’مثبت ڈرگ ٹیسٹ کی ذمہ داری قبول کرتی ہوں‘

،تصویر کا ذریعہAP
پانچ مرتبہ گرینڈ سلیم مقابلے جیتنے والی ٹینس کی سابق عالمی نمبر ایک کھلاڑی ماریا شیراپووا نے انکشاف کیا ہے کہ آسٹریلین اوپن کے دوران ہونے والے ڈرگ ٹیسٹ میں انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
28 سالہ روسی نژاد کھلاڑی نے یہ بات پیر کو امریکی شہر لاس اینجلس میں ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ سنہ 2006 سے اپنی بیماری کی وجہ سے میلڈونیم نامی دوا کا استعمال کر رہی تھیں۔
شیراپووا نے کہا کہ ’میں اس ٹیسٹ میں ناکام رہی اور میں اس کی پوری ذمہ داری قبول کرتی ہوں۔‘
انھوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ دس برس سے اپنے فیملی ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مِلڈرونیٹ نامی دوا کا استعمال کر رہی ہیں جو میلڈونیم کا ایک اور نام ہے۔
ماریا شیراپووا امریکی ریاست فلوریڈا میں رہائش پذیر ہیں اور ان سے 26 جنوری کو سرینا ولیئمز سے آسٹریلین اوپن کے فائنل میں ان کی شکست کے بعد ڈوپ ٹیسٹ کے لیے نمونہ طلب کیا گیا تھا۔
ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے شیراپووا کی جانب سے بھجوائے جانے والے نمونے کا جائزہ لیا اور اسے مثبت نتیجے کے ساتھ لوٹایا۔ اس سلسلے میں مزید کارروائی 12 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
شیراپووا کا کہنا تھا کہ چند ہی روز قبل ’مجھے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس سے مجھے پتہ چلا کہ میلڈونیم اس دوا (ملڈرونیٹ) کا دوسرا نام ہے جو میں نہیں جانتی تھی۔‘

،تصویر کا ذریعہPA
انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ گذشتہ دس برس سے یہ دوا واڈا کی جانب سے ممنوعہ ادویات کی فہرست میں شامل نہیں تھی اور میں’ قانونی طور پر اس دوا کو پچھلے دس سال سے استعمال کر رہی ہوں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مگر یکم جنوری کو قوانین بدل گئے، اور میلڈونیم ممنوعہ اشیا میں شامل ہوگئی۔ مجھے اس بات کا پتہ نہیں تھا۔
’22 دسمبر کو واڈا کی جانب سے ممنوعہ فہرست میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی ای میل مجھے موصول ہوئی اور آپ ان ممنوعہ اشیا کو دیکھ سکتے ہیں، اور میں نے اس لنک کو کلک نہیں کیا تھا۔‘
امریکی جریدرے فوربز کی فہرست کے مطابق ماریا شیراپووا گذشتہ 11 سال سے سب سے زیادہ کمائی کرنے والی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔ صرف ٹینس کےذریعے انھوں نے اب تک دو کروڑ 60 لاکھ پاؤنڈ کمائے ہیں۔
انھوں نے سنہ 2005 میں عالمی نمبر ایک کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور وہ اس وقت عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں۔ تاہم گذشتہ جولائی کے بعد سے اب تک انھوں نے صرف چار ٹورنامنٹوں میں حصہ لیا ہے جس کی وجہ بازو میں چوٹ ہے۔

،تصویر کا ذریعہepa
29سالہ شیراپووا پر امید ہیں کہ وہ مستقبل میں ٹینس کھیل سکیں گی۔
انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ ان سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں اس غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا تاہم وہ پرامید ہیں کہ انھیں دوسرا موقع دیا جائے گا۔
اس سے قبل سے افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ شیراپووا اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر رہی ہیں تاہم پریس کانفرنس سے خطاب میں انھوں نے اس کی تردید کی۔
ادھر ویمن ٹینس ایسوسی ایشن کے صدر سٹیو سیمن کا کہنا ہے کہ انھیں ماریا شیراپووا کےٹیسٹ کی ناکامی پر بہت ملال ہے۔



