جنین کی کلوننگ کا ارادہ ترک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈولی نامی پہلی کلون شدہ بھیڑ کی خالق سائنسدانوں کی ٹیم کے سربراہ نے’سٹم سیل ریسرچ‘ کے لیے انسانی جنین کی کلوننگ کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ ایڈنبرا یونیورسٹی کے پروفیسر این ولمٹ کا ماننا ہے کہ جنین(ایمبریوز) کی کلوننگ کی جگہ جاپان میں دریافت کیا جانے والا ایک اور طریقہ تشویش ناک بیماریوں کے علاج میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس نئے طریقے کے تحت ’سٹم سیل‘ انسانی جلد کے ٹکڑوں کی مدد سے بنائے جا سکتے ہیں اور اس کے لیے انسانی ایمبریوز کے استعمال کی ضرورت نہیں۔ انسانی ایمبریوز کی کلوننگ کے مخالف گروہوں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم پروفیسر این ولمٹ کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ فیصلہ اخلاقی بنیادوں پر نہیں کیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ میرے لیے یہ ہمیشہ سے اخلاقی طور پر قابلِ قبول تھا کہ انسانی ایمبریوز کے خلیوں کو موٹر نیورون جیسی ان بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جن کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہو سکا اور ان حالات میں یہ ایک قابلِ قبول کام ہے‘۔ ایمبریونک اور ’سٹم سیل‘ جسم میں پائے جانے والے سب سے لچکدار خلیے مانے جاتے ہیں اور انہیں جسم کی نشوونما کرنے والے خلیے کہا جاتا ہے۔ اب پروفیسر ولمٹ کا ماننا ہے کہ جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کے پروفیسر شنیا نماناکا کی تکنیک اس حوالے سے قابلِ عمل ہے۔ اس نئی تکنیک کے تحت بالغ خلیوں کو جینیاتی طور پر بہتر بنایا جاتا ہے جس کے بعد وہ ’سٹم سیل‘ جتنی لچکدار خصوصیات کے حامل بن جاتے ہیں۔ پروفیسر ولمٹ کا کہنا ہے کہ آنے والے پانچ سالوں میں اس نئی تکنیک کی مدد سے ایسا بہتر اور قابلِ قبول طریقہ نکالا جا سکتا ہے جو طبی تحقیق کے لیے انسانی ایمبریوز کی کلوننگ کا متبادل ثابت ہو سکے۔ | اسی بارے میں ’انسانی جین بنانے کا جھوٹا دعویٰ‘24 December, 2005 | نیٹ سائنس ’اپنی طرح کے پہلے بلونگڑے‘23 August, 2005 | نیٹ سائنس سٹم سیلز کی تحقیق کا معرکہ20 May, 2005 | نیٹ سائنس کلون شدہ گائے کا گوشت محفوظ ہے12 April, 2005 | نیٹ سائنس پچاس ہزار ڈالر کا کلون شدہ بلونگڑا23 December, 2004 | نیٹ سائنس کلوننگ پر تحقیق کی اجازت11 August, 2004 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||