فیکا کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے ، نجم سیٹھی

قدافی سٹیڈیم

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2015 میں زمبابوے کی ٹیم پاکستان کا دورہ کر چکی ہے
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن ( فیکا ) کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن نے غیر ملکی کرکٹرز سے کہا ہے کہ وہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لیے لاہور جانے سے گریز کریں کیونکہ وہاں سکیورٹی کے حالات اب بھی اچھے نہیں ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی نے بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ انہیں فیکا کی رپورٹ پڑھ کر حیرت اور افسوس ہوا ہے کیونکہ اس رپورٹ میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے اس کا حقیقت سے دور دور تک تعلق نہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اس رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ لاہور میں غیرملکیوں پر حملے ہورہے ہیں لگژری ہوٹلوں پر حملے ہورہے ہیں جبکہ ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے۔معلوم نہیں فیکانے یہ معلومات کہاں سے اکٹھی کی ہیں؟

نجم سیٹھی نے سوال کیا کہ اگر فیکا یہ دعوی کرتی ہے کہ اسے مبینہ طور پر سکیورٹی ماہرین نے یہ سب کچھ بتایا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ جاننا چاہے گا کہ وہ سکیورٹی ماہرین کون ہیں اور ان کے نام بتائے جائیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ ہزاروں میل دور بیٹھ کر فیکا کو معلوم ہی نہیں ہے کہ پاکستان خصوصاً لاہور میں اسوقت سکیورٹی کی صورتحال کیسی ہے۔

قدافی سٹیڈیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں کرکٹ شائقن بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے بے چینی سے منتظر ہیں

نجم سیٹھی نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لیے چند ہی غیرملکی کرکٹرز نے پاکستان آنا ہے اور ان کی بھی حفاظت کے لیے تین ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار موجود ہونگے ان کےلیے آرمڈ بسیں موجود ہونگی اور یہ صرف ایک دن کا معاملہ ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ فیکا دنیا بھر کے کرکٹرز کی نمائندہ تنظیم نہیں ہے اسے پاکستان اور بھارت سے یہی تکلیف ہے کہ وہ اسے اپنے یہاں دفتر کھول کر یونین سرگرمیوں کی اجازت نہیں دیتے لہذا وہ ان ملکوں کے بارےمیں منفی رویہ اختیار کیے رکھتی ہے۔

سابق پاکستان کھلاڑیوں کا رد عمل

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے بھی فیکا کی رپورٹ کو مایوس کن قرار دیا ہے جس میں اس نے بین الاقوامی کرکٹرز کو متنبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان سپر لیگ کا لاہور میں ہونے والا فائنل کھیلنے سے گریز کریں۔

رمیز راجہ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی کوششوں میں پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔

رمیز راجہ نے جو پاکستان سپر لیگ کے سفیر بھی ہیں، سوال کیا کہ کیا اس ایسوسی ایشن نے یہ رپورٹ مرتب کرنے سے قبل اپنے کسی نمائندے کو پاکستان بھیج کر حالات کا خود جائزہ لینے کی کوشش کی؟

رمیز راجہ نے کہا کہ ایسوسی ایشن نے اخبارات پڑھ کر، سنی سنائی باتیں سن کر اور ٹی وی پر کچھ سن کر ایک مخصوص قسم کی تصویر پیش کی ہے اور رائے قائم کی ہے جس سے ظاہرہے کہ ایک منفی تصویر سامنےآئے گی۔

رمیز راجہ نے کہا کہ اس طرح کی رپورٹ سے کرکٹرز تذبذب کا شکار ہوجاتے ہیں اور انہوں نے اگر ایک رائے قائم کرلی ہوتی ہے وہ بھی تبدیل ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بین الاقوامی کرکٹرز پاکستان سپر لیگ کا فائنل کھیلنے لاہور آگئے تو یہ ایک بہت بڑا قدم ہوگا اور اس سے آنے والے دنوں میں بہت مثبت فرق پڑے گا کیونکہ یہاں جو کرکٹرز آئیں گے وہ واپس جاکر دنیا کو پاکستان کے بارے میں مثبت بات بتائیں گے۔

قدافی سٹیڈیم لاہور

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنزمبابوے کی ٹیم کے دوران کے دوران پولیس کے علاوہ فوجی بھی سکیورٹی کی ذمہ داریوں پر تعینات تھے

رمیز راجہ نے کہا کہ ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ نے اعلان کررکھا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی ٹیم پاکستان بھیجے گی یہ ایک مثبت قدم ہے کیونکہ ویسٹ انڈیز اس تاثر کو توڑنا چاہتی ہے جو قائم ہوا ہے اور اگر پاکستان ویسٹ انڈیز کے علاوہ مزید چند ممالک کی حمایت حاصل کرکے اپنی بین الاقوامی کرکٹ یہاں شروع کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا بھی موثر فرق پڑے گا حالانکہ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی مکمل بحالی کے لیے آئی سی سی میں ایک بھرپور کوشش کی اشد ضرورت ہے اور اس کے بغیر یہ بحالی مشکل ہے لیکن پاکستان سپر لیگ فائنل اور پھر ویسٹ انڈیز کے خلاف محدود اوورز کی سیریز کے انعقاد سے آئی سی سی بھی قائل ہوسکتی ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ مغربی بلاک پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی کوششوں میں پہل نہیں کرے گا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایشیائی ممالک خصوصاً سری لنکا کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ بنگلہ دیش پاکستان کا اس لیے ساتھ نہیں دے گا کیونکہ اس کی وابستگی بھارت کے ساتھ ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ فیکا نے یہ رپورٹ کن ذرائع سے ملنے والی معلومات پر مرتب کی ہے کیونکہ فیکا کوئی سکیورٹی ایجنسی نہیں ہے۔

عاقب جاوید نے کہا کہ عام طور پر غیرملکی ٹیمیں اپنے دفتر خارجہ اور سفارتخانے سے سکیورٹی کی معلومات حاصل کرتی ہیں اور ان ہی کی کلیئرنس کے بعد وہ دورہ کرتی ہیں۔

عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ پرائیوٹ ایونٹ ہے اور اگر کوئی بھی غیرملکی کرکٹر اپنی خوشی سے پاکستان آنا چاہتا ہے تو اسے فیکا نہیں روک سکتی۔

عاقب جاوید نے کہا کہ ویسٹ انڈیز کا پاکستان آنا بھی خوش آئند بات ہوگی کیونکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کسی نہ کسی ٹیم کو یہاں لاکر ابتدا کرنی ہے۔