مصباح الحق: ’افسوس کہ پاکستانی ٹیم ہوم کنڈیشنز میں ہارنا شروع ہو گئی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم متحدہ عرب امارات میں 2010 سے لے کر 2016 تک ایک بھی ٹیسٹ سیریز نہیں ہاری تھی لیکن اب صرف ایک سال کے عرصے میں وہ دو ٹیسٹ سیریز میں شکست سے دو چار ہو چکی ہے اور یہ بات اس کپتان کے لیے خاصی تکلیف دہ ہے جس کی قیادت میں ٹیم وہاں ناقابل شکست تھی۔
مصباح الحق کو جہاں اس بات کا افسوس ہے کہ پاکستانی ٹیم ہوم کنڈیشنز میں ہارنا شروع ہو گئی ہے وہیں انہیں کپتان سرفراز احمد کی بیٹنگ فارم پر بھی تشویش ہے ۔ان سب باتوں کا اظہار انہوں نے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔
مصباح الحق کے بارے میں مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی ٹیم کے ہارنے کی وجہ کیا ہے؟
سابق کپتان مصباح الحق نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی کنڈیشنز میں پہلی اننگز بہت اہم ہوتی ہے۔
'ماضی میں ہم نے جس ٹیم کو بھی ہرایا ہم پہلی اننگز میں بھاری سکور کرتے تھے جس کی وجہ سے ہمیں فائدہ ملتا تھا ۔ اب یہ ہو رہا ہے کہ ٹیم اچھا کھیل کر بھی ڈھائی سو رنز سے زیادہ نہیں کر پا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جو بھی بیٹسمین سیٹ ہو جاتا ہے وہ سنچری نہیں کر پا رہا ہے۔آخری ٹیسٹ میں ایسا ہوا اور نچلے نمبرز کے بیٹسمینوں کے ناکام ہو جانے سے ٹیم بڑے سکور تک نہ پہنچ سکی۔ بیٹسمین جب تک بڑی اننگز نہیں کھیلیں گے یہ صورتحال برقرار رہے گی۔'
کپتان سرفراز احمد کی بیٹنگ فارم کو کیا ہوا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصباح کے مطابق سب سے زیادہ تشویش کی بات سرفراز احمد کی اپنی بیٹنگ فارم ہے۔
'ان کی ناکامی ٹیم پر بہت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے کیونکہ سرفراز احمد کے رنز ٹیم کے لیے بہت زیادہ اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ میں بھی جب کپتان تھا تو مجھ پر اتنا پریشر نہیں ہوتا تھا جب میں رنز کر رہا ہوتا تھا۔
جب کپتان سے رنز نہیں ہوتے تو پھر آپ کی اپنی کارکردگی کا پریشر اور ٹیم کا پریشر آپ کے لیے مشکلات کا سبب بن جاتا ہے اور اس صورتحال کو سنبھالنا آسان نہیں ہوتا۔ اس وقت سرفراز احمد کی کارکردگی میں مستقل مزاجی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت وہ بہت زیادہ دباؤ میں ہیں۔
سپنرز کو کھیلنے میں مشکلات کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
مصباح نے کہا کہ ہماری سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ ہم حریف ٹیموں کے اسپنرز کو اعتماد سے کھیلا کرتے تھے اور ان کے خلاف بڑا سکور کیا کرتے تھے لیکن اب یہی ہمارا کمزور ترین حصہ بن گیا ہے کیونکہ ہم حریف ٹیموں کے سپنرز سے آؤٹ ہو رہے ہیں۔
'ہم نے رنگانا ہیرتھ، نیتھن لائن اور معین علی کے خلاف بڑے بڑے سکور کیے اسی وجہ سے ہم کامیاب ہوئے لیکن اب یہ بات ہمارے لیے تشویش کی ہے اور ہمیں اس پر غور کرنا ہوگا۔'
کوچ مکی آرتھر شکست کے کتنے ذمہ دار ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سابق کپتان نے کہا کہ ہر شکست کی ذمہ داری صرف اور صرف کپتان پر نہیں بلکہ مینجمنٹ کے دیگر لوگ بھی اسی طرح ذمہ دار ہیں، بشمول کوچنگ سٹاف جو حکمت عملی ترتیب دے رہا ہے اور ٹیم تشکیل دے رہا ہے ۔اس میں خامیاں دکھائی دے رہی ہیں لیکن انہیں دور نہیں کیا جا رہا ہے۔
'اسی طرح بیٹسمین بھی ذمہ دار ہیں۔ ابوظہبی ٹیسٹ کی آخری اننگز دیکھ لیں کہ سب کو پتہ تھا کہ آپ ڈرا کے لیے کھیل رہے ہیں اور آخری پانچ بیٹسمین ہوا میں اونچے اونچے شاٹس کھیل رہے تھے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمارا پلان کیا تھا اورہم کرنا کیا چاہ رہے تھے؟ یہ چیزیں ٹیم منیجمنٹ کو ہی کنٹرول کرنی ہوتی ہیں۔'











