مرلی کے سائے سے نکل کر رنگانا ہیرتھ اپنی پہچان آپ

،تصویر کا ذریعہLAKRUWAN WANNIARACHCHI
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابوظہبی
رنگانا ہیرتھ ابوظہبی ٹیسٹ کے چوتھے دن کے اختتام پر جب پریس کانفرنس میں آئے تھے تو ان سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ پاکستانی ٹیم آپ کی پسندیدہ حریف ہے جس کے خلاف آپ ہمیشہ شاندار بولنگ کرتے آئے ہیں اس کی کوئی خاص وجہ؟
رنگانا ہیرتھ نے بڑی انکساری سے یہ جواب دیا تھا کہ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف زیادہ کھیلے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ رنگانا ہیرتھ پاکستان کے خلاف 20 ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں لیکن درحقیقت یہ ان کی بولنگ کا کمال ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف بہت کامیاب رہے ہیں جس کی ایک جھلک انھوں نے ابوظہبی ٹیسٹ کے آخری دن چھ وکٹوں کی میچ وننگ پرفارمنس سے دکھادی۔
رنگانا ہیرتھ کے کریئر کا ابتدائی حصہ مرلی دھرن کے ساتھ کھیلتے ہوئے گزرا ہے اور یہ وہ دور تھا جس میں مرلی دھرن کا جادو سرچڑھ کر بولتا تھا اور اس ون مین شو میں دوسرے بولرز ان کے ساتھ سپورٹنگ رول ادا کرتے تھے۔
رنگانا ہیرتھ بھی انہی میں سے ایک تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہیرتھ نے مرلی کے ساتھ 15 ٹیسٹ کھیلے جن میں وہ صرف 39 وکٹیں حاصل کرسکے تھے جبکہ ان پندرہ ٹیسٹ میچوں میں مرلی دھرن کی وکٹوں کی تعداد 90 تھی۔
رنگانا ہیرتھ کے کریئر میں اس وقت ڈرامائی موڑ آیا جب 2009 میں مرلی دھرن ان فٹ تھے اور سنگاکارا کے کپتان بننے کے بعد سلیکٹرز نے ان سے پوچھا کہ آپ کو کونسا اسپنر چاہیے جس پر سنگاکارا نے فوراً رنگانا ہیرتھ کا نام لیا تھا۔
رنگانا ہیرتھ جو سلیکٹرز کا اعتماد حاصل نہ ہونے کے سبب اس وقت انگلینڈ میں لیگ کرکٹ کھیل رہے تھے سری لنکا پہنچے اور گال ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں چار وکٹیں حاصل کرکے پاکستانی ٹیم کو جسے جیتنے کے لیے صرف 168 رنز کا ہدف ملا تھا ایک 117 رنز پر آؤٹ کردیا تھا۔
مرلی دھرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد رنگانا ہیرتھ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے تین بولرز میں سے ایک ہیں بقیہ دو بولرز انگلینڈ کے جیمز اینڈرسن اور اسٹورٹ براڈ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ابوظہبی ٹیسٹ میں ہیرتھ نے گیارہ وکٹیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ٹیسٹ کریئر کی چار سو وکٹیں بھی مکمل کی ہیں۔ وہ دنیا کے پہلے لیفٹ آرم اسپنر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں چار سو وکٹیں حاصل کی ہیں۔
رنگانا ہیرتھ کا سری لنکن ٹیم میں کیا مقام ہے اس کا اندازہ کپتان دنیش چندی مل کے ان الفاظ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے
’ہیرتھ ٹیم کا ایک اثاثہ ہیں۔ ہر نوجوان کھلاڑی ان کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ مجھ سمیت ہر کھلاڑی کو ان کا بھرپور تعاون حاصل رہتا ہے۔ ان کی عمر اگرچہ 39 سال ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی بہترین کارکردگی کی کوشش کرتے ہیں۔‘










