑے رحمٰن قادر نے لیگ اسپنر کی حیثیت سے چھ فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔
عمران قادر لیگ بریک گگلی بولر کی حیثیت سے 10 فرسٹ کلاس میچز کھیل پائے جبکہ سلیمان قادر نے آف اسپنر کی حیثیت سے 26 فرسٹ کلاس میچز کھیلے۔
عثمان قادر نے اگرچہ صرف 10 فرسٹ کلاس میچز کھیلے ہیں لیکن آسٹریلیا میں ان کا ریکارڈ متاثر کن رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنہ 2017 میں انھوں نے سڈنی کی کلب کرکٹ میں صرف چھ میچوں میں 36 وکٹیں لے کر ویسٹرن آسٹریلیا کے اس وقت کے کوچ جسٹن لینگر کی توجہ حاصل کرلی جو ان کی ویسٹرن آسٹریلیا کی ٹیم میں شمولیت کا سبب بنی۔
عثمان قادر نے ویسٹرن آسٹریلیا کی طرف سے ایک روزہ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں وکٹوریہ کی تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عثمان قادر کو بولنگ کرتا دیکھ کر لوگوں کو عبدالقادر کی یاد آگئی جنھوں نے میلبرن میں کلب کرکٹ کھیلتے ہوئے 76 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
عثمان قادر کی عمدہ کارکردگی انھیں بِگ بیش تک لے آئی جس میں انھوں نے پرتھ اسکارچرز کی نمائندگی کی۔
عثمان قادر نے گذشتہ برس آسٹریلین پرائم منسٹر الیون کی طرف سے جنوبی افریقی ٹیم کے خلاف بھی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے تین وکٹیں حاصل کی تھیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عثمان قادر کا بولنگ ایکشن اپنے والد کی طرح خوبصورت نہیں ہے تاہم سادہ ایکشن کے ساتھ وہ اپنی لیگ بریک اور گگلی کے ذریعے حریف بیٹسمینوں پر حاوی ہونے کا ہنر جانتے ہیں۔












