کیا ماریا شراپووا کی ٹینس میں واپسی کامیاب رہے گی؟

ٹینس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنروسی ٹینس پلیئر ماریا شراپووا 15 ماہ کی پابندی ختم ہونے کے بعد دوبارہ ٹینس کھیلنا شروع کریں گی

روسی ٹینس سٹار اور سابق عالمی نمبر ون ماریا شراپووا اپنے کریئر کے سب سے مشکل چیلینج کا سامنا کرنے والی ہیں اور وہ ہے ممنوعہ ادویات کے استعمال کے باعث عائد 15 ماہ کی پابندی کے خاتمے کے بعد ٹینس کورٹ میں واپسی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ماریا شراپووا کو کھیل کے میدان سے باہراپنے سپانسروں سے پہلے کی طرح آمدن حاصل ہو سکے گی؟

29 سالہ شراپووا جرمنی کے شہر شٹٹ گارٹ میں 26 اپریل سے شروع ہونے والے ٹورنامنٹ میں شرکت کریں گی جس کے لیے ان کو وائلڈ کارڈ دیا گیا ہے۔

شراپووا کی چند ساتھی کھلاڑیوں نے ان کی کھیل میں واپسی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے لیکن خواتین ٹینس کی انتظامیہ ویمن ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) اور شراپووا کے مداح ان کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں۔

ٹینس کورٹ میں اور کورٹ سے باہر رقم کمانے میں شراپووا کی سب سے بڑی حریف سرینا ولیمز امید سے ہونے کے سبب کھیل سے دور ہیں۔

جریدہ فوربز کے مطابق جون 2015 سے اب تک شراپووا نے کھیل کی مد میں صرف 19 لاکھ ڈالر کمائے ہیں لیکن اپنے سپانسروں کی مدد سے انھوں نے دو کروڑ ڈالر کی رقم کمائی ہے جس کا مقابلہ صرف سرینا ویلیمز کر سکی ہیں۔

اور کھیل میں واپسی کے بعد شراپووا کی توجہ آمدن کے اسی مرکزی ذریعے کو بحال کرنا ہو گا۔

سالفورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن چیڈوک کہتے ہیں کہ کھیل سے دور رہنے کے باوجود شراپووا نے اپنے سپانسروں سے تعلق جوڑ کے رکھا ہوا ہو گا لیکن مجھے یقین ہے کہ ان سپانسروں نے ان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں میں پابندی کے بعد جرمانہ عائد کرنے والی شق رکھی ہو گی۔'

ٹینس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشراپووا کے بڑے سپانسروں میں سے ایک پورشے بھی ہے

یاد رہے کہ مارچ 2016 میں شراپووا نے یہ تسلیم کیا تھا کہ سال کے پہلے گرینڈ سلیم ٹورنامنٹ میں انھوں نے ایک ممنوع دوا کا استعمال کیا تھا۔ اعتراف کے بعد ان پر دو سال کی پابندی لگی تھی لیکن اپیل کے بعد اس کا دورانیہ کم کر کے 15 ماہ کر دیا گیا تھا۔

لیکن امریکی گولفر ٹائیگر ووڈز کے غیر ازدواجی تعلقات کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے سپانسروں نے ان کا جس تیزی سے ساتھ چھوڑ تھا، ایسا شراپووا کے ساتھی نہیں ہوا۔

پروفیسر چیڈوک کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ 'سپانسروں نے شراپووا پر بہت رقم خرچ کی ہے۔ جب بھی وہ کھیل میں واپس آتی ہیں اور دوبارہ کامیابیاں سمیٹنا شروع کرتی ہیں، تو اگر کسی ایک کمپنی نے شراپووا سے معاہدہ ختم کر دیا تھا تو عین ممکن ہے کہ ان کا حریف معاہدہ کر لے۔'

شراپووا پر پابندی کے بعد سپانسروں کا رویہ ملا جلا تھا۔ 'ہیڈ' اور ایویان' نے فوراً ان کی حمایت کی جبکہ پورشے اور نائیکی نے معاہدوں میں کچھ توقف کیا لیکن بعد میں دوبارہ ساتھ آ گئے۔ ٹاگ ہوئر اور ایوون نے پابندی کے بعد معاہدے ختم کر دیے۔

یورپی سپانسرشپ ایسوسی ایشن کے چیئر مین کارن ارل نے کہا کہ اس پوری معاملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شراپووا بذات خود ایک برانڈ ہیں۔ میڈیا ان کو بہت اہمیت دیتا ہے اور ان کی واپسی کی خبر کا بہت چرچا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنی اہم ہیں اور خواتین ٹینس کو ان کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

کارن ارل نے مزید کہا کہ کیونکہ شراپووا نے الزام لگنے کے فوراً بعد اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی تو اس وجہ سے ان کی شہرت کو بہت زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

ٹینس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

'شراپووا نے فوراً اعتراف کر لیا کہ انھوں نے ایک غلط کام کیا ہے اور اپنی غلطی پر معافی مانگی اور کہا کہ ایسا دوبارہ نہیں ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ کیونکہ شائقین شراپووا کے خلاف نہیں ہوئے تھے اور ان کی ساکھ اتنی متاثر نہیں ہوئی تھی، شاید اس لیے بھی شراپووا کے سپانسروں نے ان کا ساتھ دیا۔'

ڈبلیو ٹی اے کے سربراہ سٹیو سائمن نے بھی کہا ہے کہ 'ٹینس کھیلنے والے اور ٹینس دیکھنے والے دونوں شراپووا کو واپس آنے کے بعد خوش آمدید کہیں گے۔'

کارن ارل نے کہا کہ شراپووا کے سپانسر صرف اس لیے ان کی حمایت نہیں کر رہے کیونکہ وہ ایک کامیاب ٹینس پلیئر ہیں۔ 'وہ ان کی حمایت اس لیے کر رہے ہیں کیونکہ وہ کھیل کے میدان سے باہر بھی بہت کامیاب ہیں۔ وہ ذہین ہیں اور ان کو کاروباری سوجھ بوجھ ہے۔ یہ قابل تعریف بات ہے کہ اتنے عرصہ کھیل سے باہر رہنے کے باوجود ابھی بھی خواتین میں وہ سب سے مشہور و معروف ٹینس پلیئر ہیں۔'