گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر کھیلے جانے والا کھیل ’بزکشی‘ ازبکستان میں بے حد مقبول ہے اور وہاں اسے ’کپکاری‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
ترک زبان میں ’کپ‘ کا مطلب ’کئی یعنی متعدد‘ ہوتا ہے اور فارسی زبان میں ’کری‘ کا مطلب کام ہوتا ہے یعنی کپکاری کا مطلب ‘کئی لوگوں کا کام‘ ہے۔
ازبیکستان میں کپکاری کے مقابلے کو ’اولاک‘ بھی کہا جاتا ہے۔
ازبکستان سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر اور دستاویزی فلموں کی ہدایت کار یومیدہ اخمیدووا نے حال ہی میں وسطی ایشیا کے اس بے حد مقبول ترین کھیل کو اپنے کیمرے میں قید کرنے کی کوشش کی۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنیہ تاشقند کے گاؤں ارتوش کا منظر ہے جہاں بزکشی کا مقابلہ ہوا۔ ارتوش کا مطلب پتھریلی زمین ہوتا ہے۔
پولو کی طرح بزکشی کے کھیل میں بھی کھلاڑی گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوتے ہیں۔ لیکن اس میں گیند کی جگہ بکری یا بھیڑ کی لاش کا استعمال ہوتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUMIDA AKHMEDOVA
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنمقابلہ شروع ہونے سے پہلے تیاری کرتے ہوئے کھلاڑی۔ وسطی ایشیا میں بزکشی کا کھیل تفریح کا اہم ذریعہ مانا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنبزکشی کا کھیل اکثر بلند پہاڑیوں پر کھیلا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUMIDA AHMEDOVA
،تصویر کا کیپشنازبکستان میں اس بار سردیوں میں اتنی برف نہیں گری جتنی عموماً گرتی ہے۔ لیکن کرامن کی پہاڑیوں پر زبردست برف باری ہوئی۔
،تصویر کا ذریعہUmida Ahmedova
،تصویر کا کیپشنبزکشی کے کھیل میں ریفری کا اہم کردار ہوتا ہے۔ میچ کا ریفری کھلاڑیوں اور کھیل پر نظررکھتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنبزکشی اور کپکاری محض ایک کھیل یا کھیل کا مقابلہ نہیں ہے بلکہ یہاں کے لوگوں کے لیے ایک تہوار کے برابر ہے۔ اس میں حصہ لینے والے بیشتر مرد ہوتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنمقابلہ شروع ہونے سے قبل گھوڑسواروں کو باقاعدہ اعلان کرکے یہ بتایا جاتا ہے کہ انعام میں انھیں کیا ملنے والا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Ahmedova
،تصویر کا کیپشناس مقابلے کے دوران کئی گائیں اور بکریاں انعام کے طور پر رکھی گئیں۔ یہاں کے مقامی لوگ گزر بسر کے لیے جانور پالتے ہیں اس لیے انعام میں مویشیوں کا ملنا اچھا مانا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنایسا نہیں ہے کہ ان مقابلوں میں صرف مقامی لوگ ہی حصہ لیتے ہیں۔ قریب کے دہہاتوں اور شہروں کے گھوڑسواروں کو بھی مقابلے میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنکھیل کو دیکھنے آنے والوں میں ہر عمر کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ چھوٹا بچا بھی اس کھیل کے دیوانوں میں شامل ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنروایت کے تحت بزکشی کا مقابلے دیکھنے آنے والے ساتھ میں فاتح گھوڑسواروں کے لیے تحفے لاتے ہیں۔ اس تحفے میں وہ نو ضروری چیزیں ہوتی ہیں جو گھر گرہستی کے کام میں ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ ازبیکستان میں اسے 'ٹوکیز ٹوگن' یا نو چیزوں کی گٹھری کہا جاتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Akhmedova
،تصویر کا کیپشنانعام دینے سے پہلے فاتح گھوڑسوار کے نام کا اعلان کیا جارہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Ahmedova
،تصویر کا کیپشنان کا نام فوضل ہے۔ انھوں نے آج کا مقابلہ جیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فوضل گھوڑسوار نہیں ہیں لیکن اس مقابلے میں ان کا گھوڑا اول رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہUmida Ahmedova
،تصویر کا کیپشنبزکشی کے کھیل میں ایسے گھوڑوں کو پسند کیا جاتا ہے جو چھوٹے قد کے ہوں لیکن طاقتور ہوں۔ چھوٹے قد کے گھوڑوں سے بکرے یا بھیڑ کی لاش اٹھانا آسان ہوتا ہے۔ انعام میں ملی چيزیں گھوڑسوار اور گھوڑے کا مالک آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔