یہ یاسر شاہ اور رنگانا ہیرتھ کی سیریز ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ابو ظہبی
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو میچوں کی ٹیسٹ سیریز جمعرات سے شیخ زید سٹیڈیم ابوظہبی میں پہلے ٹیسٹ کے ساتھ شروع ہورہی ہے ۔
اس سیریز کو ماہرین اور مبصرین 'یاسر شاہ بمقابلہ رنگانا ہیرتھ' قرار دے رہے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں اپنی ٹیموں کے فتح گر بولر سمجھے جاتے ہیں۔
اگرچہ یاسر شاہ متحدہ عرب امارات آنے سے قبل قومی کیمپ میں مکمل فٹ نہیں تھے اور ایک موقع پر ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ اگر وہ فٹنس ٹیسٹ پاس نہ کرسکے تو انھیں ٹیم سے باہر بھی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے فٹنس مسائل نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کو ٹیم کے اعلان میں ایک دن کی تاخیر پر بھی مجبور کیا لیکن آخری لمحات میں فٹنس ٹیسٹ پاس ہونے کی نوید سناتے ہوئے سلیکٹرز نے انھیں ٹیم میں شامل کرلیا۔
سلیکٹرز ہوں یا ٹیم مینیجمنٹ یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ یاسر شاہ ہی اس وقت ٹیم میں ایک ایسے بولر ہیں جو کسی بھی وقت کھیل کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔
یاسر شاہ نے 26 ٹیسٹ میچوں میں 149 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
انھوں نے سری لنکا کے خلاف 2015 میں سری لنکا میں کھیلی گئی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 24 وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں کریئر بیسٹ 76 رنز دے کر 7 وکٹوں کی کارکردگی نمایاں تھی۔
یاسر شاہ کی یہ شاندار کارکردگی سیریز میں پاکستان کی دو ایک سے جیت میں فیصلہ کن ثابت ہوئی تھی۔
سری لنکا کی ٹیم بھی اپنی فتوحات کے لیے رنگانا ہیرتھ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے جو مرلی دھرن کی ریٹائرمنٹ کے بعد صحیح معنوں میں میچ ونر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہیرتھ مرلی دھرن کے ساتھ 15 ٹیسٹ کھیلتے ہوئے صرف 39 وکٹیں حاصل کرسکے تھے لیکن مرلی کے جانے کے بعد ان کا جادو سرچڑھ کر بولا ہے اور وہ 68 ٹیسٹ میں 318 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
رنگانا ہیرتھ کا پاکستان کے خلاف ریکارڈ متاثر کن رہا ہے اور انھوں نے 19 ٹیسٹ میچوں میں 90 وکٹیں حاصل کی ہیں جن میں اننگز میں 127 رنز کے عوض 9 اور میچ میں 184 رنز دے کر 14 وکٹوں کی کریئر کی بہترین بولنگ بھی شامل ہے۔
یہ دونوں بولرز اس سال بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئے ہیں۔
رنگانا ہیرتھ نے اس سال 7 ٹیسٹ میچوں میں 35 وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ یاسر شاہ 4 ٹیسٹ میچوں میں 27 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔
اس سال پاکستانی ٹیم نے ویسٹ انڈیز میں پہلی بار ٹیسٹ سیریز جیتی تو اس میں یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ نمایاں تھی ۔خاص طور پر آخری ٹیسٹ میں انھوں نے پانچ وکٹیں حاصل کر کے پاکستانی ٹیم کی جیت پر مہرتصدیق ثبت کردی تھی۔
رنگانا ہیرتھ اپنے کریئر کے ایک اہم سنگ میل کے بہت قریب ہیں ۔انھیں ٹیسٹ میچوں میں چار سو وکٹیں مکمل کرنے کے لیے صرف گیارہ وکٹیں درکار ہیں۔وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے چودھویں اور سری لنکا کے دوسرے بولر ہوں گے۔









