پشاور میں پہلی مدارس کرکٹ لیگ اختتام پذیر
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
مدرسہ دارالفرقان پشاور کے کھلاڑی محمد عمر کا کہنا ہے کہ پہلے ایسے میچز دیکھنے کے لیے ان کی تلاشی لی جاتی تھی کیونکہ داڑھی اور ٹوپی پہنے کسی شخص کو سٹیڈیم میں داخل بھی نہیں ہونے دیا جاتا تھا لیکن زلمی مدرسہ لیگ میں ان سب کو موقع ملا اور اب وہ میچ دیکھنے نہیں کھیلنے آئے ہیں۔
پشاور کے ارباب نیاز سٹیڈیم میں دینی مدارس کے طلبا کے درمیان کھیلے گئی چار روزہ زلمی مدرسہ لیگ جمعے کو ختم ہو گئی۔
محمد عمر اس ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں۔ وہ مدرسہ دارالفرقان پشاور میں مدرس اور پیش امام ہیں جبکہ اس ٹورنامنٹ میں ان کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔
انھوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس سٹیڈیم میں میچ کھیلتے ہوئے انھیں فخر محسوس ہو رہا ہے کیونکہ اب سے پہلے وہ جب ایسے میچ دیکھنے کہیں جاتے تھے تو ان کی ہر جگہ تلاشی لی جاتی تھی اور انھیں شک سے دیکھا جاتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ٹورنامنٹ میں انھیں اہمیت دی گئی اور میڈیا کے نمائندے اور بڑے بڑے لوگ ان کے میچز دیکھنے آئے ہیں اور انھیں یہ بہت اچھا لگا ہے۔

،تصویر کا ذریعہZalmi Foundation
پشاور کے ارباب نیاز سٹییڈیم میں رنگین وردیاں پہنے باریش جوان انتہائی جانفاشنی سے کرکٹ کھیلتے نظر آئے۔ جسامت میں مضبوط اور انتہائی پھرتیلے کھلاڑیوں نے کھیل سے لگن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔
اگرچہ کم لوگ میچز دیکھنے آئے لیکن ان مدارس کے اپنے طالب علموں نے اپنی اپنی ٹیموں کے لیے نعرے لگائے اور بھرپور داد دی۔
محمد عمر سے جب پوچھا کہ یہ کرکٹ کے یونیفارم پہن کر کیسا لگ رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں شروع میں شرم محسوس ہو رہی تھی ایسی وردی یا کٹ انھوں نے پہلے کبھی نہیں پہنی تھی لیکن جب دیکھا کہ سب لوگ پہن رہے ہیں تو پھر وہ عادی ہو گئے اور سب بہت اچھا لگنے لگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں پہلی مرتبہ دینی مدارس کے طلبا کے درمیان کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کیا گیا۔ اس ٹورنامنٹ کا فائنل میچ مدرسہ دارلفرقان پشاورنے سنسنی خیز مقابلے کے بعد جیتا ہے۔
اس ٹورنامنٹ میں اہلسنت، دیوبند، شیعہ، اہلحدیث، بریلوی مسالک سے وابستہ مدارس کے درمیان میچز کھیلے گئے اور اس میں بارہ ٹیموں نے حصہ لیا ہے۔ کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ انھیں چار دن تک ایک جگہ رہ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا ہے۔
ان کھلاڑیوں نے بتایا کہ مدرسے میں وہ چپل پہن کر اور شلوار قمیض میں کبھی کرکٹ اور والی بال کھیلتے تھے لیکن یہاں انھیں پوری کٹ یا یونیفارم دی گئی۔
مولانا سمیع الحق کے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے طالب علم محمد اعجاز نے بتایا کہ اس ٹورنامنٹ میں شیعہ، سنی دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث کے مدراس نے کے طلبا نے ایک دوسرے کو جانا دوستیاں کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سب ایک طرح کے تھے کچھ فرق نہیں تھا۔

،تصویر کا ذریعہZalmi Foundation
جامعی دارلقران رحیم آباد سوات کے مہتمم مولانا صدیق احمد اپنے مدرسے کی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ صرف کرکٹ نہیں تھی بلکہ اس ٹورنامنٹ میں انھوں نے مختلف مسالک کے ساتھ نمازیں پڑھی ہیں اور ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔
انھوں نے بتایا کہ اورکزئی ایجنسی سے آئے اہل تشیع کی ٹیم کے مہتمم کے ساتھ بات چیت میں یہ بات سامنے آئی کہ تمام مدارس کے درمیان جو قدورتیں اگر تھیں تو اس سے وہ ختم ہوئی ہیں اور یہ ایک مثبت کوشش تھی۔
یہ ٹورنامنٹ زلمی فاؤنڈیشن کے زیر انتظام منعقد کیا گیا اور اس میں صوبے کے بارہ مدارس کی ٹیموں نے حصہ لیا اور اب منتظمین کا کہنا ہے کہ اسی طرز پر ٹورنامنٹ پاکستان کی سطح پر کرایا جائے گا۔
کھلاڑیوں اور مدارس کے منتظمین سے بات چیت کے دوران بتایا گیا کہ ان کھلاڑیوں کو مدرسوں میں کھیلنے کا بہت کم وقت ملتا ہے زیادہ وقت تعلیم اور عبادت میں گزرتا ہے۔ ان میں حافظ قاری اور علما کے علاوہ مدرس اور پیش امام شامل تھے۔











