نائیکی کا شیراپووا سے معاہدہ معطل کرنے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہAP
روس سے تعلق رکھنے والی ٹینس کی کھلاڑی ماریا شیراپووا کی جانب سے اپنے مثبت ڈرگ ٹیسٹ کے انکشاف کے بعد کھیلوں کا سامان بنانے والی کمپنی نائیکی نے ان سے کیے گئے معاہدے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نائیکی نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقات کے نتائج کا انتظار نہیں کرنا چاہتی۔
کمپنی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں ماریا شیراپووا سے متعلق اس خبر پر افسوس اور حیرانی ہوئی ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک تحقیقات جاری ہیں ماریا سے اپنا تعلق معطل کر دیں۔‘
نائیکی اور شیراپووا کا تعلق اس وقت سے ہے جب وہ صرف 11 برس کی تھیں اور سنہ 2010 میں شیراپووا نے کمپنی کے ساتھ آٹھ برس کا معاہدہ کیا تھا جس کی مالیت سات کروڑ ڈالر تھی۔
نائیکی کے علاوہ گھڑیاں بنانے والی سوئس کمپنی ٹیگ ہوائر نے بھی شیراپووا سے اپنے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ وہ سنہ 2006 سے اپنی بیماری کی وجہ سے ملڈرونیٹ نامی دوا کا استعمال کر رہی تھیں اور نہیں جانتی تھیں کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے اب اسے ممنوعہ ادویات کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔
’چند ہی روز قبل مجھے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس سے مجھے پتہ چلا کہ میلڈونیم اس دوا کا (ملڈرونیٹ) دوسرا نام ہے جو کہ میں نہیں جانتی تھی۔‘
شیراپووا نے کہا تھا کہ ’میں اس ٹیسٹ میں ناکام رہی اور میں اس کی پوری ذمہ داری لیتی ہوں۔‘ تاہم ساتھ ہی ساتھ انھوں نے امید بھی ظاہر کی کہ انھیں دوسرا موقع ملے گا اور وہ مستقبل میں ٹینس کھیل سکیں گی۔
ورلڈ ڈوپنگ ایجنسی نے اس معاملے پر کارروائی 12 مارچ تک ملتوی کی ہے تاہم غالب امکان یہی ہے کہ شیراپووا کو پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

،تصویر کا ذریعہepa
انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ ماریا 12 مارچ سے اس معاملے کے انجام تک پہنچنے تک معطل رہیں گی۔
29 سالہ شیراپووا نے سنہ 2005 میں عالمی نمبر ایک کھلاڑی بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا اور اس وقت عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پر ہیں۔
تاہم گذشتہ جولائی کے بعد سے اب تک انھوں نے صرف چار ٹورنامنٹس میں حصہ لیا ہے جس کی وجہ بازو میں چوٹ ہے۔
وہ اپنے کریئر میں پانچ مرتبہ گرینڈ سلام مقابلے بھی جیت چکی ہیں۔
امریکی جریدرے فوربز کی فہرست کے مطابق ماریا شیراپووا گذشتہ 11 سال سے سب سے زیادہ کمائی کرنے والی خاتون ایتھلیٹ ہیں۔
وہ ٹینس کے علاوہ تشہیری معاہدوں اور اشتہارات کےذریعے اب تک کروڑوں ڈالر کما چکی ہیں۔



