برفانی تیندوے کی معدومیت پر سائنس دانوں میں شدید اختلافات

برفانی تیندؤں

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنبہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ برفانی چيتے اب معدومیت کے خطرے سے باہر ہیں کیونکہ ان کی تعداد 7400 سے 8000 کے درمیان پہنچ گئي ہے
    • مصنف, نوین سنگھ کھڑکا
    • عہدہ, رپورٹر برائے ماحولیات، بی بی سی

بی بی سی کی ایک تفتیشی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کے درمیان اس بات پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آيا سنو لیپرڈ (برفانی تیندوا) کو معدومیت کا خطرہ اب بھی لاحق ہے یا نہیں۔

بعض سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر ایسے تیندووں کی شرح معدومیت میں کمی آئی ہے اور ان کی آبادی مستحکم ہو چکی ہے جبکہ متعدد مقامات پر ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

لیکن اس موقف کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے نتائج اخذ کرنے کے لیے سائنسی تحقیق نہیں کی گئی۔

ماہرین کے مابین ان اختلافات کے درمیان ہی آج ان 12 ممالک کے سربراہان اور سینیئر حکام، جہاں بیشتر برفانی چیتے پائے جاتے ہیں، اس بات پر غور و فکر کے لیے کرغزستان میں ملاقات کر رہے ہیں کہ ان نایاب جانوروں کے تحفظ کے لیے مزید کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

برفانی تیندوے

،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

،تصویر کا کیپشنان چيتوں کو اب تک معدومیت کے زمرے میں رکھا گيا ہے

سائنس دانوں کے درمیان اختلافات میں شدت اس وقت آئی جب برفانی تیندوں سے متعلق خطرات کی شدت کو معدومیت سے کم کر کے غیر محفوظ ہونے کی تجویز پیش کی گئي۔

بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ برفانی تیندوے اب معدومیت کے خطرے سے باہر ہیں کیونکہ ان کی تعداد 7400 سے 8000 کے درمیان پہنچ گئي ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ان افراد کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے جو اس شعبے میں کام کرتے ہیں۔

اس سے پہلے برفانی تیندووں کی تعداد 3500 سے 7500 کے درمیان بتائی گئی تھی لیکن یہ اعداد و شمار تقریباً 30 برس پرانے ہیں۔

جو ماہرین ان اعداد و شمار کو چینلج کرتے ہیں ان کا موقف ہے کہ یہ کوئی سائنسی طریقۂ کار نہیں ہے کہ محض ایسے لوگوں سے بات چيت کرنے کے بعد اس طرح کے نتائج اخذ کر لیے جائیں جو ان کے تحفظ کے لیے کام کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں برفانی تیندوے رہتے ہیں اس کے دو فیصد سے بھی کم علاقے میں سائنسی طریقے پر مبنی تحقیق کی گئی اور پھر اس کی بنیاد پر قیاس آرائی کر کے یہ اعداد و شمار مان لیے گئے۔

برفانی تیندوا

،تصویر کا ذریعہSNOW LEOPARD TRUST

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے نیپال اور پاکستان میں حالیہ ایسی دو تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں توقع سے کم ہی برفانی چیتے بچے ہیں

ماہرین کا کہنا ہے نیپال اور پاکستان میں حالیہ ایسی دو تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ان ممالک میں توقع سے کم ہی برفانی تیندوے پائے گئے ہیں۔

ماہرین کے دو گروپوں میں اختلافات کی وجہ سے ہی برفانی تیندوں سے متعلق خطرات کی سطح کا تعین از سر نو نہیں کیا جا سکا۔ آخری بار ان جانوروں کا تجزیہ 2008 میں ہوا تھا اور انھیں معدومیت والی کٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

برفانی تیندوے اونچی پہاڑیوں پر شمالی اور مرکزی ایشیا کے 12 ممالک میں تقریباً 20 لاکھ مربع کلومیٹر کے دائرے میں رہتے ہیں۔

ان چيتوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انھیں شکاریوں اور جوابی حملے میں کسانوں سے مارے جانے کا خظرہ لاحق ہے۔ اس کے لیے علاوہ ایسے تیندووں کے لیے شکار میں کمی آرہی ہے، ا ن کے رہنے کی جگہ کم ہوتی جا رہی ہے جبکہ ماحولیات کی تبدیلی ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔