نئےحساس فون کی نمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ڈنڈی میں ایک ایسے آلے کی نمائش کی جا رہی ہے جسے موبائل فون کی ایک نئی ترقی یافتہ شکل قرار دیا جا رہا ہے۔ ’اویئر‘ نامی یہ آلہ کالج آف آرٹ سائنس اینڈ انجینیئرنگ کے پراڈکٹ ڈیزائن کورس کے طلبا و طالبات نے تیار کیا ہے۔ اس آلے کی مدد سے آپ کے دوست کے آس پاس ہونے کی صورت میں موبائل فون بدن میں جُھرجُھری سی پیدا کر دیتاہے۔ سارا مِک مائیکل جو’ اویئر‘ یا آگہی دینے والے آلے کی ڈیزائنر ہیں، کا کہنا ہے کہ ’ہمارامقصد لوگوں کو ان غیر سماجی موبائل فونز سے نجات دلانا ہے جس نے آج کل دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے تاکہ لوگ ایک نئی سطح پرایک دوسرے سے رابطہ رکھ سکیں‘۔ گراہم پولن، جن کا تعلق اس موبائل فون کے بانیوں میں سے ہے، کا کہنا ہے کہ ’ہمارا بنیادی مقصد لوگوں کو اپنے مفاد کی خاطر نئی اختراعات کے لیے مجبور کرنے کی بجائےاپنے کسٹمرز کو زیادہ مؤثر رابطے فراہم کرنا ہے‘۔ یہ نمائش یونیورسٹی آف ڈنڈی کی کوئین مدر بلڈنگ کے یوزر سنٹر میں جاری ہے۔ |
اسی بارے میں ایورسٹ کی چوٹی سے کال آئے گی 12 May, 2007 | نیٹ سائنس موبائل فون کے بدلتے رنگ23 December, 2006 | نیٹ سائنس موبائل فون: ذہنی دباؤ کا سبب14 September, 2006 | نیٹ سائنس دوسروں کا بیلنس چرانے والی سِم28 June, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||