دبئی ٹیسٹ: آسٹریلیا کو جیت کے لیے 326 رنز، پاکستان کو سات وکٹیں درکار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دبئی میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کو 462 رنز کا ہدف دیا ہے جس کے جواب میں آسٹریلیا کی ٹیم نے چوتھے دن کے اختتام پر 136 رنز بنائے ہیں اور ان کی سات وکٹیں باقی ہیں۔
آسٹریلیا کی جانب سے عثمان خواجہ اور آرون فنچ نے پاکستان کی جانب سے دیے گئے پہاڑ جیسے ہدف کو عبور کرنے کے لیے اننگز کا پراعتماد آغاز کیا اور چائے کے وقفے تک بغیر آؤٹ ہوئے 72 رنز بنائے۔
وقفے سے پہلے کپتان سرفراز احمد نے اپنے پانچوں بولرز کو استعمال کیا لیکن 23 اوورز میں ان میں سے کسی نے خاطر خواہ کارکردگی کی مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ کپتان سرفراز کی فیلڈرز کی میدان میں منصوبہ بندی پر بھی سوالات ہیں کیونکہ آسٹریلوی بلے بازوں نے تین سے اوپر کے رن ریٹ سے بیٹنگ کی اور انھیں رنز بنانے میں کوئی دقت محسوس نہیں ہوئی۔
لیکن جب چائے کے وقفے کے بعد کھیل دوبارہ شروع ہوا تو پہلی اننگز میں چار وکٹیں حاصل کرنے والے محمد عباس نے اپنا جادو دکھانا شروع کیا اور اننگز کے 30ویں اوور میں پہلے آرون فنچ کو 49 رنز پر ایل بی ڈبلیو کر دیا جس کے بعد اسی اوور کی آخری گیند پر انھوں نے نئے آنے والے شان مارش کو صفر پر وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کروا دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آسٹریلوی اوپنرز نے 87 رنز کی شراکت قائم کی اور لیکن اپنا پہلا میچ کھیلنے والے آرون فنچ پہلی اننگز کے بعد اپنی دوسری ففٹی نہ کر سکے۔
اس کے بعد محمد عباس نے اپنے اگلے ہی اوور میں مچل مارچ کو پہلی اننگز کی طرح دوبارہ ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ اس بار امپائر نے اپیل کا جواب نفی میں دیا لیکن کپتان سرفراز احمد نے ریویو لیا جس میں انھیں کامیابی ملی۔
اس موقعے پر لگ رہا تھا کہ شاید ایک بار پھر آسٹریلیا کے بلے باز پہلی اننگز کی طرح سنبھل نہیں پائیں گے لیکن عثمان خواجہ نے ڈیبو کرنے والی ٹریوس ہیڈ کے ساتھ مل کر دن کے اختتام تک 49 رنز کی شراکت قائم کی اور کئی اچھے شاٹس کھیل کر اپنا اعتماد بڑھایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب دن ختم ہوا تو اس وقت عثمان خواجہ 50 اور اپنا پہلا میچ کھیلنے والے ٹریوس ہیڈ 34 رنز کے ساتھ وکٹ پر موجود ہیں۔
اس سے قبل میچ کے چوتھے روز کھانے کے وقفے کے بعد پاکستان نے جب اپنی دوسری اننگز 181 رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت بابر اعظم 28 کے انفرادی سکور کے ساتھ کریز پر موجود تھے جبکہ پاکستان کو مجموعی طور ہر 461 رنز کی برتری حاصل تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے اوپنر امام الحق نے 48 رنز بنائے اور ان کے ساتھ حارث سہیل نے 39 رنز بنائے۔ پہلا میچ کھیلنے والے لبوشین نے حارث سہیل کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔
گراؤنڈ امپائر نے حارث سہیل کو آؤٹ نہیں دیا تھا تاہم آسٹریلیا کی جانب سے ریویو لیے جانے کے بعد واضح ہوا کہ گیند وکٹوں سے ٹکرا رہی تھی۔
دوسری اننگز میں آسٹریلیا کی جانب سے جون ہالینڈ نے تین، نیتھن لیون نے دو اور لبوشین نے ایک وکٹ حاصل کی۔
اس سے قبل پاکستان کی پہلی اننگز کے سکور 482 رنز کے جواب میں آسٹریلیا کی پوری صرف 202 پر آؤٹ ہوگئی تھی۔
میچ کے تیسرے دن کے اختتام تک پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں تین وکٹوں کے نقصان پر 45 رنز بنائے تھے۔
پاکستان نے جب دوسری اننگز شروع کی تو پہلی وکٹ 37 کے سکور پر گری جب محمد حفیظ 17 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اس کے بعد نائٹ واچ مین بلال آصف صفر اور اظہر علی بھی چار رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے جس کے بعد دن کا کھیل ختم ہو گیا۔

،تصویر کا ذریعہPcb
اس سے قبل پاکستان کی پہلی اننگز کے سکور 482 کے جواب میں آسٹریلیا نے بہترین آغاز کیا اور پہلی وکٹ پر 142 رنز کی شراکت جوڑی لیکن اس کے بعد محمد عباس اور بلال آصف نے تباہ کن کارکردگی دکھاتے ہوئے صرف 60 رنز عوض آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو 202 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔
اپنا پہلا میچ کھیلنے والے آف سپنر بلال آصف نے انتہائی عمدہ بولنگ کرتے ہوئے چھ جبکہ محمد عباس نے چار وکٹیں حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیے
آسٹریلیا کی جانب سے ڈیبو کرنے والے آرون فنچ نے 62 رنز اور ان کے ساتھی اوپنر عثمان خواجہ نے 85 رنز بنائے لیکن دیگر تمام بلے باز مکمل طور پر ناکام رہے اور پاکستان کو 280 رنز کی سبقت دے بیٹھے۔
پاکستان کے 33 سالہ آف سپنر بلال آصف کی ٹیم میں شمولیت پر کئی لوگوں نے سوالات اٹھائے تھے لیکن انھوں نے کھانے کے وقفے کے بعد شاندار بولنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بلے بازوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا اور شاہد آفریدی کے بعد پاکستان کی جانب سے پہلے سپنر بن گئے جنھوں نے اپنے ڈیبو پر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ لیگ سپنر شاہد آفریدی نے 20 قبل کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں آسٹریلیا کے ہی خلاف اپنے پہلے میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔
اس میچ میں پاکستان کی پہلی اننگز 482 رنز پر مکمل ہوئی تھی۔ اس اننگز میں دو بلے بازوں نے سنچریاں اور دو نے ہی نصف سنچریاں بنائیں۔ پاکستان کی جانب سے ٹاپ سکورر محمد حفیظ رہے جنھوں نے 126 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی سنچری بنانے والے حارث سہیل 110 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
نصف سنچریاں بنانے والے بلے بازوں میں اوپنر امام الحق کے علاوہ اسد شفیق شامل تھے جنھوں نے بالترتیب 76 اور 80 رنز کی اننگز کھیلیں۔
پاکستان کی جانب سے اس میچ میں بلال آصف کو ڈیبو کروایا گیا ہے جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے تین کھلاڑیوں نے اپنا ڈیبو کیا ہے۔
ان میں ٹریوس ہیڈ اور آرون فنچ محدود اوورز کی کرکٹ میں آسٹریلوی ٹیم کے رکن رہے ہیں جبکہ آل راؤنڈر مارنس لابوس چین بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی دفعہ آسٹریلیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔











