ہاکی فیڈریشن کا ایشین گیمز میں گولڈ میڈل کا لالی پاپ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اس سال کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی ہاکی ٹیم دس ٹیموں میں ساتویں نمبر پر آئی تو پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے صدا بلند ہوئی کہ نئے کوچ رولینٹ آلٹمینز کا چونکہ یہ پہلا ٹورنامنٹ تھا لہذا ٹیم کی تشکیل نو ہورہی ہے۔
اسی سال چمپیئنز ٹرافی کے الوداعی ایونٹ میں وائلڈ کارڈ کی مرہون منت شرکت کرتے ہوئے پاکستانی ہاکی ٹیم نے چھ ٹیموں میں سب سے آخری پوزیشن حاصل کی تو پاکستان ہاکی فیڈریشن نے یہ نعرہ بلند کیا کہ ہماری تمام تیاری ایشین گیمز کے لیے ہے جس میں ہم گولڈ میڈل جیت کر کے 2020 کے اولمپکس کے لیے براہراست شرکت کو یقینی بنائیں گے۔
اس بارے میں مزید جانیے
یہ لالی پاپ پاکستان کی ہاکی میں پہلی مرتبہ استعمال نہیں ہوا۔ ماضی میں بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن ایک خراب کارکردگی کے بعد اگلے ٹورنامنٹ کا سہانا سپنا سب کو دکھاتی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور ان سابق ہاکی اولمپئینز کے ہاتھوں میں رہی ہے جو سیاست دان بننے کے بعد فیڈریشن میں آئے اور انھیں یہ ُگر بہت آسانی سے آتا تھا کہ سہانے سپنے کیسے دکھائی جاتے ہیں۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن میں جو بھی آیا وہ حکومت کی جانب سے مالی امداد نہ ملنے یا کم ملنے کا رونا ضرور روتا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ہر دورِ حکومت میں چاہے وہ میرظفراللہ خان جمالی کی ہو یا یوسف رضا گیلانی کی یا پھر نواز شریف کی کروڑوں نہیں بلکہ ارب کے حساب سے گرانٹ ملی ہے۔

قاسم ضیا، اختر رسول، آصف باجوہ اور رانا مجاہد سے کسی نےحساب نہیں مانگا نہ ہی یہ پوچھا گیا کہ وہ اکیڈمیاں کہاں غائب ہوگئیں جن کے بارے میں بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے کہ ان کا جال ملک بھر میں پھیلا دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کی ہاکی کو تباہی سے دوچار کرنے والے فیڈریشن کے عہدیداروں کو حکومتی نمائندوں نے پھولوں کے ہار پہنا کر رخصت کیا۔
موجودہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو بھی حکومت تین سال میں تقریباً 43 کروڑ روپے مل چکے ہیں اس عرصے میں یہ فیڈریشن وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود فیڈریشن کے صدر بریگیڈئر خالد سجاد کھوکھر کو یہ رقم بہت کم معلوم ہوتی ہے۔
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی 20 کروڑ روپے کی ایک گرانٹ نگراں حکومت مایوس کن نتائج اور کارکردگی کی وجہ سے روک چکی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار گرانٹ روکے جانے پر شور تو مچاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ایک ایسے سال جس میں پاکستان کی سینئر ہاکی ٹیم کو کامن ویلتھ گیمز۔ چیمپینز ٹرافی اور ایشین گیمز جیسے بڑے ایونٹس میں شرکت کرنا تھی اور ابھی ورلڈ کپ باقی ہے فیڈریشن نے جونیئر ٹیم کے کینیڈا کے غیرضروری طویل دورے پر ایک بڑی رقم کیوں ضائع کردی؟
ہاکی قومی کھیل ہونے کے ناتے قوم کے دلوں کے قریب رہا ہے۔ یہ اسی جذباتی وابستگی کا نتیجہ ہے کہ گرین شرٹس کے میچز کے لیے قوم راتوں کو نیند سے بیدار ہوکر ٹی وی کے سامنے بیٹھتی رہی ہے لیکن موجودہ مایوس کن کارکردگی اور نتائج قوم کی مایوسی کو اپنی انتہا تک لے جاچکے ہیں۔
پاکستان کی ہاکی کو آج ایئرمارشل نور خان جیسے کسی ایماندار اور پیشہ ورانہ مہارت کے حامل ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے ۔ سابق اولمپئینز کو فیڈریشن میں عہدے دیے جانے کے تجربے بہت ہوچکے لیکن ان تجربات نے پاکستانی ہاکی کو ناکامی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔










