ڈیوڈ وارنر حالات سے ناراض ہیں

ڈیوڈ وارنر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

کسی آن فیلڈ تُو تکار یا آف فیلڈ دھینگا مشتی میں ڈیوڈ وارنر کا نام آ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

کوئنٹن ڈی کوک بیٹنگ کر رہے تھے آسٹریلیا جیت سے چند ہی قدم دور تھا۔ وکٹیں گرنے کا وقت ہونے کو تھا مگر ڈی کوک سٹارک اور ہیزل وڈ کی توقع سے کہیں زیادہ ہی جم گئے۔ ایسے میں پورے آسٹریلین کیمپ پہ غصہ طاری ہونا فطری سی بات تھی۔

یہ بحث خاصی طویل ہے کہ لفظی جنگ میں کیا کچھ جائز ہے اور کیا نہیں مگر اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ جذبات کے بغیر کھیل میں جان بھی نہیں پیدا ہوتی۔ آج اس میچ کے فگرز بھلے بھول چکے ہوں مگر عامر سہیل اور پرساد کا ٹاکرا آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ جذبات کا اظہار ہی کھیل کو مکمل کرتا ہے۔

لیکن جب جذبات کھیل پہ اس قدر حاوی ہو جائیں کہ دوسرے ٹیسٹ سے پہلے آسٹریلوی کیمپ کی واحد سٹریٹیجی یہ رہ جائے کہ پورٹ ایلزبتھ میں کگیسو ربادا پہ لفظی نشتر برسانے کا اہتمام کیا جائے گا تو یقیناً یہ کھیل کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ربادا ایک ٹیسٹ میچ کی پابندی سے صرف ایک پوائنٹ کی دوری پہ ہیں اس لیے آسٹریلوی کیمپ بھرپور کوشش کرے گا کہ ربادا جواباً کچھ کہیں اور میچ کی پابندی لگے تا کہ حساب بےباق ہو سکے۔

لفظی جنگوں میں آسٹریلیا کا ڈریسنگ روم ایک دیرینہ شہرت رکھتا ہے۔ گو اس اکھاڑے میں وہ مخالف کی تضحیک کو عین حق مانتے ہیں مگر جہاں جواب میں ویسے ہی نثر پارے سننے کو ملیں وہاں فوراً جزبز ہو جاتے ہیں۔

وسیم اکرم کہتے تھے کہ آسٹریلیا والے خود تو ایسا مذاق کر لیتے ہیں مگر جب سامنے سے جواب آئے تو معاملہ فیلڈ سے باہر تک لے جاتے ہیں۔

یہی کچھ ڈربن میں ہوا۔ آسٹریلیا پہلے دن سے میچ پہ حاوی تھا۔ ساوتھ افریقن بیٹنگ تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہی تھی۔ آخری اننگز میں جیت کے لیے 417 رنز کا ہدف ملا تو فتح گویا آسٹریلیا کے سامنے بانہیں پھیلائے کھڑی تھی۔ ساوتھ افریقہ صرف 49 رنز کے مجموعی سکور پہ ہاشم آملہ، ڈی ویلئیرز اور ڈوپلیسز کی وکٹیں گنوا چکا تھا۔ سینچری بنانے کے بعد مرکرم بھی پویلین چلے گئے۔ ایسے میں ڈی کوک ڈٹ گئے اور گھسیٹ کر میچ کو پانچویں دن میں لے گئے۔

اس دوران وارنر اور ان کے باقی دوستوں کو ڈی کوک پہ مسلسل غصہ آتا رہا اور وہ ان پہ لفظی وار کرتے رہے۔ جواب میں کہیں ڈی کوک کے صبر بھی لبریز ہو گیا اور انھوں نے وارنر پہ نہایت ذاتی چوٹ کر دی اور پھر کچھ ہی دیر بعد ڈریسنگ روم کی سیڑھیاں چڑھتے ڈی کوک کو وارنر نے گھیر لیا اور ہاتھا پائی کا ہلہ دیا۔

کوئنٹن ڈی کوک

،تصویر کا ذریعہGetty Images

آئی سی سی نے اس پہ وارنر کو تین ڈی میرٹ پوائنٹس دیے ہیں اور میچ فیس کا 75 فیصد جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ مزید ایک ڈی میرٹ پوائنٹ ملنے کی صورت میں انھیں ایک ٹیسٹ میچ یا دو ون ڈے میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ممکنہ پابندی کا بدلہ چکانے کے لیے آسٹریلیا اگلے میچ میں ربادا پہ ذاتی حملے کرے گا۔

لیکن اس دوران جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے وہ سٹیون سمتھ کا رویہ ہے۔ سمتھ اس سارے واقعے کی واضح بد صورتی کے باوجود وارنر کے دفاع پہ مصر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ڈی کوک نے واقعی ذاتی نوعیت کی ایسی بات کہی تھی کہ وارنر کا غصہ بالکل بجا تھا۔ کوچ ڈیرن لی مین بھی سمتھ کے ہم خیال ہیں۔ سوال یہ ہے کہ لفظی جنگ میں کون سی بات ذاتی نوعیت کی نہیں ہوتی؟

جہاں ایک جانب اس رویے سے دو ٹیسٹ کرکٹرز کی گیم سپرٹ پہ سوالیہ نشان اٹھا ہے، وہیں یہ بھی نظر آیا ہے کہ یہ مسئلہ انفرادی نہیں ہے بلکہ منیجمنٹ لیول پہ ہے۔ ڈریسنگ روم میں ہی اس سائیکی کی اتنی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ یہ بد زبانی ٹیم کلچر کا حصہ بن جاتی ہے۔

آئی سی سی نے مگر ساری سزائیں انفرادی نوعیت کی طے کر رکھی ہیں۔ یہ ناقابل فہم ہے کہ جہاں کوڈ آف کنڈکٹ کی ایسی بھونڈی خلاف ورزی پہ وارنر کے سر پہ تو ممکنہ پابندی کی تلوار لٹکا دی گئی ہے، وہاں ان کے ہمنوا جو اس عمل کی تاویلات پیش کر رہے ہیں ان کے بارے کوڈ آف کنڈکٹ بالکل خاموش ہے۔ حالانکہ اس قصے میں یہ بات عیاں ہے کہ وہ ہمنوا اگر شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری تو کرتے۔

ٹم پین ہوں کہ سٹیو سمتھ، یہ بات تو کہہ رہے ہیں کہ ڈی کوک نے واقعی رکیک جملہ کسا تھا مگر یہ نہیں بتا رہے کہ اس سے پہلے وارنر کے منہ سے کون سے پھول جھڑ رہے تھے جو معاملہ یہاں تک پہنچا؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ یہ لڑائی کرکٹ تک ہی محدود رہے اور بیچ میں گھر گرہستی کے حوالوں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

لفظی جنگ کے اگر مگر پہ تو بحث کی جا سکتی ہے مگر اس میں دو رائے نہیں کہ یہ لڑائی زبان تک ہی محدود رہنی چاہیے، ہاتھ تک نوبت نہیں جانی چاہیے اور اس لڑائی کو زبان تک محدود رکھنے میں کوچ اور کپتان سے زیادہ بہتر کردار کوئی نہیں ادا کر سکتا۔

اگر سٹیون سمتھ فیلڈ پہ ہی حالات کو کنٹرول کر لیتے تو شاید سیڑھیوں پہ وارنر کسی کے گریبان کی جانب نہ بڑھ رہے ہوتے۔