رمیز راجہ کا فلم سازی کی طرف رجحان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کمنٹری میں کامیاب کریئر کے ساتھ ساتھ اب فلم سازی کے بارے میں بھی سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔
رمیز راجہ نے گذشتہ سال انڈین فلم ʼڈیشومʽ میں ایک کمنٹیٹر کا کردار ادا کیا تھا اور اب بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ چند ماہ میں فلم سازی کے سلسلے میں اہم انکشاف کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں۔
’مجھے فلم میکنگ پسند ہے اور میں بہت سنجیدگی سے ایک فلم بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں اور آپ چھ سات ماہ میں اس سلسلے میں بہت کچھ سنیں گے لیکن فی الحال میں اس بارے میں تفصیل بتانا نہیں چاہتا۔‘
رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ انڈین فلم ’ڈیشوم‘ میں کام کرنے کا تجربہ انھیں اچھا لگا۔
’مجھ سے ایک کمپنی کے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا لیکن میں نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ کسی قیمت پر پاک انڈیا دشمنی والا کردار نہیں کریں گے، جس پر مجھے بتایا گیا کہ یہ ایک سیدھا سادہ کمنٹیٹر کا رول ہے جو میں نے ادا کیا۔‘
رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ عام زندگی میں وہ بڑی آسانی سے کرکٹ کمنٹری کر لیتے ہیں لیکن فلمی کمنٹیٹر کے رول میں انھیں ری ٹیک دینے پڑے۔
’مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ سب کچھ اتنا مشکل ہوگا۔ کیمرے کے زاویے اور ڈائیلاگ ڈلیوری یہ سب کچھ میرے لیے نیا تھا جس کی وجہ سے کئی ری ٹیک کرنے پڑے۔‘
ان سے پوچھا گیا کہ اگر مستقبل میں بھی اداکاری کا موقع ملا تو کریں گے تو انھوں نے اثبات میں جواب دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
’مجھے تخلیق کاری بہت پسند ہے اور اگر اس عمر میں مجھے مواقع ملتے ہیں تو میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں۔‘
رمیز راجہ پاکستانی فلموں کے ٹیلنٹ سے بہت متاثر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہاں معیاری فلموں کے بھرپور مواقع ہیں۔
’پاکستانی نوجوانوں میں بہت زیادہ تخلیقی صلاحیتیں ہیں۔ یہ نوجوان بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کریں تو معیاری فلمیں سامنے آسکتی ہیں، کیونکہ اس وقت ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے اور یہ بہترین موقع ہے کہ اس نئے ٹیلنٹ سے اس خلا کو پر کیا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا: ’ملک میں فائیو سٹار قسم کے تھیٹر بن چکے ہیں اس ماحول میں نئے ٹیلنٹ کا تخلیقی کام سامنے آنا بہت ضروری ہے۔‘








