بکٹیریا، زندگی کی مدت پر اثرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تحقیق میں اس سوچ کو کہ بکٹیریا جلد موت واقع ہونے کا باعث بنتا ہے چیلنج کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ بکٹیریا سے پاک دنیا میں رہنے سے زندگی کی مدت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ سوچا جاتا رہا ہے کہ غیر نقصان دہ بکٹیریا بھی جب مدافعتی نظام کو حرکت میں لاتا ہے تو اس سے جسم میں موجود قوت کا استعمال ہوتا ہے جو عمر میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس سوچ کو ایک تحقیق کے ذریعے غلط ثابت کیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں بعض مکھیوں کو بکٹیریا سے پاک ماحول میں رکھا گیا اور کچھ کو اس عام ماحول میں جس میں انسان رہتے ہیں لیکن بکٹیریا سے پاک ماحول میں رہنے والی مکھیوں کی زندگی عام ماحول میں رہنے والی مکھیوں سے زیادہ نہ تھی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ تجربہ ان بڑی مخلوقات پر نہیں کیا جا سکتا جن کو نظام ہضم کے لیے یا دوسرے نظاموں کے لیے بکٹیریا کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مکھیوں پر کیا گیا یہ تجربہ انسانی عمر میں اضافے سے متعلق تحقیق میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ مکھیوں اور انسانوں میں رہنے والے بکٹیریا کی تعداد عمر کے ساتھ بڑھتی ہے۔ مکھیوں اور انسانوں میں پیدائشی طور پر مدافعتی نظام کا بکٹیریا کی جانب ردعمل ایک جیسا ہوتا ہے اور یہ مدافعتی نظام دونوں میں عمر کے بڑھنے کے ساتھ کمزور پڑ جاتا ہے۔ لیکن تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ وجوہات شاید عمر کے بڑھنے کا باعث نہ ہوں۔ تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سٹیون فنکل کا کہنا ہے کہ ’میرے خیال میں بہت سے لوگ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ بکٹیریا کی تعداد میں اضافہ ایک برا عمل ہے‘۔ ’شاید یہ عمل برا نہیں ہے لیکن شاید ہے بھی۔ اس تحقیق سے قبل میں ایسا نہیں سوچ سکتا تھا‘۔ ان کے ساتھی ڈاکٹر جان ٹاور کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک حیرت انگیز بات ہے۔ مکھیاں بہت زیادہ بکٹیریا اپنے اندر اکٹھا کر رہی تھیں جس کے نتیجے میں ان کا مدافعتی نظام بھی تیزی سے کام کر رہا تھا لیکن یہ مکھیوں کی عمر پر اثر انداز نہیں ہو رہا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’سوال یہ ہے کہ اگر بکٹیریا زندگی کی مدت کو محدود نہیں کرتا تو پھر وہ کیا چیز ہے؟‘ سائنسدانوں نے تین قسم کی مکھیوں کا آپس میں موازنہ کیا۔ پہلی قسم میں عام پھلوں کی مکھیاں شامل تھیں۔ مکھیوں کی دوسری قسم ایسی تھی جن کے انڈوں کو بکٹیریا کش کیمیکل سے دھویا گیا تھا، جنہیں بکٹیریا سے پاک ماحول میں بڑا کیا گیا اور تمام زندگی بکٹیریا سے پاک خوراک دی گئی تھی۔ تیسری قسم کی مکھیوں کو بکٹیریا والے ماحول میں بڑا کیا گیا اور جب وہ بڑی ہوئیں تو انہیں بکٹیریا سے پاک کر دیا گیا۔ ان تمام اقسام کی مکھیوں کی زندگی کے مختلف مراحل کے دوران لیے گئے نمونوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بکٹیریا سے پاک ماحول میں پروان چڑھنے والی مکھیاں بکٹیریا سے پاک رہیں جبکہ عام حالات میں رہنے والی مکھیوں میں عمر کے ساتھ بکٹیریا کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا رہا۔ لیکن تینوں اقسام کی مکھیاں زیادہ سے زیادہ صرف تین ماہ تک زندہ رہیں۔ ’ہیلپ دی ایجڈ بائیومیڈیکل ریسرچ انٹو ایجنگ پروگرام‘ کی لورنا لیوارڈ کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق دلچسپ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’انسان انفیکشن سے پاک دنیا میں نہیں رہتے اور روز مرہ زندگی میں ہم پر بکٹیریا کی بوچھاڑ ہوتی ہے۔‘ ’ہمارا مدافعتی نظام عمر کے ساتھ کمزور پڑ جاتا ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم تحقیق کے ذریعے انفیکشن سے لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنائیں‘۔ |
اسی بارے میں تتلیوں کے لیے شاہراہ بند24 March, 2007 | نیٹ سائنس سائٹیز: ہاتھیوں کا تحفظ سرفہرست04 June, 2007 | نیٹ سائنس جنگلی حیات کی بقاء، وسائل کی کمی16 June, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||