کرکٹ میں تشدد اور دھمکیوں کی کوئی جگہ نہیں: رمیز راجہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ مارپیٹ اور امپائرز کو دھمکیاں دینے والے کھلاڑیوں کو میدان سے باہر بھیجے جانے کے قانون سے اس طرح کے منفی واقعات میں کمی آئے گی جبکہ کھلاڑی اور امپائرز خود کو زیادہ محفوظ تصور کریں گے۔
واضح رہے کہ ایم سی سی کی ورلڈ کرکٹ کمیٹی نے اپنے حالیہ اجلاس میں جسمانی تشدد اور امپائرز کو دی جانے والی دھمکیوں کے مسلسل واقعات کے مشاہدے کے بعد سفارش منظوری کے لیے بھیجی ہے کہ امپائرز کو اس طرح کی حرکت کرنے والے کسی بھی کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیجنے کا اختیار دیا جائے۔اگر آئی سی سی نے اس کی منظوری دے دی تو اس قانون کو آئندہ سال اکتوبر سے نافذ کر دیا جائے گا۔
رمیز راجہ نے جو ایم سی سی کی ورلڈ کرکٹ کمیٹی کے رکن ہیں دبئی سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ کلب اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایسے بے شمار واقعات سامنے آئے ہیں جن میں کھلاڑی تشدد میں ملوث ہوئے ہیں اور انہوں نے امپائرز بھی دھمکیاں دی ہیں۔
'لہٰذا ایم سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے اس کے سدباب کے لیے ضروری سمجھا ہے کہ امپائرز کو طاقتور بنایاجائے اور ان کے پاس یہ اختیار ہو کہ اگر کوئی بھی کھلاڑی جسمانی حملے مارپیٹ یا ڈسپلن کی خلاف ورزی کے سنگین واقعے میں ملوث پایا جاتاہے تو اسے وہ فوری طور پر میدان سے باہر بھیج دیں اور وہ کھلاڑی اس میچ میں مزید حصہ لینے کا اہل نہیں ہوگا۔'
رمیز راجہ نے کہا کہ کمیٹی کے سامنے ایسی کئی مثالیں پیش کی گئی ہیں کہ نئے امپائرز امپائرنگ کے لیے تیار نہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی کوئی عزت نہیں ہے۔یہ بہت ہی خطرناک صورتحال ہے جس کا تدارک ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایم سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے بیٹ کی موٹائی کی حد 40 ملی میٹر مقرر کرنے کی بھی سفارش کی ہے ۔
رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد بیٹ اور گیند میں توازن پیدا کرنا ہے کیونکہ اس وقت انٹرنیشنل میں چند بیٹسمین ایسے بھی ہیں جو 50 ملی میٹر کی موٹائی والے بیٹ استعمال کر کے غیرضروری طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ اکثر بلے کے کنارے سے گیند لگ کر باؤنڈری کے باہر چلی جاتی ہے اور یہ بولرز کے ساتھ ناانصافی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ وہ باؤنسر کے قانون میں بھی تبدیلی کے حق میں ہیں کہ باؤنسرز کی تعداد کی حد نہیں ہونی چاہیے اور یہ امپائر پر منحصر ہو کہ اگر وہ یہ دیکھے کہ بولر کا ضرورت سے زیادہ باؤنسر کرنا منفی حکمت عملی کا حصہ ہے تو وہ اسے نوبال یا وائیڈ قرار دے۔
رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ آج کل زیادہ تر قوانین بیٹسمینوں کے حق میں ہیں۔







