مریخ پر طوفان، روبوٹس کو خطرہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ مریخ کی سطح پر اٹھنے والے گرد اور غبار کے شدید طوفان نے اس کے دو روبوٹس روورز کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ گرد کے اس طوفان کی وجہ سے ان ربوٹس تک شمسی توانائی نہیں پہنچ پا رہی ہے جو کہ ان بیٹریوں کو چارج کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ چھ پہیوں والے یہ روبوٹس ’اپچونٹی اور سپرٹ‘ جو کہ شمسی توانائی سے چلتے ہیں مریخ کے خطے استواء سے جنوب کی جانب دو مختلف جگہوں پر موجود ہیں۔ مریخ پر اٹھنے والے گرد کے طوفانوں نے ان دونوں روبوٹس کو گزشتہ ایک ماہ سے اپنی پپیٹ میں لیا ہوا ہے اور یہ صورت حال آنے والے ہفتوں تک نہیں تو کئی دنوں تو برقرار رہ سکتی ہے۔ اگر شمسی توانائی میں ان طوفانوں کی وجہ سے آنے والے دونوں میں مزید کمی واقع ہوتی ہے تو یہ دونوں روبوٹس شمسی توانائی سے بجلی حاصل نہیں کر سکیں گے۔ایسی صورت میں ان کے لیے کام کرتے رہنا ناممکن ہو جائے گا۔ ان روبوٹس کو بچانے کے لیے ماہرین ان کے کاموں کو محدود کر رہے تک ان کی توانائی کو بچایا جا سکے۔ ناسا کے ایک اہلکار ایلن سٹرن نےکہا کہ روبوٹس کو طوفان سے دور لے جانے کی کوشش ہو رہی ہے لیکن یہ روبوٹس اتنے شدید حالات کے لیے نہیں بنائے گئے تھے۔ گرد کے یہ طوفان اس علاقے میں زیادہ شدید ہیں جس میں روبوٹ اپرچونٹی موجود ہے۔ اس جگہ فضا میں اس قدر گرد و غبار پایا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے نوے فیصد سورج کی روشنی رک گئی ہے۔ ایک ماہ قبل گرد کا یہ طوفان اٹھنے سے پہلے اپرچونٹی شمسی توانائی سے سات سو واٹ فی گھنٹہ کے حساب سے بجلی پیدا کر رہا تھا جو کہ سو واٹ کے بلب کو سات گھنٹے تک روشن رکھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ جولائی کے سترہ تاریخ کو اپرچونٹی کے شمسی توانائی کے سیل صرف ایک سو اڑتالیس واٹ فی گھنٹہ کے حساب سے بجلی پیدا کر رہے تھے۔ بدھ کو اس میں مزید کمی واقع ہو گئی اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت صرف ایک سو اٹھائیس واٹ فی گھنٹہ رہ گئی۔ روور کے پراجیکٹ مینیجر جان کالس کے مطابق روور اگر اتنی توانائی پیدا نہیں کرتا تو اس کی حساس الیکٹرانک آلات کا درجہ حرارت اس حد تک گر جائے گا کہ ان میں کوئی بھی چیز چٹخ سکتی ہے۔
روور کے اندر خصوصی ہیٹر ان کے آلات کو حدت پہنچاتےرہتے ہیں اور یہ گرم رہتے ہیں۔ ناسا کے ماہرین کو اس بات کی تشویش ہے کہ اگر ان تک شمسی توانائی نہ پہنچی تو ان کی بیٹریاں بالکل ختم ہو جائیں گی۔ تاہم اس حالت تک پہنچنے میں ابھی کئی ہفتے ہیں۔ کالس کا کہنا تھا کہ مریخ پر گرمیاں شروع ہونے سے اس بات کا خدشہ کم ہے کہ درجہ حرارت اس حد تک گر جائے جس وجہ سے روبوٹس کے آلات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔ اپرچونٹی مریخ کی سطح پر وکٹورین کریٹر میں اترنے والی تھی تاکہ مریخ کی ارضیاتی تاریخ کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جا سکیں۔ سن دو ہزار چار میں مریخ کی سطح پر اترنے کے بعد سے ان دونوں روبوٹس کے ذریعے سرخ سیارے کے جغرافیائی حالات کے بارے میں بہت اہم معلومات اکھٹی کی گئی ہیں۔ ان روبوٹس کے ذریعے بھی یہ علم ہو سکا ہے کہ مریخ کی سطح پر پانی بھی موجود رہا ہے۔ |
اسی بارے میں خلاء میں چہل قدمی کی تیاریاں11 June, 2007 | نیٹ سائنس خلاء بازوں کی پہلی چہل قدمی مکمل 12 June, 2007 | نیٹ سائنس ایٹلانٹس کی زمین پر واپسی ملتوی22 June, 2007 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||