کرائسٹ چرچ میں شکست کے سائے منڈلانے لگے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی بیٹسمین دو دن میں دوسری مرتبہ انتہائی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کر کے اپنی ٹیم کو پہلے ٹیسٹ میں شکست کے قریب لے آئے ہیں۔
کرائسٹ چرچ ٹیسٹ کے تیسرے دن کھیل کے اختتام پر پاکستان نے صرف 129 رنز بنائے تھے اور اس کی سات وکٹیں گر چکی تھیں۔
اس طرح پاکستان کی مجموعی برتری صرف 62 رنز کی ہے اور اس کی صرف تین وکٹیں باقی ہیں۔
پاکستان کی آخری امید اسد شفیق سے وابستہ ہیں جو چھ رنز پر کریز پر ہیں ان کے ساتھ سہیل خان22 رنز پر ناٹ آؤٹ ہیں۔
پاکستانی بولروں نے تیسرے دن نیوزی لینڈ کو اپنی عمدہ بولنگ سے 200 رنز پر آؤٹ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نیوزی لینڈ کی ٹیم جس نے دوسرے دن تین وکٹوں پر104 رنز بنائے تھے سکور میں صرف 96 رنز کا اضافہ کر سکی۔
اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے جیت روال جنھوں نے گذشتہ روز اپنی نصف سنچری مکمل کر لی تھی، آج سکور میں کسی رن کا اضافہ کیے بغیر آؤٹ ہو گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لوئر آرڈر بیٹسمینوں کی قطرہ قطرہ حصہ داری نے سکور کو پاکستان سے آگے پہنچادیا۔
راحت علی جنھیں اس ٹیسٹ میں وہاب ریاض پر فوقیت دی گئی، چار وکٹیں حاصل کر کے سب سے کامیاب بولر رہے۔ سہیل خان اور محمد عامر تین تین وکٹوں کی مساوی تقسیم پر دوسرے کامیاب بولر ثابت ہوئے۔
رنز کے خسارے کے بعد پاکستانی ٹیم کو اپنے بیٹسمینوں سے جس ذمہ داری کی توقع دوسری اننگز میں تھی وہ پوری نہ ہوسکی اور پہلی اننگز کی طرح اس بار بھی بیٹسمینوں نے غلط شاٹس کھیل کر اپنی وکٹیں گنوائیں۔
پہلا دھچکہ کولن گرانڈوم نے ہی پہنچایا جنھوں نے سمیع اسلم کو وکٹ کیپر واٹلنگ کی مدد سے پویلین کی راہ دکھائی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بابراعظم اور یونس خان کی اوپر تلے گرنے والی وکٹوں نے پاکستانی ٹیم کے لیے مصیبت کھڑی کر دی۔ یہ دونوں بھی وکٹ کیپر واٹلنگ کو کیچ دے گئے لیکن اس بار بولر ویگنر تھے۔
ویگنر نے بابراعظم کو آؤٹ کرکے 26ویں ٹیسٹ میں اپنی سو وکٹیں بھی مکمل کر لیں۔
کپتان مصباح الحق اور اظہرعلی کی وکٹوں نے نیوزی لینڈ کی خوشی دوبالا کر دی اور اسے جیت سامنے نظر آنے لگ گئی۔
سرفراز احمد جو مشکل صورت حال میں وکٹ پر کھڑے ہو کر فائٹ کرنے کے لیے مشہور ہیں دونوں اننگز میں ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
اسد شفیق جو اپنی پرانی چھٹی پوزیشن پر واپس آئے ہیں، کھیل کے اختتام پر سہیل خان کے ساتھ شکست کو پرے دھکیلنے کی آس لیے کریز پر موجود ہیں لیکن اس آس کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے انھیں اپنے کریئر کی سب سے بڑی اننگز کھیلنی ہو گی۔
پاکستانی بیٹسمینوں نے پہلی اننگز کی خراب کارکردگی کے بعد دوسری اننگز میں خود پر جو دباؤ قائم کر لیا اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے انتہائی سست روی سے بیٹنگ کرتے ہوئے پہلے 50 اووروں میں صرف 80 رنز اسکور کیے جو 15 سال میں اس کا کسی اننگز کے پہلے 50 اووروں میں بنایا گیا سب سے کم سکور ہے۔







