دبئی ٹیسٹ: دوسرے دن کا کھیل، پاکستان کی برتری 452

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین دو کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ کے دوسرے دن کا کھیل مکمل ہو گیا ہے اور آسٹریلیا نے اپنی پہلی اننگز میں بغیر کسی نقصان کے 30 رنز بنا لیے ہیں۔
اس سے قبل پاکستان کی پہلی اننگز 482 رنز پر مکمل ہوئی جس میں پاکستانی بلے بازوں نے عمدہ کارکردگی دکھائی اور دو بلے بازوں نے سنچری اور دو نے نصف سنچریاں بنائی ہیں۔
چائے کے وقفے کے بعد جب کھیل شروع ہوا تو پاکستان کو بڑا نقصان اس وقت ہوا جب حارث سہیل اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد نیتھن لائن کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ کپتان سرفراز احمد 15 کے سکور پر رن آؤٹ ہوگئے ہیں جبکہ بلال آصف (12) اور یاسر شاہ (3) رنز پر آؤٹ ہوئے۔
وہاب ریاض ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کے علاوہ بابر اعظم بھی صرف چار رنز بنا کر رن آؤٹ ہوگئے تھے۔
آج کے دن کی خاص بات حارث سہیل اور اسد شفیق کی 150 رنز کی شراکت تھی اور اس دوران دونوں نے نصف سنچریاں بھی بنا لیں۔ اسد شفیق لیبشانج کی گیند پر 80 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے جبکہ حارٹ سہیل نے 110 رنز بنائے۔
پیر کو دوسرے دن کے کھیل کے آغاز پر حارث سہیل اور نائٹ واچ مین محمد عباس نے اننگز دوبارہ شروع کی تو مجموعی سکور میں پانچ رنز کے اضافے کے بعد پیٹر سڈل نے عباس کو بولڈ کر دیا۔
یہ اننگز میں سڈل کی دوسری اور پاکستان کی گرنے والی چوتھی وکٹ تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان نے اپنے اوپنرز کی ڈبل سنچری شراکت کی بدولت میچ کے پہلے دن کے کھیل کے بیشتر سیشنز اپنے نام کیے لیکن آخری سیشن میں آسٹریلوی بولر تین وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
پاکستان کی جانب سے ٹیم میں واپسی کرنے والے تجربہ کار اوپنر محمد حفیظ نے سنچری بنائی اور وہ 126 رنز کی اننگز کھیل کر پویلین لوٹے۔ ان کا ساتھ نوجوان امام الحق نے دیا جو 76 رنز کی اننگز کھیل کر آؤٹ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
ان دونوں کے درمیان 205 رنز کی شراکت ہوئی۔ یہ آسٹریلیا کے خلاف کسی بھی ٹیسٹ میچ میں اوپنرز کی جانب سے بنائی جانے والے دسویں ڈبل سنچری شراکت تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
حفیظ کے برعکس پاکستانی بیٹنگ لائن میں شامل دوسرے تجربہ کار بلے باز اظہر علی ایک آسان پچ کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے اور اختتامی سیشن میں صرف 18 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہو گئے۔
آسٹریلیا کی جانب سے سپنرز نیتھن لائن اور جان ہالینڈ نے ایک، ایک جبکہ فاسٹ بولر پیٹر سڈل نے دو وکٹیں لی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے اس میچ میں بلال آصف کو ڈیبو کروایا گیا ہے جبکہ آسٹریلیا کی جانب سے تین کھلاڑیوں نے اپنا ڈیبو کیا ہے۔
ان میں ٹریوس ہیڈ اور آرون فنچ محدود اوورز کی کرکٹ میں آسٹریلوی ٹیم کے رکن رہے ہیں جبکہ آل راؤنڈر مارنس لابوس چین بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی دفعہ آسٹریلیا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
پاکستان کی ٹیم میں لیگ سپنر یاسر شاہ کی بھی انجری کے بعد واپسی ہوئی ہے۔ انھوں نے 2014 میں آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں ہی اپنا ڈیبو کیا تھا اور اس کے بعد سے مسلسل پاکستانی ٹیم کا رکن رہے ہیں۔









