BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 April, 2008, 09:10 GMT 14:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تابکاری سے بچاؤ کی دوا تیار
ریڈیائی علاج
اس دوا سے کینسر کے مریضوں کے لیے ریڈیائی علاج محفوظ ہو جائے گا
امریکی سائنسدانوں نے تابکاری یا جوہری مواد سے خارج ہونےوالی شعاؤں سے جسم کو پہنچنے والے نقصان کے بچاؤ کی دوا تیار کرلی ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس دوا سے کینسر کے مریضوں کے لیے ریڈیائی علاج محفوظ ہو جائے گا اور اس کو جوہری حملے کی صورت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سی بی ایل بی 502 نامی دوا کو ابھی تک تجرباتی بنیادوں پر جانوروں پر استعمال کیا گیا ہے۔ اس دوا کے استعمال سے حیاتیاتی نظام حرکت میں آتا ہے اور تابکاری سے بچنے کے لیے صحتمند خلیوں کی مدد کرتا ہے۔

اس دوا کے فوائد سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہیں تاہم اس دوا کو انسان پر استعمال نہیں کیا گیا۔

تابکاری خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور ان خلیوں کو مردہ کر دیتی ہے۔ صحتمند خلیے رسولی کے خلیوں کے ہمراہ مر سکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ شعاع ریزی کو جتنا ممکن ہو سکے احتیاط سے رسولی کے خلیوں کو ہدف بنایا جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے یہ دوا کینسر کے مزاحمت کار خلیوں کی صفت کو دیکھتے ہوئے تیار کی ہے۔

اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ دوا دیے گئے چوہے اور بندر ریڈیائی علاج میں بچ سکتے ہیں یا پھر زیادہ عرصہ زندہ رہتے ہیں بنسبت ان کے جن کو یہ دوا نہ دی گئی ہو۔

ایک خدشہ یہ ہے کہ خلیے کو مرنے سے بچانے سے امکانات ہیں کہ ان میں کینسر پھیل جائے۔ تاہم سائینسدانوں کو لیبارٹری میں کیے گئے تجربات میں اس بات کی کوئی علامت نہیں ملی۔ اور اس کے علاوہ کوئی مضر اثرات بھی ریکارڈ نہیں کیے گئے۔

صحتمند خلیوں کو شعاع ریزی سے محفوظ رکھنے سے کینسر کے مریض زیادہ اور لمبے دورانیے کا ریڈیائی علاج کرا سکتے ہیں۔

یہ دوا نیوکلائی حادثے جیسا کہ چرنوبل اور دہشت گردوں کے ڈرٹی بم حملے میں بھی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔

لرنر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر اینڈری گڈکوو کا کہنا ہے ’ہم نے ثابت کیا ہے کہ ریڈیائی علاج سے قبل اور بعد میں اس دوا کا استعمال مؤثر ہے۔‘

برطانوی کینسر ریسرچ کی ترجمان ڈاکٹر جوآنا اوونز نے کہا ’یہ نہایت دلچسپ نتائج ہیں اور ہم اس دوا کو انسانوں پر استعمال کرنے کے نتائج کا انتظار کریں گے۔‘

اسی بارے میں
چرنوبل: ’ایک لاکھ ہلاکتیں‘
18 April, 2006 | نیٹ سائنس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد