’ہاکی کے کھلاڑیوں کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ ملنے چاہییں‘

،ویڈیو کیپشنایشین گیمز سے پہلے پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان اپنے کھلاڑیوں کے حقوق کے لیے کوشاں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستانی ہاکی ٹیم کے لیے انڈونیشیا میں شروع ہونے والی ایشین گیمز بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

پاکستانی ہاکی ٹیم اگر ان کھیلوں میں طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو وہ 2020 کے اولمپکس میں براہ راست شرکت کی اہل ہوجائے گی لیکن ایسا نہ ہوا تو کوالیفائنگ راؤنڈ کی تلوار اس کے سر پر لٹکتی رہے گی۔

پاکستانی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز کے لیے کراچی میں انتہائی سخت ٹریننگ کی لیکن اس ٹریننگ کا غور طلب پہلو یہ ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اپنا گراؤنڈ ہاکی کلب آف پاکستان سٹیڈیم ہوتے ہوئے اس ٹریننگ کے لیے سابق اولمپیئن اصلاح الدین کی اکیڈمی کا انتخاب کیا۔

اسی بارے میں

اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ کھلاڑیوں کو ہاکی کلب آف پاکستان سٹیڈیم کے قریب کسی اچھے ہوٹل میں ٹھہرا سکے جبکہ ہاکی کلب آف پاکستان سٹیڈیم میں بھی رہائشی سہولتیں اب موجود نہیں رہی ہیں لہذا اصلاح الدین اکیڈمی کے کمروں میں کھلاڑیوں کو ٹھہرایا گیا۔

ہاکی
،تصویر کا کیپشنپاکستانی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ رولینٹ آلٹمینز

پاکستانی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی ایشین گیمز کی سخت ٹریننگ کے دوران کئی ماہ سے رکے ہوئے اپنے ڈیلی الاؤنسز کی وجہ سے خاصے پریشان رہے اور ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑا کہ اگر انھیں یہ واجبات ادا نہیں کیے گئے تو وہ ایشین گیمز میں نہیں جائیں گے۔

اس صورتحال پر پاکستان ہاکی فیڈریشن حرکت میں آئی اور اس نے قومی تربیتی کیمپ ختم ہونے سے صرف تین روز قبل تمام کھلاڑیوں کو ڈیلی الاؤنسز کی مد میں روکی گئی رقم کی ادائیگی کردی جو فی کھلاڑی تقریباً نو لاکھ روپے بنتی تھی۔

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے کپتان رضوان سینیئر نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں اس صورتحال کو خاصا مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک کھلاڑیوں کو ذہنی یکسوئی نہیں ہوگی ان سے کیسے بہتر نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے؟

’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ ڈیلی الاؤنسز ہماراحق ہے اگر کھلاڑیوں کو ان کا حق ملے گا تو وہ بھی زور لگا کر کھیلیں گے۔ ہاکی ہمارا ذریعۂ معاش ہے جب ہمارے گھر کا خرچ رک جائے گا تو یقیناً ہم اس سے متاثر ہونگے۔ ہم بظاہر ٹریننگ میں حصہ لے رہے تھے لیکن ذہن بہت ڈسٹرب تھا۔‘

رضوان سینیئر کے خیال میں اس مسئلے کا حل سینٹرل کنٹریکٹ ہے۔

ہاکی
،تصویر کا کیپشنرضوان سینیئر

’کرکٹ کی طرح ہاکی میں بھی ہر کھلاڑی کا سینٹرل کنٹریکٹ ہونا چاہیے کہ کوئی ٹور ہو یا نہ ہو لیکن ہر ماہ اسے پاکستان ہاکی فیڈریشن کی طرف سے سینٹرل کنٹریکٹ کی مد میں تنخواہ ملتی رہے۔ اس کے علاوہ کھلاڑیوں کی انشورنس بھی ہونی چاہیے تاکہ اگر کوئی کھلاڑی زخمی ہوجائے تو وہ اپنا علاج کرا سکے کیونکہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جب کھلاڑی زخمی ہو جاتا ہے تو اسے کوئی نہیں پوچھتا۔ وہ اپنا علاج خود کرانے پر مجبور ہوتا ہے۔‘

پاکستانی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ رولینٹ آلٹمینز کو اس بات کی خوشی ہے کہ ٹیم کی ایشین گیمز کے لیے روانگی سے قبل کھلاڑیوں کو کئی ماہ سےرکے ہوئے ڈیلی الاؤنسز ادا کردیے گئے۔

’اچھی بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے لیکن کھلاڑی قابل تعریف ہیں کہ ڈیلی الاؤنسز نہ ملنے کے باوجود وہ پوری دل جمعی اور دیانت داری سے ٹریننگ میں حصہ لیتے رہے اور کھیل پر ان کی مکمل توجہ رہی۔ یقیناً اس طرح کی صورتحال توجہ پر اثرانداز ہوتی ہے۔‘

ہاکی
،تصویر کا کیپشنپاکستانی ہاکی ٹیم نے ایشین گیمز کے لیے کراچی میں انتہائی سخت ٹریننگ کی

پاکستانی ہاکی ٹیم کے منیجر حسن سردار کا کہنا ہے کہ کھلاڑی کو قومی کیمپ کے دوران یومیہ ایک ہزار روپے ملتے ہیں جبکہ غیر ملکی دورے پراس کا ڈیلی الاؤنس ڈیڑھ سو ڈالر ہے۔

حسن سردار کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت بھی ہاکی فیڈریشن کو اچھے پیسے نہیں دے رہی جبکہ فیڈریشن کے پاس سپانسرز بھی نہیں ہیں۔

حسن سردار کی اس بات پر غیرجانبدار تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ہر حکومت گرانٹ کی شکل میں کروڑوں روپے دے چکی ہے۔

موجودہ فیڈریشن بھی وفاقی اور سندھ حکومت سے مجموعی طور پر 42 کروڑ روپے لے چکی ہے لیکن جب فیڈریشن کو یہ پتہ تھا کہ اس سال سینئر ٹیم کو کامن ویلتھ گیمز چیمپینز ٹرافی ایشین گیمز اور ورلڈ کپ جیسے اہم ٹورنامنٹس میں حصہ لینا ہے تو پھر ڈویلپمنٹ سکواڈ کے کینیڈا کے طویل اور بے مقصد دورے پر لاکھوں روپے کیوں خرچ کردیے گئے؟