عامر خان اور مینی پیکیو کے مابین مقابلے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مشہور زمانہ فلپائنی باکسر مینی پیکیو اور پاکستان نژاد برطانوی باکسر عامر خان تییس اپریل کو مدمقابل ہوں گے۔
عامر خان کچھ عرصے سے ویلٹر ویٹ عالمی چیمپئن مینی پیکیو کو مقابلے کے لیے للکار رہے تھے لیکن ماضی انھوں نے عامر خان سے مقابلہ کرنے سے انکار کیا تھا۔
فلپائن سے تعلق رکھنے والے مینی پیکیو نےاپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر اپنے مداحوں سے اپنے اگلے حریف کے بارے میں پوچھا تو اکثریت نے عامر خان کے حق میں ووٹ دیا۔
اٹھتیس سالہ مینی پیکیو نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ میرے مداح یہی چاہتے تھے۔ اٹھتیس سالہ مینی پیکیو نے اپنے کریئر میں 65 مقابلے کیے جن میں 59 میں کامیاب رہے جب چھ میں انھیں شکست ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب تیس سالہ پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے مینی پیکیو کے ساتھ مقابلے کی تصدیق کی۔ باکسنگ کا یہ مقابلہ کہاں ہوگا ابھی تک طے نہیں ہے۔ عامر خان نے عندیہ دیا ہے کہ یہ باکسنگ میچ متحدہ عرب امارات میں بھی ہو سکتا ہے۔ عامر خان نے ٹوئٹر پر مقابلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مقابلے کے مقام کے لیے برطانیہ، دبئی اور امریکہ زیر غور ہیں۔
عامر خان جنھوں نے 2004 اولمپکس میں سلور میڈل جیتنے کے لیے پروفیشنل باکسنگ میں قدم رکھا اپنے کریئر میں 35 مقابلے کیے جن میں31 میں وہ فاتح رہے اور چار میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا آخری مقابلہ 2016 میں میکسیکو کے کینولو ایلواریزسے ہوا جس میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
چھ مختلف ویٹ کیٹگری میں عالمی چیمپئن رہنے والے مینی پیکیو نےگذشتہ برس عالمی چیمپئن مے ویدر سے شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا تھا لیکن وہ کچھ عرصے بعد ریٹائرمنٹ ختم کر دی اور نومبر میں جیسی ورگاس سے مقابلہ کیا جس میں وہ فاتح رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عامر خان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے تیز فٹ ورک اور ہاتھ کی رفتار سے مینی پیکیو کو پریشان کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مینی پیکیو اور عامر خان ماضی میں ایک ہی ٹرینر فریڈی روش کے ہاں ٹریننگ کرتے رہے ہیں اور وہ دوران تربیت ایک دوسرے سے مقابلے بھی کرتے رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عامر خان نے مینی پیکیو کو ہرا دیا تو وہ کینولو ایلوایز سے تباہ کن شکست کے بعد اپنے کریئر کو پھر سے صحیح سمت میں لانے میں کامیاب ہو پائیں گے لیکن اگر وہ کامیاب نہ رہے تو ان کے کریئر کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔








