ماریہ شیراپووا کا واپس آنے کا عہد

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹینس کی سابقہ عالمی نمبر ایک کھلاڑی ماریا شیراپووا نے ممنوعہ ادویات کے ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے ٹینس کی دنیا میں واپس آئیں گی۔
خیال رہے کہ انھوں نے سات مارچ کو انکشاف کیا تھا کہ وہ ممنوعہ ادویات کی جانچ میں ناکام ہوگئی ہیں اور وہ میلڈونیم نامی دوا کا ایک عرصے سے استعمال کر رہی تھیں۔
انھوں نے اپنے ایک فیس بک پوسٹ میں ’توڑ مروڑ کر مبالغہ آمیز‘ رپورٹنگ پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے روزانہ دوا لینے سے انکار کیا ہے اور اس بات سے بھی انکار کیا ہے کہ انھوں نے اس دوا کے ممنوعہ ادویات میں شامل ہونے کی وارننگ کو پانچ بار نظر انداز کیا تھا۔
انھوں نے ٹینس کے حکام پر بھی تنقید کی ہے کہ انھوں نے ضروری معلومات کو اتنا دور رس بنا دیا ہے کہ اس کا ’آسانی سے پتہ چل پنا بہت مشکل ہے۔‘
شیراپووا کے کسی اہم مقابلے میں حصہ لینے پر آج یعنی 12 مارچ سے عارضی طور پر پابندی لگا دی گئی ہے جبکہ یہ پابندی چار سال تک کی ہو سکتی ہے۔
پانچ بار گرینڈ سلیم کی فاتح نے کہا کہ وہ گذشتہ دس برسوں سے یہ دوا بعض طبی وجوہات کے سبب لے رہی تھیں اور اس دوا کو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے یکم جنوری سے ممنوعہ ادویات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
انھوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انھوں نے صرف دل کے لیے اس دوا کی ’مجوزہ کم خوراک‘ لی ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
انھوں نے کہا ہے کہ میلڈونیم کے علاج کا معمول کا کورس صرف چار سے چھ ہفتے تک رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مزید کہا کہ ’اس دوا کو بنانے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ علاج کو کورس ڈاکٹر کے مشورے پر اور مریض کی صحت کے لحاظ سے سال میں دو تین بار دہرایا جا سکتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں نے بھی یہی کیا ہے اور میں نے اس دوا کا روزانہ استعمال نہیں کیا ہے۔‘
ہرچند کہ انھوں نے لاعلمی کے لیے کوئی ’عذر‘ پیش نہیں کیا تاہم جس طرح سے یہ معلومات کھلاڑیوں کو فراہم کی گئی اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے لکھا: ’اطلاعات کی ترسیل؟ یہ نیوز لیٹرز، ویب سائٹس یا ہینڈ آؤٹس میں دفن تھیں۔ اس کے متعلق انتباہ کے لیے آپ ایسے ای میل کو کھولیں جس میں اینٹی ڈوپنگ نام کا کوئی سبجکٹ نہیں ہے اور پھر آپ ایک ویب پیج پر جائيں، یوزرنیم اور پاس ورڈ ڈالیں پھر تلاش، کلک، تلاش کلک کرتے ہوئے نیچے جائیں اور پھر پڑھیں۔
’میرے خیال سے کچھ لوگ میڈیا میں اسے وارننگ کہتے ہیں لیکن میرے خیال سے زیادہ تر لوگ اس تک بمشکل ہی رسائی حاصل کر سکیں گے۔‘



