BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 June, 2008, 18:35 GMT 23:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویب ناموں پر نظرثانی منظور
پیرس اجلاس
پیرس میں اکانن کے اجلاس کے دوران طریقۂ کار پر نظرِ ثانی کی منظوری دی گئی
پیرس میں انٹرنیٹ پر ویب سائٹوں کے ناموں اور پتوں کے موجودہ طریقۂ کار کے بارے میں ہونے والے اجلاس نے انٹریٹ پر مجموعی نظرِ ثانی کی منظوری دیدی ہے، منظور کیے جانے والے نئے طریقوں سے اس طریقۂ کار میں بھی مکمل تبدیلی آ جائے گی جو اب کسی ویب تک رسائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نیٹ کے نظام کی دیکھ بھال کرنے والا ادارہ انٹرنیٹ کوآپریشن فار اسائنڈ نیمز اینڈ نمبرز، اکانن نے ’ٹاپ لیول‘ ڈومین ناموں مثلاً ڈاٹ کام یا ڈاٹ یو کے، کے بارے میں کڑے قوانین کی تبدیلی کا فیصلہ اتفاقِ رائے سے کیا ہے۔

اس فیصلے کا ایک مطلب یہ بھی ہو گا کہ مختلف ادارے اب اپنے برانڈز کے ناموں سے بھی ویب کے پتے یا نام حاصل کر سکیں گے۔

منظور کی جانے والی ایک اور تجویز کے مطابق ڈومین نام سکرپٹ کے لیے استعمال کی جانے والی زبان مثلاً ایشن یا عربک کی بنیاد پر بھی حاصل کیے جا سکیں گے۔

اکانن کے ایک رکن رابرٹو گائتانو کا کہنا ہے ’ہم ایک نئی دنیا کا آغاز کر رہے ہیں، میرے خیال میں اسے کم اہم تصور نہیں کیا جانا چاہیے‘۔

اکانن گزشتہ چھ سال سے نیٹ ایڈرسوں کے ناموں کے طریقۂ کار کو نرم بنانے پر کام کر رہی ہے۔

اس وقت سرِ فہرست ڈومین انفرادی طور پر ملکوں کے لیے مخصوص ہیں جیسے کہ: ڈاٹ یو کے یعنی یونائٹڈ کنگڈم یا ڈاٹ آئی ٹی یعنی اٹلی وغیرہ یا کامرس یعنی ڈاٹ کام، یا پھر عالمی ادارے جیسے جو ڈاٹ نیٹ یا ڈاٹ او آر جی کا استعمال کرتے ہیں۔

پتے یا نام اس زبان کی بنیاد پر بھی حاصل کیے جا سکیں گے جو سکرپٹ کی ہو گی

موجودہ طریقۂ کار کی سختی سے بچنے کے لیے بعض ادارے اپنے اپنے طریقے بھی استعمال کرتے ہیں۔

نئے منصوبے کے مطابق حروف کے کسی ایک سلسلے سے ہزاروں نام وابستہ ہو سکیں گے۔

اس طریقے سے لوگ ڈومین اپنے انفرادی ناموں سے بھی حاصل کر سکیں گے جب کہ ان ناموں سے ڈومین لیے جا سکیں جن کے جملہ حقوق نام حاصل کرنے والے کے نام پر محفوظ ہونگے۔

خدشہ ہے کہ اس طرح بعض ناموں کو حاصل کرنے کے لیے مقابلہ بھی ہو اور نیلامی ےکا مرحلہ آ جائے۔

توقع ہے کہ نیا نظام آئندہ سال سے شروع ہو جائے گا۔

اکانن کے ایک اور رکن پیٹر ڈینگیٹ کا کہنا ہے کہ طریقۂ کار میں نرمی کا یہ فیلہ ’تاریخی اہمیت‘ کا حامل ہے۔

فائل فوٹونگرانی سے انکار
برطانوی نیٹ کمپنیوں کا نگرانی سے انکار
انٹرنیٹ میں خلل
مکمل بحالی میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے:ماہرین
بِل گیٹسعلم کے فائدے
بِل گیٹس کی خصوصی تحریر
انٹرنیٹیورپ میں انٹرنیٹ
ایک سو بائیس ملین یورپی روزانہ آن لائن
سرچ انجن یا بھیدی
سرچ انجن ہمارے بارے میں کیا کچھ جانتا ہے؟
 گوگلڈیجیٹل لائبریریاں
گوگل لائبریروں کو ڈیجیٹل بنائے گا
نیٹانٹر نیٹ اور بچے
انٹر نیٹ کے مضر اثرات سے والدین آگاہ نہیں ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد