تتلیوں کے لیے شاہراہ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تائیوان میں ایک مرکزی شاہراہ کی ایک لین اس وجہ سے بند کی جا رہی ہے تاکہ دس لاکھ سے زائد تتلیاں جو اس راستے کو اپنی معمول کی موسمی نقل مکانی کے لیے استعمال کرتی ہیں، محفوظ رہ سکیں۔ ’پرپل مِلک ویڈ‘ تتلی سردیاں جزیرے کے جنوب میں گزارتی ہیں اور بہار کی آمد پر شمال کی طرف نقل مکانی کرتی ہیں۔ ہر گھنٹے ساڑھے گیارہ ہزار تتلیاں اپنا یہ سفر شروع کرتی ہیں۔ مگر ماہرین کا کہنا ہےکہ ان میں سے کئی تتلیاں سفر پورا نہیں کر پاتیں۔ اس سال ان کی مدد کے لیے حفاظتی جالیاں اور الٹرا وائیلیٹ روشنی کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔ تائیوان میں حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہ کو بند کرنے سے ٹریفک کو پریشانی ضرور ہوگی مگر ایسا کرنا ضروری ہے۔
قومی شاہراہ بیورو کے لی تھے منگ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’انسانوں کو دوسری مخلوقات کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا، چاہے وہ ننھی تتلیاں ہی کیوں نہ ہو۔‘ ہر سال ہزاروں تتلیاں تیز رفتار گاڑیوں کی زد میں آکر ہلاک ہو جاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان تمام حفاظتی اقدامات پر تیس ہزار ڈالر لاگت آئی ہے۔ | اسی بارے میں تاریخ میں انسان کہاں کہاں سےگزرا13 April, 2005 | نیٹ سائنس جاپان: بڑے پانڈے کے ہاں جڑواں بچے25 December, 2006 | نیٹ سائنس نیپال میں گینڈے غائب ہو رہے ہیں03 January, 2007 | نیٹ سائنس ٹونا کے ’ناپید ہونے‘ کا خدشہ22 January, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||